امریکہ اس سال کے آخر تک عراق سےتمام فوج واپس بلالے گا

Updated: November 23, 2021, 10:00 AM IST | Baghdad

وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کی ’منامہ فورم ‘ میں شرکت اور عراقی ہم منصب سے ملاقات ، فوج کے انخلا کا وعدہ دہرایا

US Secretary of Defense Lloyd Austin
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن

 امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ اس سال کے آخر تک عراق میں موجود تمام فوجیوں کوواپس بلالیا جائے گا اوراس ضمن میں امریکہ  اپنے وعدے پرعمل درآمد کیلئے پُرعزم ہے۔لائیڈ آسٹن نے بحرین میں سالانہ منامہ سکیورٹی ڈائیلاگ کے موقع پرعراقی وزیر دفاع جمعہ الجبوری سے ملاقات کی  اور ان سے عراق کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کی جانب سے عراق کی  حمایت کا اعادہ کیا ۔
 انھوں نے کہا کہ عراق میں امریکہ کا اشتراک عراقی سیکوریٹی فورس کے ساتھ انٹیلی جنس، مشورے اور معاونت پر مشتمل ہوگا۔آسٹن نے اکتوبرمیں عراق میں عام انتخابات کے انعقاد پرجمعہ الجبوری کو مبارک باد دی اور رواں ماہ کے اوائل میں وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی پرقاتلانہ حملے کی مذمت کی ۔قبل ازیں منامہ فورم میں لائیڈ آسٹن نے اپنی تقریرمیں مشرق وسطیٰ میں اتحادیوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ چین کے ساتھ کشیدگی پر بڑھتی ہوئی توجہ کے باوجود امریکہ خطے کی سلامتی کیلئے پُرعزم ہے۔آسٹن نے واضح کیا کہ مشرق  وسطیٰ میں سلامتی کے حوالے سے امریکہ کا عزم مضبوط اور یقینی ہے۔
 خلیجی ممالک نے حال ہی میں امریکہ کے بالخصوص افغانستان سے انخلا کے بعد خطے میں صدربائیڈن کی عدم توجہ کے بارے میں غیریقینی رویے کااظہارکیا ہے۔اب وہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدے کی بحالی کیلئے مذاکرات پرگہری نظررکھے ہوئے ہیں۔آسٹن کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کا مقابلہ کرنے کیلئے پرعزم ہے جبکہ وہ ۲۰۱۵ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی بحالی کیلئے بھی کام کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم جوہری مسئلے کے سفارتی حل کیلئے پرعزم ہیں۔اگرایران سنجیدگی سے مذاکرات پرآمادہ نہیں ہو  تو  ہم امریکہ کومحفوظ رکھنے کیلئے تمام ضروری اختیارات پرغورکریں گے۔
  پنٹاگون کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ  جوہری سمجھوتے کی بحالی کیلئے ۲۹؍ نومبر سے ویانا میں شروع ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں نیک نیتی سے شرکت کرے گا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں ایران کے اقدامات حوصلہ افزا نہیں رہے ہیں۔بالخصوص ایران نے جوہری پروگرام میں توسیع کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ خلیجی ریاستیں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے رویے سے نمٹنے کیلئے بھی ایک نئے معاہدے کا مطالبہ کررہی ہیں۔
 اگرچہ امریکی انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ سے توجہ ہٹاکربحرالکاہل کی طرف مرکوز کرنےکی کوشش کی ہے لیکن صدرجو بائیڈن نے اگست میں افغانستان میں ایک طویل امریکی جنگ کا خاتمہ کیا تھا اور وہاں سے تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا۔سعودی انٹیلی جنس سروس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے منامہ سیکوریٹی فورم میں امریکہ کی زبانی یقین دہانیوں کا خیرمقدم کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس ے ساتھ’’عملی اقدامات اتنے ہی اہم ہیں‘‘۔انھوں نے یمن میں ایران کے اتحادی حوثیوں کواسلحہ کے حصول سے روکنے کی ضرورت پرزوردیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK