سی بی ایس ای کے نئے مارکنگ سسٹم کیلئے ٹھیکہ میں جانبداری کا الزام ،راہل گاندھی نے معاملہ اٹھایا، وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ، پرچوں کی جانچ کا ’ونڈو ‘ دوبارہ کھولا گیا، ۴؍ لاکھ طلبہ نے ۱۱؍ لاکھ سے زائد جوابی کاپیاں مانگیں
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 9:49 AM IST | New Delhi
سی بی ایس ای کے نئے مارکنگ سسٹم کیلئے ٹھیکہ میں جانبداری کا الزام ،راہل گاندھی نے معاملہ اٹھایا، وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ، پرچوں کی جانچ کا ’ونڈو ‘ دوبارہ کھولا گیا، ۴؍ لاکھ طلبہ نے ۱۱؍ لاکھ سے زائد جوابی کاپیاں مانگیں
سی بی ایس ای کے ۱۲؍ ویں جماعت کے نتائج کو لے کر شروع ہوا تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ نتائج جاری ہونے کے بعد سے ہی طلبہ اور والدین کی بڑی تعداد نمبرات اور جانچ کے عمل پر سوال اٹھا رہی ہے۔ اسی بڑھتے ہوئے تنازع کے درمیان لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ(او ایس ایم) نظام سے متعلق ٹھیکہ دینے کے عمل پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹینڈر کی شرائط میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں، جس کے نتیجے میں ایک ایسی کمپنی کو ٹھیکہ ملا جس کی کارکردگی پر پہلے ہی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس پورے معاملے کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر تفصیلی پوسٹ میں ایک اخباری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سی بی ایس ای نے آن اسکرین مارکنگ نظام کیلئے تین مرتبہ ٹینڈر جاری کئے۔ پہلے مرحلے میں کوئی بولی موصول نہیں ہوئی، دوسرے مرحلے میں کوئی کمپنی مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اتری جبکہ تیسرے مرحلے تک پہنچتے پہنچتے تکنیکی شرائط میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن کے بعد متعلقہ کمپنی اہل قرار دے دی گئی۔انہوں نے الزام لگایا کہ اسکیننگ کی ریزولوشن سے متعلق تقاضے کم کئے گئے، روبوٹک اسکینر کی شرط ختم کر دی گئی، سی ایم ایم آئی سرٹیفکیشن کی سطح پانچ سے گھٹا کر تین کر دی گئی اور جوابی پرچوں میں غلطیوں پر عائد جرمانے کو بھی ہٹا دیا گیا۔ راہل گاندھی کے مطابق ان تبدیلیوں کے باوجود ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی بھی اہل قرار پائی لیکن ٹھیکہ دوسری کمپنی کو دیا گیا۔راہل گاندھی نے کہا کہ آج طلبہ کی جانب سے خراب اسکین شدہ جوابی پرچوں، غائب صفحات اور جانچ کے پورٹل میں تکنیکی خرابیوں کی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق اساتذہ نے بھی سی بی ایس ای کو خبردار کیا تھا کہ اس نظام کو ملک بھر میں نافذ کرنے سے قبل کم از کم ایک یا دو سال مزید تیاری کی ضرورت ہے، لیکن اس کے باوجود منصوبے کو جلد بازی میں نافذ کیا گیا اور لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا ۔باقی صفحہ ۶؍ پر
طلبہ کی شکایتیں کیا ہیں؟
nطالب علم ویدانت نے ٹویٹ کیا کہ’’فزکس میں غیر متوقع طور پر بہت کم مارکس ملنے کے بعد جب میں نے دوبارہ چیکنگ کی درخواست دی تو میں یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا کہ امتحانی پرچے کی جو کاپی اپ لوڈ کی گئی وہ میری نہیں تھی۔ ‘‘ ویدانت نے یہ ٹویٹ بھی کیا کہ میری انگریزی اور کمپیوٹر سائنس کی مارکس شیٹ تو ٹھیک ہے لیکن فزکس کا پرچہ میرا نہیں ہے کیوں وہ میری رائٹنگ بھی نہیں ہے ۔
nشرلین ولسن نے پوسٹ کیا کہ ’’انگریزی کے پرچے میں کم مارکس ملنے کے بعد میں نے جو دوبارہ پرچہ جانچنے کا مطالبہ کیا تو مجھے بھی کسی دوسرے طالب علم کا پرچہ دے دیا گیا کیوں کہ اس میں میری ہینڈ رائٹنگ نہیں ہے۔ ‘‘
nموکش یادو نے ایکس پر شکایت کی کہ اسے انگریزی کے پرچے میں ۸۰؍ میں سے محض ۳۳؍ مارکس ملے جس پر اس نے امتحانی پرچہ مانگا تو سی بی ایس ای نے جو بھیجا اس سے وہ سخت صدمہ سے دوچار ہو گیا۔ وہ پرچہ اس کا تھا ہی نہیں کیوں کہ اس نے پرچہ میں سیاہ بال پین کا استعمال ہی نہیں کیاتھا ۔
nکیشو کمار نے اپنے رول نمبر کے ساتھ پوسٹ کیا کہ اس نے ریاضی میں کم مارکس ملنے کےبعد پرچہ منگوایا تو سی بی ایس ای حکام نے اسے بلینک پیپر بھیج دیا اور اس میں بھی صرف ایک ہی صفحہ تھا ۔ کیا مذاق ہے !
nجلاج جین کی پوسٹ کے مطابق اکائونٹنگ میں مجھے امید تھی کہ ۹۰؍ سے زائد مارکس ملیں گے لیکن صرف ۴۷؍ مارکس ملے تو میں نے پرچہ جانچنے کے لئے منگوایا تو مجھے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پرچہ میں کچھ حصوں کو چیک ہی نہیں کیا گیا بلکہ وہاں’این اے (ٹاٹ ایپلی کیبل)‘ لکھ کر چھوڑ دیا گیا۔ پرچہ دوبارہ جانچنے پر معلوم ہوا کہ وہ میرا ہے ہی نہیں۔ میں نے جب آواز اٹھائی اور بھوپال کے دفتر میں جاکر پرچہ چیک کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ ۹۲؍ مارکس ہی ملے ہیں۔