امریکہ اور چین کے درمیان چپقلش دنیا کے بدلتے ہوئے نظام میں غلبے کی لڑائی ہے

Updated: June 27, 2020, 3:55 AM IST | Washington

کبھی ایک دوسرے سے دوستی کی کوشش تو کبھی ایک دوسرے پر تنقید، دنیا کے سب سے طاقتور ممالک کے درمیان جاری آنکھ مچولی کا کھیل دیگر ممالک پر بھی اثر ڈالے گا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ اس کا مظہر ہے۔ا بھی ۱۷؍ جون کی بات ہے کہ امریکہ اور چین کے دو اعلیٰ ٰسفارتکاروں کے درمیان ملاقات ہوئی، لیکن ان کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی گئی۔

Xi Jinping and Donald Trump. Photo: INN
شی جن پنگ اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ اس کا مظہر ہے۔ا بھی ۱۷؍ جون کی بات ہے کہ امریکہ اور چین کے دو اعلیٰ ٰسفارتکاروں کے درمیان ملاقات ہوئی، لیکن ان کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی گئی کہ اس کی کوئی تصویر جاری کی جاتی۔ اس ملاقات کی خواہش چین نے ظاہر کی تھی اور یہ ایسے وقت میں ہوئی تھی جب دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر بتائی جاتی ہے۔ امریکہ کورونا وائرس کے حوالے سے چین پر الزام لگاتا آیا ہے اس نے اس وائرس سے نمٹنے میں کوتاہی سے کام لیا اور مبینہ طور پر صحیح اور بروقت معلومات مہیا نہیں کیں ۔ چین پر امریکہ کی نکتہ چینی صرف اسی مسئلے تک محدود نہیں ہے بلکہ صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ ریلی میں ہانگ کانگ میں چین کی کارروائیوں پربھی نکتہ چینی کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ان تازہ ترین اقدامات کا حصہ ہے، جن سے ہانگ کانگ کی دیرینہ اور قابل افتخار حیثیت مجروح ہورہی ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق ۱۷؍ جون کو ہوائی میں امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور ان کے چینی ہم منصب یانگ چو کے درمیان ہونے والی ملاقات کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔اس ملاقات کو ابھی دو دن ہی گزرے تھے کہ پومپیو نے کوپن ہیگن میں ایک اجلاس میں چین کے عزائم پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے ایک ایسی سائبر مہم چلا رکھی ہے جس کا مقصد امریکہ اور یورپ کے درمیان تعلقات میں دراڑیں پیدا کرنا ہے۔
 پومپیو نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ چین ترقی پذیر ملکوں کو قرضوں میں جکڑ رہا ہے اور انھیں محتاج بنا رہا ہے۔ ان کے الفاظ میں چین کے سرکاری اداروں کی جانب سے کسی بھی بیرونی سرمایہ کاری پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی ایک بریفنگ میں ترجمان نے پومپیو پر الزام لگایا کہ وہ چین اور دوسرے ملکوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔چین نے کہا کہ پومپیو نے ایک مرتبہ پھر چین پر بے بنیاد الزامات لگائے ہیں ۔چین نے یہ بھی کہا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ، بلکہ اس سے سرد جنگ کی ذہنیت اور نظریاتی تعصبات مزید آشکار ہوتے ہیں ۔
 تجزیہ کاروں کے مطابق، جنوبی بحیرہ چین سے لے کر ہندوستانی سرحد تک چین اپنی فوجی قوت کا مظاہرہ کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتا ہےجو واشنگٹن کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ صورتحال بدلتے ہوئے بین الاقوامی تناظر میں ، جب طاقت کے محور بدلتے نظر آتے ہیں ، اپنے اپنے مفادات کے تحفظ اور انھیں آگے بڑھانے کی کوششوں کی عکاس ہے۔ تاہم، یہ پتا نہیں کہ آخر یہ ہمیں کہاں لے جائے گی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK