میکسیکو کی صدر نے کہا کہ’’ امریکہ نے صرف بدنام زمانہ منشیات مافیا کے تعلق سے خفیہ معلومات فراہم کی تھیں، کارروائی ہماری فورس نے کی‘‘
EPAPER
Updated: February 24, 2026, 11:28 PM IST | m
میکسیکو کی صدر نے کہا کہ’’ امریکہ نے صرف بدنام زمانہ منشیات مافیا کے تعلق سے خفیہ معلومات فراہم کی تھیں، کارروائی ہماری فورس نے کی‘‘
میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شینبام نے پیر کو کہا کہ طاقتور جالیسکو نیو جنریشن کارٹل کے لیڈر کی ہلاکت کا سبب بننے والے فوجی آپریشن میں امریکہ براہِ راست شامل نہیں تھا اور اس نے حکومت کو صرف انٹیلی جنس فراہم کی تھی۔ یاد رہے کہ نیمیسیو اوسیگرا سیروانتس، جسےایل مینچو کے نام سے جانا جاتا تھا، اتوار کو میکسیکو کی ریاست جالیسکو کے میونسپلٹی ٹاپالپا کے بلند جنگلی پہاڑی علاقے میں میکسیکو کی فورس کے ہاتھوں ہلاک ہو گیا تھا۔
شینباؤم نے کہا کہ اوسیگرا کو ختم کرنے کیلئے کئے گئے آپریشن سے قبل میکسیکو کی سیکوریٹی اور انٹیلی جنس فورس نے بڑےاحتیاط سے منصوبہ بنایا اورحکومتِ امریکہ نے محض اضافی انٹیلی جنس خدمات فراہم کیں۔
انہوں نے اس کارروائی میں امریکی کردار کے تعلق سے دریافت کرنے پر کہا’’تمام آپریشن وفاقی فورس نے انجام دیئے ۔ آپریشن میں امریکی افواج شامل نہیں تھیں۔ ہمارے درمیان وسیع پیمانے پر معلومات کا تبادلہ ہوا تھا۔‘‘شینبام انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حکومتوں اور اداروں، خاص طور پر امریکی نارتھرن کمانڈ اور انٹرپول نے اوسیگرا کی گرفتاری میں انٹیلی جنس تعاون فراہم کی، لیکن کسی غیرملکی فوج نے ایل مینچو کی حکمرانی ختم کرنے والے اقدامات کی منصوبہ بندی یا اسے انجام دینے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا’’امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ بنیادی طور پر انٹیلی جنس شیئرنگ پر مبنی ہے۔مگر پورا آپریشن، اس کی منصوبہ بندی سمیت، وفاقی فورس کی ذمہ داری تھی۔‘‘میکسیکو کے سیکریٹری برائے قومی دفاع جنرل ریکارڈو ٹرویلا ٹریجو کے مطابق، حکام ایل مینچوکی ایک خاتون دوست سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے، جس نے تصدیق کی کہ اوسیگرا ۲۱؍فروری کو جالیسکو کےتپالپا علاقے میں موجود ہوگا۔ آپریشن کا ابتدائی مقصد اوسیگرا کو گرفتار کرنا تھا، لیکن جب اس کے حفاظتی اہلکاروں نے میکسیکو کی فورس کے خلاف پرتشدد ردِعمل کا مظاہرہ کیا تو وہ اس دوران بری طرح زخمی ہو گیا۔
اس کے پارٹنر، اس کے معاونین اور اس کے اندرونی حلقے سے متعلق تمام معلومات ہماری فوجی انٹیلی جنس سے آئیں۔ امریکہ کی جانب سے اضافی، لیکن بہت اہم معلومات فراہم کی گئیں، مگر جب یہ سب یکجا کر کے مناسب طریقے سے تجزیہ کیا گیا تو اس نے ہمیں اس کا صحیح مقام بتایا۔
مبئی ۲۰۱۶ءمیں، امریکی محکمہ خارجہ نے باضابطہ طور پر ایل مینچو کو اپنی سب سے مطلوبہ مفرور افراد کی فہرست میں شامل کیا اور اسے ٹیکساس کے ویسٹرن ڈسٹرکٹ کی ایک عدالت نے منشیات کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ سے متعلق الزامات کے تحت مطلوب قرار دیا تھا۔ دسمبر ۲۰۲۴ء میں، امریکی حکومت نے اسے گرفتار کروانے والی معلومات پر ۱۵؍ ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔
یاد رہے کہ ایل مینچو کی ہلاکت کے بعد امریکہ کے کئی علاقوں میں تشدد پھوٹ پڑا تھا اور لوگ احتجاج کرنے لگے تھے۔ گاڑیوں اور دکانوں کو آگ لگا دی گئی اورتوڑ پھوڑ کی گئی۔ اس کے لئے فورس کو الگ سے جدوجہد کرنی پڑی۔ امریکہ نے اس کارروائی ہر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔