Inquilab Logo Happiest Places to Work

یو این کا اسرائیل پر جنسی تشدد روکنے کے اقدامات سے متعلق ثبوت نہ دینے کا الزام

Updated: May 30, 2026, 10:04 PM IST | New york

اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کے خلاف مبینہ جنسی تشدد کے معاملات پر اسرائیل کی شدید تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تل ابیب ایسے شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہا جو یہ ثابت کر سکیں کہ اس نے ان واقعات کی روک تھام یا ذمہ داروں کے احتساب کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ پرامیلا پیٹن نے انکشاف کیا کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران اسرائیلی حکام سے متعدد بار معلومات طلب کی گئیں، تاہم انہیں حفاظتی اقدامات، تحقیقات یا جوابدہی کے نظام سے متعلق کوئی تسلی بخش جواب موصول نہیں ہوا۔

Photo : X
تصویر: ایکس

فلسطینی علاقوں میں جاری جنگ اور انسانی حقوق کی صورتحال کے تناظر میں اسرائیل اور اقوام متحدہ کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے فلسطینیوں کے خلاف مبینہ جنسی تشدد کے واقعات پر اسرائیل کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت ایسے شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے جو یہ ظاہر کریں کہ اس نے ان واقعات کی روک تھام، تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے تنازعات سے متعلق جنسی تشدد پرامیلا پیٹن نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال کے دوران اسرائیل سے بارہا رابطہ کیا اور معلومات طلب کیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مبینہ خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اگست ۲۰۲۵ء میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا تھا کہ اگر مطلوبہ معیارات پورے نہ کیے گئے تو اسے تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : آبنائے ہرمز نہ کھلی توایندھن کے بحران کا خطرہ: آئی ایم ایف،ورلڈ بینک کا انتباہ

پیٹن نے بتایا کہ ۱۱؍ اگست ۲۰۲۵ء کو اسرائیل کو بھیجے گئے خط میں واضح طور پر ان اقدامات کی نشاندہی کی گئی تھی جنہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اختیار کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ان میں فوجی اور سیکوریٹی اہلکاروں کے لیے واضح احکامات، متاثرین تک رسائی، آزاد نگرانی کے نظام، تحقیقات اور جوابدہی کے مؤثر طریقہ کار شامل تھے۔ ان کے مطابق، ’’میں نے متعدد مرتبہ تحریری طور پر اور مختلف ملاقاتوں کے دوران اسرائیلی حکام سے حفاظتی اقدامات، کمانڈ احکامات، رسائی کے طریقہ کار اور احتسابی اقدامات سے متعلق تفصیلات طلب کیں، لیکن مجھے کوئی خاطر خواہ جواب موصول نہیں ہوا۔‘‘ اقوام متحدہ کی نمائندہ نے کہا کہ سیکریٹری جنرل کے خط میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ فہرست سازی کے فیصلے میں صرف بیانات نہیں بلکہ زمینی سطح پر اٹھائے گئے عملی اقدامات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ جنسی تشدد کے واقعات کا فوری خاتمہ اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کو بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرنا بھی بنیادی شرائط میں شامل تھا۔

یہ بھی پڑھئے : نیدر لینڈز میں مسجد پر حملہ، شکایت درج، فوری تحقیقات کا مطالبہ

پیٹن کے مطابق اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینن نے اگلے ہی روز اقوام متحدہ کے مؤقف کو مسترد کر دیا تھا اور بعد میں بھی اسرائیلی حکومت نے زیادہ تر قانونی دستاویزات، پالیسی گائیڈ لائنز اور داخلی قواعد و ضوابط ہی فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے پیش کی گئی معلومات میں اسرائیلی جیل سروس، پولیس اور دفاعی اداروں کے ضابطے تو شامل تھے، تاہم ان ضوابط پر عملی عمل درآمد یا ان کی مؤثریت سے متعلق کوئی واضح شواہد موجود نہیں تھے۔ اسی طرح چند ایسے معاملات کا ذکر ضرور کیا گیا جن میں ابتدائی جانچ پڑتال ہوئی، لیکن کوئی ایسا کیس سامنے نہیں آیا جو باقاعدہ مجرمانہ تحقیقات یا قانونی کارروائی تک پہنچا ہو۔
پیٹن نے مزید کہا کہ ’’جو معلومات فراہم کی گئیں ان میں احتساب کے حوالے سے کوئی ٹھوس مثال موجود نہیں تھی۔‘‘ یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اسرائیل نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے اجراء سے ایک روز قبل اعلان کیا کہ وہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے دفتر کے ساتھ اپنے روابط منقطع کر رہا ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ کے الزامات غیر منصفانہ اور سیاسی نوعیت کے ہیں۔ اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے نمائندوں کو ملک کا دورہ کرنے اور الزامات کی تحقیقات کرنے کی دعوت دی تھی، لیکن ان نمائندوں نے آنے سے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق، ’’ہم نے اقوام متحدہ کے نمائندوں کو اسرائیل آنے کی دعوت دی تاکہ وہ ان الزامات کی جانچ کر سکیں، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے : وہائٹ ہاؤس کی نئی امیگریشن ویب سائٹ، غیر ملکیوں کو ’’ایلین‘‘ کہنے پر تنازع

تاہم پرامیلا پیٹن نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ صرف دورے کا نہیں تھا بلکہ بنیادی ضرورت یہ تھی کہ اسرائیل اقوام متحدہ کی جانب سے طلب کردہ معلومات اور شواہد فراہم کرتا۔ ان کے مطابق، ان کے دفتر تک رسائی یا رسمی ملاقاتیں اس وقت تک مسئلے کا حل نہیں بن سکتیں جب تک متعلقہ ادارے مطلوبہ معلومات فراہم نہ کریں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں جاری جنگ کے دوران انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں، شہری ہلاکتوں اور انسانی بحران پر عالمی سطح پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں اسرائیل کو پہلی بار تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے حوالے سے اپنی نگرانی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جسے اسرائیلی حکومت نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK