کورونا دور میں مشکوک لین دین کے معاملات میں اضافہ

Updated: September 12, 2020, 3:12 AM IST | New Delhi

ایسی کمپنیوں پر خصوصی نگاہ رکھی جارہی ہے جن کی تجارت میں اچانک اضافہ ہوا یا جنہوں نے بیرون ملک غیر متعلقہ سامان اور پیسے بھیجنے کی سروسیز بڑھا ئیں ۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

ملک میں کووڈ ۱۹؍ کی وباپھیلنے کے بعد سے مشکوک مالی لین دین میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا ، بینک آف بڑودہ ، آئی سی آئی سی آئی اور ایچ ڈی ایف سی جیسی اعلیٰ بینکوں نے حکومتی ایجنسیوں کو ا س بارے میں متنبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا کی مدت کے دوران نقد رقم اور بیرون ملک منتقلی کے مشتبہ معاملات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق اس انتباہ کے مد نظر ایسی کمپنیوں پر خصوصی نگاہ رکھی جارہی ہے جن کی تجارت میں اچانک اضافہ ہوا ہے یا جنہوں نے غیر متعلقہ سامان بیرون ملک بھیجنے کی سروس بڑھا ئی ہو یا پیسےبھیجے ہوں ۔بینکوں کے مطابق اپریل سے اس طرح کے معاملات میں ۳۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے اور کچھ معاملات میں یہ اضافہ ۵۰؍ فیصد تک ہے۔ بینک کے ایک سینئر عہدیدار نےبتایا کہ مشکوک لین دین کی نگرانی کرنے والی مرکزی ایجنسی فائنانشل انٹیلی جنس یونٹ (ایف آئی یو) ایسے کئی معاملات کی تحقیقات کر ر ہی ہے۔ اس معاملے میں غفلت برتتے والے متعدد سرکاری بینکوں کی بھی سرزنش کی گئی ہے ۔
 قوانین کے مطابق بینکوں ، این بی ایف سی اور انشورنس کمپنیوں کو مشکوک لین دین کے بارے میں ہر ماہ ایف آئی یو کو رپورٹ کرنا پڑتا ہے۔ ہر سال اوسطاً کتنے معاملات درج کئے جاتے ہیں اس بارے میں کوئی درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں لیکن ماہرین دعویٰ ہے کہ فی سال اوسطاً ۱۰؍ لاکھ کے قریب مشکوک معاملوں سے ایف آئی یو کو مطلع کیاجاتا ہے۔ 
 فائنا نشیل ایڈوائزری سروس’ ڈے لائٹ انڈیا‘ کے پارٹنرکے وی کارتک کے مطابق کورونا بحران میں لین دین کے روایتی طریقہ کار تبدیل ہوگئے ہیں کچھ لوگ اسی کا فائدہ اٹھانےکی کوشش کرسکتے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے معاملات میں ایف آئی یو نے تفتیش شروع کردی ہے۔ مثلاً ایک سرکاری بینک کو دہلی میں مقیم ایک کمپنی کے کپیٹل مارکیٹ ٹرانزکشن کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کمپنی کے مشکوک لین دین کے بارے میں ایک دیگر بینک نے اطلاع دی تھی۔ اسی طرح دیگر بینکوں کو بھی سرکاری ایجنسی کی جانب سے متنبہ کیا گیا ہے۔ کسی بھی طرح کے مشکوک لین کی باریک بینی کے ساتھ جانچ کی جارہی ہے اور غفلت برتنے والوں اداروں سے جواب بھی طلب کئے گئے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق اس سے منی لانڈرنگ اور ٹیکس کی چوری جیسے مزید معاملات بھی سامنے آئیں گے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK