وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ حملے روکنے کیلئے کس نوعیت کا معاہدہ ممکن ہے۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 3:52 PM IST | Agency | Sanaa
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ حملے روکنے کیلئے کس نوعیت کا معاہدہ ممکن ہے۔
یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کو پیشکش کی ہے کہ اگر ریاض حملے روکنے کا معاہدہ چاہتا ہے تو اسے ۵۱؍ ارب ڈالر ادا کرنے کیساتھ حوثیوں کو یمن کی حکمراںقوت کے طور پر باضابطہ تسلیم کرنا ہوگا۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے مذاکرات سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب نے حوثیوں سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ حملے روکنے کے لیے کس نوعیت کا معاہدہ ممکن ہوسکتا ہے۔یہ رابطہ حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں پر حملوں اور باب المندب آبنائے کے قریب اہم علاقوں پر قبضے کے بعد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں کا کہنا تھا کہ ۵۱؍ ارب ڈالر کا مطالبہ سعودی فضائی حملوں اور طویل ناکہ بندی سے ہونے والے نقصان کے ازالے کیلئے ہے۔ بعد میں مختلف مالی مطالبات بھی سامنے آئے، تاہم حوثیوں کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ تنازعہ سے نکلنے کے لیے سعودی عرب کو دسیوں ارب ڈالر خرچ کرنے ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق رواں موسم گرما میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرگئی، جس کے دوران حوثیوں نے سعودی تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا اور یمن میں مزید اہم علاقوں پر قبضہ کیا۔حوثی اب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مرکز عدن سے تقریباً ۵۰؍میل کے فاصلے تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تعلیمی بجٹ میں کٹوتی، ڈنمارک میں طلبہ سڑکوں پر
یہ ۲۰۱۵ء کے بعد ان کی عدن کے قریب ترین پیش قدمی بتائی گئی ہے۔تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے اے سی ایل ای ڈی کی سینئر تجزیہ کار کے مطابق اکتوبر میں حوثیوں نے تقریباً روزانہ سعودی عرب پر حملے کیے، جن میں شہری ہوائی اڈوں اور سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ادارے کے مطابق حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے اندر حملوں کے ۲۶؍ واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ادھر یمن کے صوبے شبوا میں حوثیوں کے ایک حملے میں کم از کم ۷۵؍ افراد ہلاک اور ۲۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ خانہ جنگی دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتوں والا واقعہ تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں ماہرین نے کہا کہ حوثیوں کے خلاف مزید زمینی فوج بھیجنا سعودی عرب کیلئے ایک مشکل فیصلہ ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان مبینہ طور پر میدانِ جنگ میں مزید پیش رفت کے بغیر مکمل مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، تاہم اضافی فوجی کارروائیوں میں جانی نقصان اور اندرونِ ملک ردعمل کا خدشہ بھی موجود ہے۔ماہرین کے مطابق حوثیوں کی مضبوط زمینی پوزیشن اور سعودی شہری و توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔ایک امریکی فوجی ماہر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سعودی عرب کو ایران، عراق کی ملیشیاؤں اور حوثیوں کی جانب سے ممکنہ خطرات کے مقابلے کیلئے اپنے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام سمیت دیگر فضائی دفاعی وسائل استعمال کرنے پڑ رہے ہیں۔