Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ہند نژاد طالب علم نے اسکرپس نیشنل اسپیلنگ بی جیت لیا

Updated: May 30, 2026, 8:01 PM IST | Washington

امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ۱۴؍ سالہ ہندوستانی نژاد طالب علم شرے پاریکھ نے دنیا کے معروف ہجوں کے مقابلے Scripps National Spelling Bee میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے چیمپئن کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ شرے نے فائنل میں ایشان گپتا کو سنسنی خیز اسپیل آف راؤنڈ میں شکست دی اور ۹۰؍ سیکنڈ کے اندر ۳۲؍ الفاظ کے درست ہجے کر کے مقابلے کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔

Shrey Parekh, Photo: X
شرے پاریکھ، ۔ تصویر: آئی این این

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں منعقد ہونے والے دنیا کے سب سے معتبر ہجوں کے مقابلے، Scripps National Spelling Bee، میں ہندوستانی نژاد ۱۴؍ سالہ طالب علم شرے پاریکھ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیمپئن شپ اپنے نام کر لی۔ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے شرے نے جمعرات کی شب کانسٹی ٹیوشن ہال میں ہونے والے فائنل میں ساتھی فائنلسٹ ایشان گپتا کو ایک سنسنی خیز اسپیل آف راؤنڈ میں شکست دے کر ٹرافی حاصل کی۔ فائنل مقابلہ اس وقت انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا جب دونوں فائنلسٹ مقررہ راؤنڈز میں تقریباً برابر کی کارکردگی دکھاتے ہوئے آخری مرحلے تک پہنچ گئے۔ فیصلہ کن اسپیل آف راؤنڈ میں شرے پاریکھ نے ۹۰؍ سیکنڈ کے اندر ۳۲؍ الفاظ کے درست ہجے کیے، جو ۲۰۲۲ء میں اس فارمیٹ کے متعارف ہونے کے بعد سب سے زیادہ اسکور ہے۔ ان کے مقابلے میں ایشان گپتا نے ۲۵؍ الفاظ کے درست ہجے کیے، تاہم وہ شرے کی رفتار اور درستگی کا مقابلہ نہ کر سکے۔

یہ بھی امریکی وزیر خارجہ سے اسحاق ڈار کی ملاقات، پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا

شرے کی فتح کا آخری اور فیصلہ کن لفظ ’’Bromocriptine‘‘ تھا، جو ایک دوا کا نام ہے۔ یہ دوا قدرتی طور پر پیدا ہونے والی ایک فنگس سے حاصل کی جاتی ہے اور دماغ میں ڈوپامین جیسے اہم کیمیکل کے متبادل کے طور پر کام کرتے ہوئے جسم کی مختلف حرکات اور ہارمونز کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ کامیابی شرے پاریکھ کے لیے اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ صرف ایک سال قبل ان کا سفر ایک حیران کن ناکامی سے دوچار ہوا تھا۔ گزشتہ سال وہ اپنی اسکول سطح کی اسپیلنگ بی میں لفظ ’’Calipers‘‘ کے ہجے نہ بتا سکے تھے اور مقابلے سے باہر ہو گئے تھے۔ اس وقت وہ ایک وائرل بیماری اور بخار کا بھی شکار تھے، جس نے ان کی کارکردگی کو متاثر کیا۔

یہ بھی پڑھئے : امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور نئے سرے سے جوہری مذاکرات شروع کرنے پر عارضی معاہدہ

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ناکامی سے قبل شرے ملک کے ابھرتے ہوئے بہترین نوجوان اسپیلرز میں شمار کیے جاتے تھے اور ۲۰۲۴ء میں قومی سطح کے مقابلے میں تیسری پوزیشن بھی حاصل کر چکے تھے۔ اس غیر متوقع شکست نے انہیں شدید مایوسی سے دوچار کر دیا تھا۔ اپنی فتح کے بعد گفتگو کرتے ہوئے شرے نے کہا، ’’اس وقت میں شاید اپنی زندگی میں سب سے زیادہ خوش ہوں۔ گزشتہ سال اپنی اسکول اسپیلنگ بی میں شکست کے بعد میں بہت افسردہ اور پریشان تھا۔ کئی دنوں تک مجھے اس شکست کا صدمہ رہا، لیکن آج مجھے خوشی ہے کہ میں نے خود کو سنبھالا اور دوبارہ کامیابی حاصل کی۔‘‘ شکست کے بعد شرے نے کچھ وقت آرام کیا، لیکن جلد ہی مزید عزم اور محنت کے ساتھ اپنی تیاری شروع کر دی۔ ان کے کوچز کے مطابق انہوں نے نہ صرف نئے الفاظ یاد کیے بلکہ ہر اس لفظ کا تفصیلی تجزیہ کیا جس میں وہ کبھی غلطی کر چکے تھے۔
شرے کی تربیت کرنے والے سابق شریک چیمپئن Sohum Sukhatankar نے بتایا کہ شرے میں اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب بھی شرے کسی لفظ میں غلطی کرتا تھا تو وہ اس کی وجہ جاننے کی کوشش کرتا تھا۔ وہ ہر غلط لفظ کا الگ سے مطالعہ کرتا اور اسے دوبارہ کبھی نہیں بھولتا تھا۔ میری تربیت کے دوران ایسا شاذونادر ہی ہوا کہ وہ ایک ہی غلطی دوبارہ دہرائے۔‘‘ فائنل مقابلے کا آغاز نو فائنلسٹ کے ساتھ ہوا تھا جنہوں نے ابتدائی مراحل میں شاندار کارکردگی دکھائی۔ تاہم جیسے جیسے مقابلہ آگے بڑھا، مشکل اور کم استعمال ہونے والے الفاظ نے ایک ایک کر کے کئی مضبوط امیدواروں کو باہر کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے : امریکی قانون کے برخلاف صدر ٹرمپ کی تصویر ڈالر پر چھاپنے کی تیاریاں

نمایاں فائنلسٹ اولیور ہالکیٹ اور زیو اسپیس ٹائم بھی پیچیدہ الفاظ کے باعث مقابلے سے باہر ہو گئے، جس کے بعد میدان صرف شرے پاریکھ اور ایشان گپتا کے درمیان محدود ہو گیا۔ شرے کی یہ کامیابی ایک وسیع تر رجحان کا بھی حصہ ہے۔ اسکرپس نیشنل اسپیلنگ بی میں گزشتہ کئی دہائیوں سے ہندوستانی نژاد طلبہ نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے آ رہے ہیں۔ شرے پاریکھ اس مقابلے کی تاریخ میں گزشتہ ۳۷؍ برسوں کے دوران ہندوستانی نژاد ۳۱؍ ویں چیمپئن بن گئے ہیں۔ یہ شاندار سلسلہ ۱۹۹۹ء سے مسلسل جاری ہے اور ہر سال ہندوستانی نژاد نوجوان اپنی غیر معمولی لسانی صلاحیتوں سے دنیا کو متاثر کر رہے ہیں۔


اس سال کا مقابلہ ایک اور وجہ سے بھی توجہ کا مرکز رہا۔ روایتی کنونشن سینٹر کے بجائے اسے پہلی بار واشنگٹن کے تاریخی کانسٹی ٹیوشن ہال میں منعقد کیا گیا، جس پر بعض خاندانوں اور شرکاء نے سفری اور انتظامی مشکلات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ تاہم تمام بحثوں اور انتظامی تبدیلیوں کے باوجود ۲۰۲۶ء کا مقابلہ ایک ایسے نوجوان کی غیر معمولی واپسی کی داستان بن گیا جس نے ایک سال پہلے کی مایوس کن ناکامی کو اپنی طاقت بنایا اور بالآخر دنیا کے سب سے بڑے ہجوں کے مقابلے کا تاج اپنے سر سجا لیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK