Updated: May 30, 2026, 10:05 PM IST
| New delhi
ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کی تازہ سالانہ رپورٹ کے مطابق ۲۶۔۲۰۲۵ء کے دوران بینکنگ نظام میں جعلی کرنسی نوٹوں کی نشاندہی میں ۷ء۵؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سب سے زیادہ اضافہ ۵۰۰؍ اور ۲۰۰؍ روپے کے جعلی نوٹوں میں دیکھا گیا، جبکہ ۲؍ ہزار روپے کے جعلی نوٹوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی رہی۔ رپورٹ کے مطابق بینکنگ نظام میں مجموعی طور پر ۲۹ء۲؍ لاکھ سے زائد جعلی نوٹ پکڑے گئے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء کے دوران بینکنگ نظام میں جعلی نوٹوں کی شناخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے کرنسی کی نگرانی اور مالیاتی سلامتی کے حوالے سے نئے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ آر بی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۶۔۲۰۲۵ء میں مجموعی طور پر ۲۲۹۷۴۵؍ جعلی نوٹ دریافت کیے گئے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ تعداد ۲۱۷۲۹۶؍ تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران جعلی نوٹوں کی برآمدگی میں ۷ء۵؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے : بڑھتے اخراجات، کم طلب؛ ایئر انڈیا اور انڈیگوگھریلو پروازوں میں بڑی کمی کا اعلان
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ جعلی نوٹ ۵۰۰؍ روپے کے پائے گئے۔ گزشتہ مالی سال میں جہاں ۱۱۷۷۲۲؍ جعلی ۵۰۰؍ روپے کے نوٹ ضبط کیے گئے تھے، وہیں ۲۶۔۲۰۲۵ء میں یہ تعداد بڑھ کر ۱۴۱۹۰۷؍ تک پہنچ گئی، جو تقریباً ۵ء۲۰؍ فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ ۵۰۰؍ روپے کا نوٹ ہندوستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کرنسیوں میں شمار ہوتا ہے، اسی لیے جعل سازوں کی توجہ بھی اسی مالیت کے نوٹوں پر زیادہ مرکوز رہی۔ ماہرین کے مطابق روزمرہ لین دین میں ان نوٹوں کا وسیع استعمال جعلی کرنسی کے پھیلاؤ کو نسبتاً آسان بنا دیتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ۲۰؍ روپے کے جعلی نوٹوں میں سب سے زیادہ شرح نمو دیکھی گئی۔ اگرچہ تعداد کے لحاظ سے یہ بہت کم ہیں، تاہم ان کی تعداد ۲۵۳؍ سے بڑھ کر ۳۷۳؍ ہو گئی، جو ۴ء۴۷؍ فیصد اضافے کے برابر ہے۔
دوسری جانب بعض ۲۰۰؍ روپے کے جعلی نوٹوں کی تعداد ۳۲۶۶۰؍ سے کم ہو کر ۳۰۵۹۱؍ رہ گئی، جبکہ ۱۰۰؍ روپے کے جعلی نوٹ ۵۱۰۶۹؍ سے گھٹ کر ۴۵۶۲۱؍ پر آ گئے۔ اسی طرح ۵۰؍ روپے کے جعلی نوٹوں کی تعداد بھی ۱۲۰۱۵؍ سے کم ہو کر ۱۰۲۷۴؍ رہ گئی۔ رپورٹ کے مطابق سب سے نمایاں کمی ۲؍ ہزار روپے کے جعلی نوٹوں میں دیکھی گئی۔ گزشتہ مالی سال میں جہاں ۳۸۰۵؍ جعلی ۲؍ ہزار روپے کے نوٹ پکڑے گئے تھے، وہیں۲۶۔۲۰۲۵ء میں یہ تعداد صرف ۸۲۴؍ رہ گئی۔ ماہرین اس کمی کی بنیادی وجہ ۲؍ ہزار روپے کے نوٹوں کو گردش سے بتدریج واپس لینے کی پالیسی کو قرار دے رہے ہیں، جس کے باعث مارکیٹ میں ان نوٹوں کی موجودگی مسلسل کم ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : سیمی کنڈکٹر شعبے کو فروغ دینے کیلئے انویسٹر اسسٹنس پورٹل لانچ
آر بی آئی کے مطابق دریافت ہونے والے جعلی نوٹوں میں سے ۶ء۹۷؍ فیصد یعنی ۲۲۴۲۲۴؍ نوٹ مختلف تجارتی بینکوں کے ذریعے شناخت کیے گئے، جبکہ مرکزی بینک نے خود ۵۴۱۲؍ جعلی نوٹوں کا سراغ لگایا، جو مجموعی تعداد کا ۴ء۲؍ فیصد ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف بینکنگ نظام میں پکڑے جانے والے جعلی نوٹوں پر مشتمل ہیں۔ پولیس، کسٹمز یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ضبط کی گئی جعلی کرنسی اس ڈیٹا میں شامل نہیں ہے، لہٰذا اصل حجم اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ ادھر گندے اور ناقابل استعمال نوٹوں کے تصرف میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ ۲۶۔۲۰۲۵ء کے دوران تقریباً ۷۲ء۱؍ لاکھ گندے نوٹ تلف کیے گئے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ تعداد ۳۸ء۲؍ لاکھ تھی۔ اس طرح ایک سال میں تقریباً ۶ء۲۸؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے : ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کررہا ہے: ورلڈ پینل کی رپورٹ
مالیت کے اعتبار سے ۵۰۰؍ روپے کے نوٹ سب سے زیادہ تلف کیے گئے۔۲۶۔۲۰۲۵ء میں ۸ء۵۹؍ لاکھ ۵۰۰؍ روپے کے نوٹ واپس لیے گئے، جبکہ ایک سال قبل یہ تعداد ۸ء۸۹؍ لاکھ تھی۔ ۲۰؍ روپے کے نوٹوں کے تصرف میں بھی نمایاں کمی آئی اور ان کی تعداد ۵ء۱۶؍ لاکھ سے کم ہو کر ۸ء۹؍ لاکھ رہ گئی۔ دوسری جانب ۱۰۰؍ روپے کے نوٹوں کی تبدیلی اور تلفی نسبتاً مستحکم رہی، جہاں تقریباً ۱ء۵۸؍ لاکھ نوٹ نظام سے نکالے گئے۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو جعلی کرنسی کا مسئلہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں مرکزی بینک جدید سیکوریٹیفیچرز، بہتر نگرانی اور ڈجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے ذریعے جعلی نوٹوں کے خطرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جعل ساز بھی مسلسل نئی تکنیکیں اختیار کر رہے ہیں، جس کے باعث مالیاتی اداروں کو اپنی حفاظتی حکمت عملیوں کو مستقل طور پر اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے۔ ہندوستان میں بھی آر بی آئی اور بینکنگ ادارے جدید سیکوریٹی خصوصیات، نوٹوں کی بہتر جانچ کے نظام اور عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے جعلی کرنسی کے خلاف جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن تازہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ چیلنج ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔