امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات کے ناکام ہونے کی صورت میں حملے سے خبردار کیا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ایسی صورت میں بہت برا دن ہوگا، ساتھ ہی انہوں نے مذاکراتی ٹیم میں نااتفاقی کی خبروں کو مسترد کردیا۔
EPAPER
Updated: February 24, 2026, 6:03 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات کے ناکام ہونے کی صورت میں حملے سے خبردار کیا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ایسی صورت میں بہت برا دن ہوگا، ساتھ ہی انہوں نے مذاکراتی ٹیم میں نااتفاقی کی خبروں کو مسترد کردیا۔
ٹرمپ نے ان رپورٹوں کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ جنرل ڈینیل کین نے ایران پر امریکی حملے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ آسانی سے جنگ جیت سکتا ہے لیکن وہ جنگ سے بچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔تاہم کشیدگی بڑھنے کے ساتھ،امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی جبکہ ایران نے علاقائی تنازع کے تعلق سے خبردار کیا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان تب سامنے آیا ہے جب بڑے میڈیا آؤٹ لیٹس نے دعویٰ کیا تھا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف فوجی مہم سے وابستہ ’’شدید خطرات‘‘ کے بارے میں نجی طور پر خبردار کیا تھا۔
یہ بھی پرھئے: آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی ذمہ داریاں علی لاریجانی کو سونپ دیں !
دریں اثنا، گارجین کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ اس بنیاد پر کریں گے کہ ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر انہیں۲۶؍ فروری کو جنیوا میں طے شدہ جوہری مذاکرات کےتعلق سے کیا بتاتے ہیں۔ٹرمپ نےجنرل ڈینیل کین کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے، آپریشن مڈنائٹ ہیمر میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی، جو کہ جون۲۰۲۵ء میں امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری مقامات پر کیے گئے حملے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کین نے حملے کا حکم ملنے پر ’’اس مہم کی قیادت کرنے‘‘ کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ٹروتھ سوشل پوسٹ میں، ٹرمپ نے کہا، ’’فیک نیوز میڈیا کی طرف سے متعدد کہانیاں گردش کر رہی ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ جنرل ڈینیل کین ایران کے ساتھ جنگ پر جانے کے خلاف ہیں۔ فیصلہ میں کرتا ہوں، میں معاہدہ کرنے کو ترجیح دوں گا لیکن اگر ہم معاہدہ نہیں کرتے، تو اس ملک اور بہت افسوس کے ساتھ اس کے عوام کے لیے بہت برا دن ہوگا، کیونکہ وہ عظیم اور شاندار ہیں، اور ان کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘ اس ہفتے کے شروع میں، ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے تعلق سے پیش رفت کریں۔ انہوں نے میڈیا ویب سائٹ ایکزیوس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ،’’ ٹرمپ کو برائی کو بے قابو نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ تنازع: ہندوستانی شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت
گزشتہ ہفتے، گراہم نے کہا تھا کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اقتدار میں رہتے ہیں، تو یہ تہران کے لیے ایک بڑی جیت ہوگی۔بعد ازاں گراہم کے بیانات سے جنگ کا واضح شارہ ملتا ہے۔ تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو علاقائی جنگ چھڑ جائے گی۔ساتھ ہی اس نے یورینیم کی افزودگی ترک کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ نے صفر افزودگی کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ سعودی آؤٹ لیٹ العریبہ کے مطابق، ایران کے پاسداران انقلاب اسلامی نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان حزب اللہ کا چارج سنبھال لیا ہے، جسے جنگ کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبینہ طور پر ایرانی افسران پورے لبنان میں حزب اللہ کے رضاکاروں کو ہدایات دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایران کے انقلابی گارڈ کے افسران نے لبنان کی وادی بیکا میں ایک مقام پر حزب اللہ کی میزائل یونٹ سے بھی ملاقات کی، جہاں رات اسرائیل نے بمباری کی تھی۔