جے پور کے شاہی خاندان کا تاج محل کی زمین پر مالکانہ حقوق کا دعویٰ

Updated: May 13, 2022, 1:01 PM IST | Agency | Mumbai

راجستھان کے شاہی خاندان کی رکن اور بی جے پی ایم پی دیا کماری نے کہا تاج محل کے بند کمرے کھولے جانے چاہئیں،دعویٰ کیا کہ شاہجہاں نے شاہی خاندان کی زمین پر قبضہ کیا تھا

 In the name of patriotism, those who tamper with the historical heritage of the country have a long view of the Taj Mahal..Picture:INN
دیش بھکتی کے نام پر ملک کے تاریخی ورثے کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے والوں کی تاج محل پر بہت پہلےسے نظر ہے ۔ تصویر: آئی این این

:دنیا کے سات عجوبوں میں سے ایک تاج محل پر تمام دعوؤں کے درمیان جے پور کے شاہی خاندان نےبھی اپنا دعویٰ کردیا ہے۔رائل فیملی کاکہنا ہےکہ  تاج محل ان کی ملکیت ہے۔ شاہی خاندان کی رکن اور بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ دِیا کماری نے کہا کہ اس جگہ ہمارا ایک محل تھا۔یہ اچھی بات ہے کہ کسی نے تاج محل کے دروازے کھولنے کی اپیل کی ہے، سچ سامنے آئے گا۔اب ہم اس معاملے کی نگرانی کررہے ہیں۔  دِیا کماری نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایسی دستاویزات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تاج محل جے پور کے پرانے شاہی خاندان کا محل ہوا کرتا تھا، جس پر شاہ جہاں نے قبضہ کیا تھا۔ جب شاہ جہاں نے جے پور خاندان کا محل اور زمین لے لی تو خاندان اس کی مخالفت نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ اس وقت ان کی حکومت تھی۔
اس وقت اپیل نہیں کر سکتے تھے
 دیا کماری نے کہا کہ `آج بھی اگر حکومت کوئی زمین حاصل کرتی ہے تو اس کے بدلے میں معاوضہ دیتی ہے۔ میں نے سنا ہے کہ اسے بدلے میں معاوضہ دیا گیا تھا، لیکن اس وقت اس کے خلاف اپیل کرنے یا اس کے خلاف کچھ اقدام کرنے  کا کوئی قانون نہیں تھا۔ اب اچھا ہوا کہ کسی نے آواز اٹھائی اور عدالت میں عرضی دائر کی۔غور طلب ہے کہ جب ایودھیا تنازع کے دوران رام  کے وارثوں کو لے کر مسئلہ کھڑا ہوا تھا، تب بھی جے پور کے شاہی خاندان کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ رام  کی نسل سے ہیں۔اس کیلئے وہ عدالت میں بھی گواہی دینے کیلئے تیار ہیں۔
بند کمرے کھولے جائیں
 ایم پی دیا کماری نے کہا’’ `میں یہ نہیں کہوں گی کہ تاج محل کو منہدم کردیا جائے لیکن اس کے کمرے کھول دیے جائیں۔ تاج محل کے کچھ کمرے بند ہیں۔ کچھ حصے وہاں طویل عرصے سے بند ہیں۔ اس کی دریافت اور کھولنا ضروری ہے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہاں کیا تھا اور کیا نہیں۔ وہ تمام حقائق اس وقت سامنے آئیں گے جب اس کی مناسب تفتیش ہو گی۔‘‘اس سوال پر کہ کیا جے پور کے سابق شاہی خاندان کی جانب سے بھی عدالت میں درخواست دائر کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ ہم ابھی اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم جائزہ لیں گے کہ کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
’ٹرسٹ کی لائبریری میں دستاویزات موجود  ہیں‘
 دِیا کماری نے کہا کہ `اگر دستاویزات کی ضرورت ہے تو جے پور کے سابق شاہی خاندان کے ٹرسٹ میں ہماری لائبریری بھی ہے۔ اگر عدالت حکم دے تو ہم دستاویزات دیں گے۔ ہمارے پاس موجود دستاویزات میں واضح ہے کہ شاہ جہاں نے اس وقت یہ محل پسند کیا  اور اسے حاصل کر لیا۔اس سوال پر کہ کیا وہاں کوئی مندر تھا،  دیا کماری نے کہا کہ میں نے ابھی تک تمام دستاویزات نہیں دیکھی ہیں لیکن وہ جائیداد ہمارے خاندان کی تھی۔
کیا ہے تاج محل تنازع؟
 ایودھیا کے بی جے پی لیڈر ڈاکٹر رجنیش سنگھ نے تاج محل  کے تعلق سے  الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ میں عرضی داخل کی ہے۔ ڈاکٹر سنگھ نے اپنی درخواست میںمحکمہ آثار قدیمہ (اے ایس آئی) سے تاج محل کے۲۲؍ کمروں کو کھول کر سروے کرانے کا مطالبہ کیا ہے جو کافی عرصے سے بند ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ تاج محل میں ہندو دیوی دیوتاؤں کے مجسمے اور نوشتہ جات ہوسکتے ہیں۔ سروے کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ تاج محل میں ہندو مورتیاں ہیں یا نہیں؟
شاہ جہاں نے مہاراجہ سے زبردستی زمین بیچنے کو کہا تھا؟
 بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی بھی۲۰۱۷ء  میں ایسا ہی بیان دے چکے ہیں۔ سوامی نے کہا تھا کہ ہم تاج محل کے دستاویزات تک پہنچ گئے ہیں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ شاہ جہاں نے زبردستی جے پور کے راجہ مہاراجہ سے کہا کہ وہ وہ زمین بیچ دیں جہاں تاج محل بنایا گیا تھا۔ شاہ جہاں نے انہیں۴۰؍ گاؤں معاوضے کے  طورپر دئیے تھے جو تاج محل کی زمین کی قیمت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھے۔ واضح رہےکہ اس سے  پہلے تاج محل کے شیو مندر اور تیجومہالیہ ہونے کے بھی دعوے کئے گئے ہیں۔

taj mahal Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK