Inquilab Logo

۱۶؍ اراکین کو ناہل قرار دینے کے معاملے میں ہلچل شروع ، نارویکر دہلی روانہ

Updated: September 22, 2023, 9:51 AM IST

جلد ہی ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے کو سماعت کیلئے طلب کرنے کا امکان ، سنجے رائوت نے کہا ’’ مردے میں جان نہیں پھونکی جا سکتی قانون اور سائنس کی بھی حد ہے ‘‘

Rahul Narvekar with Devendra Farnavis and Eknath Shinde (file photo)
راہل نارویکر دیویندر فرنویس اور ایکناتھ شندے کے ساتھ ( فائل فوٹو)

سپریم کورٹ کی جانب سے شیوسینا کے  ۱۶؍ باغی اراکین کی رکنیت کالعدم قرار دینے  کے تعلق سے اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر کی سرزنش کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچی ہوئی ہے۔ جمعرات کو راہل نارویکر اچانک دہلی روانہ ہوئے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر ایک ایسے وقت میں جب عدالت نے انہیں  ایک ہفتے کے اندراس تعلق سے سماعت کرنے کا حکم سنایا ہے۔ وہ دہلی کیا کرنے گئے ہیں؟ اس تعلق سے اسمبلی کی راہداریوں میں چہ میگوئیاں جاری ہیں۔ 
  شندے گروپ کے ترجمان سنجے شرساٹ کا کہنا ہے کہ ’’ سپریم کورٹ میں جس وکیل نے ہماری جانب سے پیروی کی تھی۔ ان سے گفتگو کرنا بے حد ضروری ہے۔ نیز سپریم کورٹ نے اصل میں کیا حکم دیا ہے اسے سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اسی لئے راہل نارویکر دہلی گئے ہیں۔‘‘  انہوں نےکہا ’’ عدالت نے سماعت کیلئےکوئی مدت مقرر نہیں کی ہے ، صرف اسے تھوڑا تیز رفتار سے کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قواعد کو بالائے طاق رکھ کر کام کرنے کیلئے کہا ہے۔  اس لئے قواعد کے مطابق ہی کارروائی ہوگی۔ اسی تعلق سے دہلی میں گفتگو ہو گی۔‘‘  سنجے شرساٹ کا کہنا ہے کہ ’’ عدالت کےا پنے اختیارات ہیں اور اسمبلی اسپیکر کے اپنے اختیارات ہیں۔ یہ دونوں ہی آئینی عہدے ہیں ۔ ایسی صورت میں ان دونوں کے اختیارات پر ضرب تو نہیں آ رہی ہے۔  یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے بھی راہل نارویکر دہلی گئے ہیں۔  
  میڈیا رپورٹ کے مطابق راہل نارویکر نے  بدھ کو دن بھر قانون کے ماہرین سے اس معاملے میں رائے مشورہ کیا۔ اس کے بعد یہ طے کیا گیا کہ جلد ہی موجودہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے، اور سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو نوٹس جاری کیا جائے گا۔ اور یہ نوٹس فوری طور پر جاری کیا جائے گا تاکہ انہیں جلد از جلد سماعت کیلئے طلب کیا جا سکے۔ یہ سماعت ۳؍ اکتوبر سے قبل ہو سکتی ہے کیونکہ عدالت میں ۳؍ اکتوبر کو  اگلی سماعت ہونے والی ہے۔ 
 حکومت گر جائے گی؟
 یاد رہے کہ جن ۱۶؍ اراکین نے ادھو ٹھاکرے سے بغاوت کرکے ان کی حکومت گرائی تھی اور سب سے پہلے سورت جا کر رکے تھے۔  ادھو ٹھاکرے نے ان کی رکنیت کالعدم قرار دینے کی درخواست  اسمبلی اسپیکر سے کی تھی لیکن  انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اگر یہ درخواست قبول ہو جاتی تو  ادھو ٹھاکرے کی حکومت نہیں گرتی اور ایکناتھ شندے کبھی وزیر اعلیٰ نہیں بنتے کیونکہ ان ۱۶؍ اراکین میں ایکناتھ شندے کا نام بھی شامل ہے ۔ اب اگر عدالت کی ہدایت کے بعد راہل نارویکر معاملے کی سماعت کرنے کے بعد ان ۱۶؍ اراکین کو  نا اہل قرار دیتے ہیں تو  موجودہ حکومت فوراً گر جائے گی کیونکہ ایکناتھ شندے خود بھی نا اہل قرار دیئے جائیں گے۔  اسی خدشے کے تحت بی جے پی نے این سی پی میں پھوٹ ڈلوا کر اجیت پوار اور ان کے ساتھیوں کو حکومت میں شامل کروایا ہے۔   اگر اجیت پوار کا گروپ ساتھ نہ ہو تو حکومت ختم ہو جاتی لیکن اب صرف یہ ہوگا کہ  ایکناتھ شندے وزیر اعلیٰ نہیں رہیں گے اور ان کے دیگر ۱۵؍ ساتھی رکن اسمبلی نہیں رہیں گے۔ ایسی صورت میں بی جے پی کا آئندہ قدم کیا ہوگا یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ 
   میڈیا نے جب بی جے پی کے ریاستی صدر چندر شیکھر باونکولے سے اس معاملے میں سوال کیا تو انہوں نےکہا ’’ مجھے اس تعلق سے کوئی معلومات نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ریاست میں کھلبلی مچانے کیلئے کسی نے بے سر پیر کی اڑائی ہے۔‘‘ البتہ راہل نارویکر کے دہلی جانے کے تعلق سے انہوں نے کہا’’ عدالت ۱۶؍ اراکین کی رکنیت کے تعلق سے فیصلہ کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ ممکن ہے وہ اس معاملے میں آئینی اور قانونی باریکیوں پر  ماہرین کی رائے معلوم کرنے کیلئے دہلی گئے ہوں۔‘‘  
 ادھر شیوسینا ( ادھو) کے ترجمان سنجے رائوت نے کہا ہے کہ ’’ اس معاملے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہے کہ ایکناتھ شندے اور ان کے ۱۶؍ ساتھیوں کی رکنیت کالعدم قرار دی جائے گی۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ مردے میں کتنی ہی جان پھونکنے کی کوشش کی جائے لیکن سائنس اور قانون ان کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ راہل نارویکر کو ان اراکین کو نا اہل قراردینا ہی ہوگا ورنہ پارلیمانی تاریخ میں ان کا نام سیاہ الفاظ میں لکھا جائے گا  ۔ یہ بات انہیں بھی معلوم ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK