Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی یونیورسٹی ۳۱ ارب پتی سابق طلبہ کے ساتھ دنیا کے سرفہرست ۱۰ اداروں میں شامل

Updated: May 30, 2026, 10:03 PM IST | Mumbai

ممبئی یونیورسٹی نے سب سے زیادہ ارب پتی سابق طلبہ والے تعلیمی اداروں کی فہرست میں عالمی سطح پر دسواں مقام حاصل کیا ہے اور اس کا نام ہارورڈ یونیورسٹی، اسٹینفورڈ یونیورسٹی، میساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور ییل یونیورسٹی جیسے نامور اداروں کے ساتھ درج کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق، ممبئی یونیورسٹی سے اب تک ۳۱ ارب پتی سابق طلبہ پیدا کئے ہیں جن کی مجموعی دولت تقریباً ۶ء۲۳۲ ارب ڈالر ہے۔

University of Mumbai. Photo: INN
ممبئی یونیورسٹی۔ تصویر: آئی این این

ہیومنائز اے آئی (HumanizeAI) کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، ہندوستان دنیا میں ارب پتی پیدا کرنے والی یونیورسٹیوں کا تیسرا سب سے بڑا مرکز بن گیا ہے۔ ملک کے ۲۹ تعلیمی اداروں سے ایسے طلبہ گریجویٹ ہوئے جو آگے چل کر ارب پتی بنے۔ فوربس (Forbes) کے ۲۰۲۶ء کے ارب پتیوں کے اعداد و شمار پر مبنی اس تحقیق میں پایا گیا کہ ارب پتی گریجویٹس سے وابستہ یونیورسٹیوں کی تعداد کے لحاظ سے ہندوستان صرف امریکہ اور چین سے پیچھے ہے۔

رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ یونیورسٹی آف ممبئی (ممبئی یونیورسٹی) سب سے زیادہ ارب پتی سابق طلبہ کی حامل دنیا کے سرفہرست ۱۰ تعلیمی اداروں میں شامل ہوگئی ہے۔ ممبئی یونیورسٹی نے اس فہرست میں عالمی سطح پر دسواں مقام حاصل کیا ہے اور اس کا نام ہارورڈ یونیورسٹی، اسٹینفورڈ یونیورسٹی، میساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور ییل یونیورسٹی جیسے نامور اداروں کے ساتھ درج کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق، ممبئی یونیورسٹی سے اب تک ۳۱ ارب پتی سابق طلبہ پیدا کئے ہیں جن کی مجموعی دولت تقریباً ۶ء۲۳۲ ارب ڈالر ہے۔ ان ارب پتی سابق طلبہ کی اوسط دولت کا تخمینہ تقریباً ۵ء۷ بلین ڈالر فی کس لگایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ہند نژاد طالب علم نے اسکرپس نیشنل اسپیلنگ بی جیت لیا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممبئی یونیورسٹی کے گریجویٹ ارب پتی افراد، بڑے پیمانے پر خاندانی ملکیت والے کاروباری گروپس اور بانیوں کی قیادت میں چلنے والی کمپنیوں سے جڑے ہوئے ہیں جو توانائی، ٹیلی کام، ریٹیل اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔ ممبئی یونیورسٹی کے ممتاز ارب پتی سابق طلبہ میں مکیش امبانی، کمل منگلم برلا اور رادھا کشن دمانی شامل ہیں۔

تحقیق میں نوٹ کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں ارب پتی پیدا کرنے کا ماڈل امریکہ اور چین سے مختلف ہے۔ امریکی یونیورسٹیوں سے وابستہ ارب پتی اسٹارٹ اپس، وینچر کیپیٹل اور مالیاتی منڈیوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور چینی اداروں سے گریجویٹ ہونے والے ارب پتی افراد فن ٹیک اور ای کامرس کے شعبوں سے منسلک ہیں، جبکہ ہندوستان کے ارب پتی افراد اب بھی بڑے پیمانے پر طویل عرصے سے قائم بڑے صنعتی گروپس، صنعتی کاروباروں، انفراسٹرکچر اور خاندانی انتظام کے تحت چلنے والے اداروں سے جڑے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی سطح پر سی ای اوز کی تنخواہوں میں ریکارڈ اضافہ،عام ملازمین سے فرق مزید بڑھا

ممبئی یونیورسٹی کے علاوہ، اس فہرست میں دیگر ممتاز ہندوستانی ادارے جیسے دہلی یونیورسٹی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی دہلی، راجستھان یونیورسٹی، کلکتہ یونیورسٹی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بامبے بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ہیومنائز اے آئی نے مارچ ۲۰۲۶ء تک کے فوربس کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر کے ۳۱۸۴ ارب پتیوں کا تجزیہ کیا۔ زیرِ بحث ارب پتیوں میں سے ۹۱ء۷۸ فیصد افراد کے تعلیمی ریکارڈز دستیاب تھے، جبکہ ۰۹ء۲۱ فیصد ارب پتیوں کے بارے میں معلومات نامکمل تھیں یا دستیاب نہیں تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی پایا گیا کہ عالمی سطح پر ارب پتی گریجویٹس، اب بھی چند مخصوص اداروں تک ہی محدود ہے۔ تجزیہ کئے گئے تمام ارب پتیوں میں سے تقریباً ۳۸ء۴۵ فیصد دنیا بھر کی صرف ۱۰۰ یونیورسٹیوں سے گریجویٹ ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK