خطرناک پہاڑیوں پر حفاظتی دیوار تعمیر کرنے کا پروجیکٹ فنڈکی کمی سے متاثر

Updated: May 16, 2022, 10:52 AM IST | Sameer Survey | Mumbai

ممبئی مضافات کے کلکٹر کے مطابق اس کام کیلئے دگنافنڈ فراہم کرنے کی ضرورت ہے ،مجوزہ کام کی فہرست بی ایم سی کے پاس ہے اور اس کی منظوری کے بعد ہی یہ شروع ہوگا

Last year, there was a landslide in Chembor in which 18 people were killed.Picture:INN
گزشتہ سال چمبور میں بھی چٹان کھسکنے کاواقعہ ہوا تھا جس میں ۱۸؍ افراد ہلاک ہوئے تھے۔۔ تصویر: آئی این این

  شہر کی ایسی پہاڑیاں جہاں چٹان کھسکنے کا خطرہ رہتا ہے ، وہاں حفاظتی دیوار تعمیر کرنے کا منصوبہ فنڈ کی کمی کی وجہ سے متاثر ہوا ہے۔ گزشتہ سال چٹان کھسکنے کے واقعات میں ۳۲؍ افراد کی موت کے بعد ریاستی حکومت نے شہر کے لینڈسلائیڈ (چٹان کھسکنے)کے خطرے والے علاقوں میں حفاظتی دیوار تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے لیکن امسال اس پروجیکٹ کیلئے فنڈ کی کمی کی مسئلہ درپیش ہے۔ میونسپل افسران نےاس بارے میں کہا کہ ’’زمین کی ملکیت اور قبضہ جیسے دیگر مسائل کا بھی ہمیں سامنا کرنا پڑرہا ہے۔‘‘ اس تعلق سے ممبئی مضافات کے کلکٹر آفس کے ایک افسر نے کہا کہ ’’ہم نے گزشتہ سال ۷۱؍ کروڑ روپے کی لاگت سے ایسی ۲۵؍ جگہوں پر کام شروع کیا تھا اور امسال اس پروجیکٹ کیلئے ۱۱۲؍ کروڑ روپے محفوظ رکھے تھے۔ تاہم اب تقریباً ۲۵۰؍ کروڑ روپے کی ضرورت ہے۔‘‘ ۲۰۱۷ء میں جیولوجیکل سروے آف انڈیا(جی ایس آئی) کے ذریعے شہر میں  لینڈسلائیڈ کی خطرے  والی  ۲۴۰؍جگہوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس بارے میں ممبئی مضافات کی کلکٹر ندھی چودھری نے کہا کہ ’’ جی ایس آئی کے مشورے کے مطابق ترجیحی فہرست تیار کی گئی تھی جس میں   ۴۷؍ جگہیں اس کی پہلی لسٹ میں اور ۲۵؍ جگہیں   دوسری لسٹ میں شامل ہیں۔ گزشتہ سال ہم نے پہلی ترجیحی لسٹ  میں شامل ۲۵؍جگہوں پر کام شروع کیا تھا جہاں ہم نے ۷۱؍ کروڑ روپے کی لاگت سے ۲۴۵؍ دیواریں تعمیر کرنے کا کام شروع کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ امسال  فراہم کیا گیا فنڈ ۱۱۲؍ کروڑ روپے ہے ۔ ہم نے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کو ایک ہزار ۱۶؍ دیواریں تعمیر کرنے کی فہرست بھیجی ہے جو فیصلہ کرے گی کہ کسے ترجیحی بنیاد پر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جس کے بعد ہم فنڈ کی دستیابی کے مطابق کام شروع کریں گے۔‘‘ اس بارے میں ایک میونسپل افسر نے کہا کہ ’’گزشتہ سال چمبور اور بھانڈوپ میں چٹان کھسکنے کے واقعات کے بعد ہم نے پایا کہ ان علاقوں سے بارش کے پانی کی نکاسی کا مناسب راستہ نہیں ہے اور پانی کے دباؤ کی وجہ سے چٹان کھسکنے کے واقعات ہوتے ہیں۔ اس لئے نہ صرف حفاظتی دیوار کی تعمیر  بلکہ مناسب ڈرینج سسٹم بھی درکار ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’پہاڑی کی ڈھلان پر پودے اگانے کی ضرورت تھی کیونکہ یہ بھی لینڈسلائیڈ کی روک تھام میں مدد کریں گے۔‘‘ بھانڈوپ کے سابق کارپوریٹر جاگرتی پاٹل نے کہا کہ ’’گزشتہ سال جہاں چٹان کھسکنے کا واقعہ ہوا تھا ، اس علاقے میں دیوار کی تعمیر کی گئی ہے لیکن پوری دیوار کا کام کرنے کی ضرورت ہے جو ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔‘‘ فنڈکی کمی کے علاوہ جو مشکلات پیش آرہی ہیں ، اس بارے میں بات کرتے ہوئے میونسپل افسر نے کہا کہ ’’ جہاں کام کیا جانا ہے ، وہاں کی بیشتر زمین ریاستی حکومت کے محکمے جیسے کلکٹرس ، محکمۂ جنگلات اور دیگر محکموں کی ملکیت ہے۔ چند علاقوں میں قبضوں کی وجہ سے حفاظتی دیوار کی تعمیر کیلئے جگہ ہی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’شہری انتظامیہ نے ایسی جگہوں پر رہنے والے افراد کو نوٹس دے کر مانسون سے قبل جگہ خالی کرنے کی ہدایت دی ہے لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ملاہے۔‘‘ ڈیٹا کے مطابق چٹان کھسکنے کے واقعات مشرقی مضافات میں زیادہ پیش آتے ہیں جہاں شہر  ومضافات کے ایسی  ۲۴۰؍ جگہوں میں سے ۱۷۰؍ جگہیں ہیں۔ این وارڈ جس میں گھاٹکوپر اور وکھرولی علاقے آتے ہیں  ، کا پہلی ترجیحی لسٹ میں حصہ   ۳۰؍ فیصد  ہے۔

mumbai Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK