Updated: February 18, 2026, 5:02 PM IST
| Lima
پیرو کی کانگریس نے صدر ہوزے جیری کو عہدہ سنبھالنے کے صرف چار ماہ بعد ہی اکثریتی ووٹ سے معزول کر دیا۔ ایک چینی تاجر سے مبینہ خفیہ ملاقاتوں کے اسکینڈل نے سیاسی بحران کو ہوا دی، جس کے بعد ملک میں قیادت کی مسلسل تبدیلی کا سلسلہ جاری ہے۔ خیال رہے کہ پیرو میں ۱۰؍ سال میں ۷؍ مرتبہ صدر کو معزول کیا جاچکا ہے۔
صدر ہوزے جیری۔ تصویر: ایکس
جنوبی امریکی ملک پیرو میں سیاسی عدم استحکام کا سلسلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ کانگریس نے صدر ہوزے جیری کو عہدہ سنبھالنے کے صرف چار ماہ بعد سادہ اکثریت کے ووٹ سے معزول کر دیا۔ ان پر ایک چینی تاجر کے ساتھ مبینہ نامعلوم ملاقاتوں کا الزام تھا، جس نے سیاسی حلقوں میں ہنگامہ برپا کر دیا۔منگل کو ہونے والے سینسر اقدام میں اکثریتی ووٹ کے ذریعے جیری کو عہدے سے ہٹایا گیا۔ جیری اور ان کے اتحادیوں کا مؤقف تھا کہ انہیں باقاعدہ مواخذے کے عمل کا سامنا کرنا چاہیے تھا، نہ کہ کانگریس کی براہِ راست مذمت کا۔ تاہم، ووٹنگ سے قبل جیری نے اعلان کیا کہ وہ نتائج کا احترام کریں گے۔ ان کی برطرفی کے بعد ملک ایک اور عبوری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ کانگریس کے موجودہ صدر فرنانڈو روسپیگلوسی جانشینی کی قطار میں اگلے تھے، مگر انہوں نے صدارت سنبھالنے سے انکار کر دیا۔ اس صورتحال میں قانون سازوں کو پہلے نیا کانگریس سربراہ منتخب کرنا ہوگا، جو بعد میں صدر کا عہدہ سنبھالے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران -امریکہ مذاکرات کا دوسرا دو ربھی اختتام کوپہنچا
یہ پیش رفت ۲۰۲۰ء کے بحران سے مماثلت رکھتی ہے، جب فرانسسکو سگاستی کو شدید سیاسی بحران اور مظاہروں کے بعد کانگریس نے عبوری صدر منتخب کیا تھا۔ اس وقت مینول مرینو کی پانچ روزہ صدارت احتجاج کے باعث ختم ہو گئی تھی۔ پیرو گزشتہ کئی برسوں سے شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ۲۰۱۶ء کے وسط سے اب تک ملک آٹھ صدور دیکھ چکا ہے۔ پیڈرو پابلو مواخذے سے قبل مستعفی ہوئے، جبکہ مارٹن وزکارا کو کانگریس نے عہدے سے ہٹا دیا۔
اسی طرح پیڈرو کاستیلو کو کانگریس تحلیل کرنے کی کوشش کے بعد ۲۰۲۲ء میں برطرف کیا گیا اور وہ اس وقت بغاوت اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت قید ہیں۔ ان کے بعد ڈائنا بولارتے نے صدارت سنبھالی، مگر ۲۰۲۵ء میں ان کا بھی مواخذہ ہو گیا۔ ہوزے جیری نے اکتوبر ۲۰۲۵ء میں بولارتے کی برطرفی کے بعد عہدہ سنبھالا تھا، مگر بدعنوانی کے الزامات اور حالیہ اسکینڈل نے ان کی حکومت کو کمزور کر دیا۔ ان کی برطرفی کے ساتھ ہی وہ مسلسل تیسرا صدر بن گئے جنہیں کانگریس نے معزول کیا۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: محمد یونس کی الوداعی تقریب، خطاب میں ”سات بہنوں،“ چین، نیپال، بھوٹان کا تذکرہ کیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیادت میں بار بار تبدیلی نے ملک کی معیشت، سرمایہ کاری اور عوامی اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔ سیاسی کشمکش نے نہ صرف حکومتی اداروں کو کمزور کیا بلکہ سماجی سطح پر بھی بے چینی کو بڑھایا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نیا صدر ملک کو کس حد تک استحکام دے سکے گا۔ ماہرین کے مطابق، مستقل سیاسی اصلاحات اور ادارہ جاتی استحکام کے بغیر یہ بحران جاری رہ سکتا ہے۔ عوام اور کاروباری حلقے ایک مستحکم قیادت کی امید کر رہے ہیں تاکہ ملک کو مسلسل سیاسی ہلچل سے نکالا جا سکے۔