Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ نرم، نیتن یاہو سخت، ایران شرائط پرقائم ، عالمی صف بندیاں واضح

Updated: March 31, 2026, 9:04 PM IST | Washington

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اب ایک اہم سیاسی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں مختلف عالمی لیڈروں کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ مؤقف تقسیم ہو چکے ہیں۔نیتن یاہو نے سخت موقف اپنایا، ایرانی صدر نے شرائط رکھی، جبکہ ٹرمپ نے جنگ ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اسی دوران یوکرین نے اس جنگ کو روس کیلئے فائدہ مند قرار دیا۔

A view of the destruction caused in Israel by Iranian attacks. Photo: X
ایرانی حملوں سے اسرائیل میں ہونے والی تباہی کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

(۱) نیتن یاہو کا دوٹوک مؤقف، ’’ایران معاہدہ بھی لبنان جنگ ختم نہیں کرے گا‘‘
اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی معاہدہ بھی ہو جاتا ہے تو اس سے لبنان میں جاری جنگ ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنی سیکوریٹی کو کسی بھی معاہدے کے تابع نہیں کریں گے۔‘‘ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل اپنی علاقائی حکمت عملی کو امریکہ ایران مذاکرات سے الگ رکھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران پرجلدگفتگو کی اُمید مگر زمینی حملے کا اندیشہ شدید تر

(۲) ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کا بیان، جنگ کے خاتمے کیلئے شرائط
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے کیلئے کسی بھی فیصلے میں ایرانی عوام کے مفادات اور سیکوریٹی کی مکمل ضمانت ضروری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’’کوئی بھی فیصلہ عوام کے مفادات کے تحفظ کے بغیر قبول نہیں ہوگا۔‘‘ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ایران مذاکرات کیلئے تیار تو ہے لیکن سخت شرائط کے ساتھ۔

(۳) ٹرمپ کا مؤقف نرم، ہرمز بند ہونے کے باوجود جنگ ختم کرنے پر آمادگی
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کیلئے تیار ہیں، حتیٰ کہ اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال نہ بھی ہو۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ ترجیح ہے، چاہے کچھ اسٹریٹیجک نقصانات برداشت کرنے پڑیں۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ جنگ کے طویل ہونے سے بچنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران نے امریکہ سے براہ راست مذاکرات کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا

(۴) عالمی منظرنامہ تبدیل، یوکرین کا بیان، عرب ممالک کا ردعمل
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکینے کہا ہے کہ ایران جنگ جتنی طویل ہوگی، اس سے روس کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ صورتحال روس کیلئے اسٹریٹیجک موقع پیدا کر رہی ہے۔‘‘ اسی دوران متعدد عرب اور اسلامی ممالک نے مشترکہ ردعمل میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جنگ اب صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK