شوبھندو ادھیکاری خود کو دوڑ میں سب سے آگے سمجھ رہے ہیں لیکن سیاسی ماہرین کے مطابق بی جےپی کسی کے بھی نام کی چٹھی نکال سکتی ہے
EPAPER
Updated: May 06, 2026, 8:10 AM IST | Kolkata
شوبھندو ادھیکاری خود کو دوڑ میں سب سے آگے سمجھ رہے ہیں لیکن سیاسی ماہرین کے مطابق بی جےپی کسی کے بھی نام کی چٹھی نکال سکتی ہے
مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کے مطابق بی جے پی کو واضح اکثریت مل چکی ہے۔ اسی کے ساتھ بی جے پی ریاست میں حکومت سازی کیلئے متحرک ہوگئی ہے۔ اسی سلسلے میں پارٹی نے اہم تنظیمی فیصلہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو مغربی بنگال میں پارٹی کے قانون سازوں کے لیڈر کے انتخاب کیلئے مرکزی مبصر مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ادیشہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی کو مرکزی معاون مبصر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جو امیت شاہ کے ساتھ مل کر لیڈر کے انتخاب اور میٹنگ کے عمل کو مکمل کرائیں گے۔ پارلیمانی پارٹی کےلیڈر کاانتخاب حالانکہ بی جےپی کیلئے کوئی مشکل کام نہیں ہوگا، کیونکہ بی جے پی میں فی الحال کسی بغاوت کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی، اس کے باوجود کہا جارہا ہے کہ مغربی بنگال میں لیڈر کاانتخاب اس کیلئے ایک ٹیڑھی کھیر ہے۔ ترنمول کانگریس سے بی جے پی میں آنے والے شوبھندو ادھیکاری خود کو اس دوڑ میں سب سے آگے قرار دے رہے ہیں، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان اور دہلی کی طرح بی جےپی کسی اور نام کی چٹھی نکال کر ایک بار پھر ملک کو حیران کردے گی۔
خود کو وزیراعلیٰ کی دوڑ میں آگے رکھنے کیلئے یوگی آدتیہ ناتھ اور ہیمنت بسوا شرما کی طرح شوبھندو ادھیکاری نے بھی زہرافشانی شروع کردی ہے۔
شوبھندوادھیکاری نے نندی گرام میں ملنے والی فتح کیلئے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’نندی گرام کے ہندو ووٹرس نے مجھے پھر سے فتحیاب کیا ہے۔ وہاں مسلموں کے سارے ووٹ ترنمول کانگریس کو ملے۔ ایسے میں، میں نندی گرام کے ہندوؤں کیلئے ہی کام کروں گا۔‘‘ اس ساتھ ہی انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم وہ کام کریں گے جو وزیر داخلہ امیت شاہ نے انتخابی منشور میں اعلان کیا تھا، اور وزیر اعظم مودی نے بار بار یقین دلایا ہے۔‘‘
اسی طرح ایک اور بیان میں انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی کی سیاست سے وداعی ہے۔ اس بار بھی وہ۱۵؍ ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہاریں۔ مسلمانوں نے کھل کر انھیں ووٹ دیا۔ وارڈ نمبر۷۷؍میں جتنے بھی مسلمان ووٹ ڈالنے نکلے، انھوں نے ممتا کو ووٹ دیا۔اس کے برعکس ہندوؤں، سکھوں، جینوں اور بودھوں نے مجھے آشیرواد دیا اور مجھے فتحیاب کیا۔ یہ جیت ہندوتوا کی جیت ہے۔‘‘
شوبھندو کے ساتھ ہی وزارت اعلیٰ کیلئے سمک بھٹا چاریہ اور اتپل مہاراج کے نام بھی لئے جارہے ہیں۔
منگل کو دوپہر میں بی جے پی کی جانب سے ایک ایک پریس بیان جاری کیا گیاجس میں پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری ارون سنگھ نے بتایا کہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے مغربی بنگال میں حکومت سازی کیلئے ضروری اقدامات شروع کر دیئے ہیں اور جلد ہی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیا جائے گا۔ اس عمل کو شفاف اور منظم بنانے کیلئے سینئر قیادت کو ذمہ داری دی گئی ہے تاکہ نئی حکومت کے قیام میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔
خیال رہے کہ مغربی بنگال میں بی جے پی نے پہلی بار کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت بنانے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق بی جے پی کو۲۰۷؍ نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس کو۸۰؍ نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ کانگریس کو ۲؍ اور سی پی آئی ایم کو ایک نشست حاصل ہوئی ہے۔ اسمبلی انتخاب کے اس غیرمتوقع نتائج کے بعد اب سب کی نظریں ریاست میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کے چہرے اور حلف برداری کی تاریخ پر جمی ہوئی ہیں۔ اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر سمک بھٹاچاریہ نے بتایا کہ ’’ریاست میں بی جے پی کے پہلے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کی تقریب۹؍مئی کو منعقد کی جائے گی۔