صرف باتیں بنانے والی مودی سرکار نے مزدوروں کا جینا مشکل کردیا ہے

Updated: November 21, 2020, 3:16 AM IST | New Delhi

راہل گاندھی نے منریگا مزدوروں کا معاملہ اٹھایا، کہاکہ انہیں اپنے پیسے نکالنے میں بھی سخت دشواری آرہی ہے۔

Rahul Gandhi Photo: INN
راہل گاندھی۔ تصویر: آئی این این

 لاک ڈاؤن کی وجہ سے پہلے ہی سے پریشان مزدور طبقہ پر ایک اور مار پڑی ہے ۔ انہیں بینک سے اپنا پیسہ نکالنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ میڈیا میں اس تعلق سے رپورٹس آنے کے بعد راہل گاندھی نے مرکز پر سخت تنقید کی ہے۔ رپورٹ میں ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ منریگا کے یومیہ مزدور اپنی جمع رقم نکالنے کے لئے بینکوں کے چکر لگا رہے ہیں ۔ اس خبر پر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نئے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔کانگریس لیڈرمودی سرکار پر نشانہ لگاتے ہوئے ٹویٹر پر لکھاکہ ’’پہلے ڈکٹیٹر شپ کے انداز میں لاک ڈاؤن سے کروڑوں مزدوروں کو سڑک پر لے آئے پھر ان کے واحد سہارے منریگا کی کمائی کو بینک سے نکالنا دشوار بنا دیا۔ صرف باتوں کی ہے مودی سرکار، کچل رہی غریبوں کے ادھیکار۔‘‘راہل گاندھی نے ٹویٹ کے ساتھ ایک اخبار کی رپورٹ کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منریگا کے تحت۲۰۲؍ روپے کی یومیہ مزدوری پر کام کرنے والے مزدوروں کو اپنی رقم نکالنے کے لئے بینکوں کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں ۔ لِب ٹیک انڈیا کی جانب سے کئے گئے اس سروے کے مطابق ۴۵؍ فیصد منریگا کے مزدرور ایسے ہیں جنہیں اپنی رقم نکالنے کے لئے بینکوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ۔ ان میں سے ۴۰؍ فیصد مزدور ایسے ہیں جنہیں بایومیٹرک میچ نہ کرنے کی وجہ سے کئی بار بینک اور ڈاک خانہ سے خالی ہاتھ گھر واپس لوٹنا پڑتا ہے۔رپورٹ کے مطابق معمولی کمائی کی رقم کو حاصل کرنے کے لئے مزدوروں کو اپنی جیب کے پیسے بھی گنوا نے پڑتے ہیں ۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ منریگا کے مزدوروں کی یہ حالت اس وقت ہے جب مرکزی حکومت کی جانب سے مزدوروں کو فوری ادائیگی کا دعوی کیا جا رہا ہے۔ ایسے دعوے کر کے حکومت واہ وہی بھی لوٹتی رہی ہے، لیکن زمینی حقیقت ان دعووں کے برعکس ہے۔ اسی لئے ہمیں کہنا پڑ رہا ہے کہ مودی سرکار صرف باتیں بنانا جانتی ہے ، اسے کام کرنا نہیں آتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK