محمد علی روڈکے مسلمانوں کیخلاف خاتون کی شر انگیزی کی کوشش ناکام

Updated: August 01, 2022, 11:24 AM IST | Shahab Ansari | Mohammed Ali Road

لاکھوں روپے کرایہ ادا نہ کرنے پر بی ایم سی نے عدالت کے حکم سے میونسپل کوارٹرز کا مکان خالی کروادیا تو ہمدردی حاصل کرنے کیلئےسوشل میڈیا پر اقلیتی فرقے کے افراد کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ پولیس معاملے کی تفتیش میں مصروف

A mischievous girl whose face is deliberately hidden..Picture:INN
شرانگیزی کرنے والی لڑکی جس کا چہرہ قصداً چھپایا گیا ہے۔۔ تصویر: آئی این این

یہاں رہائش پذیر ایک لڑکی نے ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا اکائونٹ پر ایک ویڈیو جاری کرکے مقامی مسلمانوں کے خلاف شرانگیزی کی اوران پر گھر سے نکال دیئے جانے کا الزام عائد کیا  جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ ماحول خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا لیکن جے جے مارگ پولیس نے اس سلسلے میں بیان جاری کرکے کہا ہے کہ یہ لڑکی بی ایم سی کوارٹرز میں رہتی تھی اور مکان کا ۴۰؍ لاکھ روپے سے زائد کرایہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے بی ایم سی نے اس کے اہل خانہ سے گھر خالی کروالیا۔ واضح رہے کہ ساریکا دیپک جوگڑیا نامی ایک لڑکی نے ۲۸؍ جولائی کو اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پراپنا ایک ویڈیو اپ لوڈ کیاتھا جس میں اس نےالزام لگایا تھا کہ وہ محمد علی روڈ پر سڈنہم کمپائونڈ میں رہتی ہے اور اس مسلم اکثریتی علاقے میں اسے ہندو ہونے کی سزا دے جارہی ہے۔ اس لڑکی نے اپنے ویڈیو میں الزام لگایا کہ مقامی افراد اس سے چھیڑ خانی کرتے تھے اور اس کے گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہے  تھے۔ اس کے گھر کے سامنے بکری کاٹتے تھے اور گھر کے سامنے ہی لائوڈ اسپیکر لگاتے تھے۔  اس کے الزامات کے مطابق اسے بھجن کیرتن کرنے سے منع کیا جاتا تھا لیکن اس نے ان کی بات نہیں مانی اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا یا جس پر اسے دھمکیاں دی گئیں کہ اگر ایف آئی آر واپس نہیں لیا تو اس کا گھر خالی کروادیا جائے گا۔ اس نے مزید الزام لگایا کہ یہاں لوگوں نے اسے امین پٹیل کی مدد سے گھر خالی کروانے کی دھمکی بھی دی تھی اور بالآخر اس کا گھر خالی کرواکر اسے سیٖل کروادیا ۔ اس لڑکی نے ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ مکان۱۹۴۴ء میں اس کے دادا کو ملا تھا اور گزشتہ ۱۰۰؍ برس سے اس کا خاندان یہاں پررہائش پزیر ہے۔اس کے مطابق وہ لوگ یہاں قانونی طور پر رہتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ یہاں غیرقانونی طور پر رہتے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے لیکن ہندو ہونے کی وجہ سے اسے گھر سے نکال دیا گیا اور کسی نے اس کی مدد نہیں کی۔ انقلاب کے پاس بی ایم سی کے ذریعے ۵؍جولائی کو جاری کردہ ایک خط کی کاپی موجود ہے جس میں یہ تحریر ہے کہ دیپک جوگڑیا کو ۱۹؍مارچ ۱۹۹۸ء کو یہ مکان میونسپل ملازم کی بنیاد پر دیا گیا تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ساریکا کے ذریعے ۱۹۴۴ء میں مکان ملنے کی بات غلط ہے۔ انقلاب نے اس سلسلے میں جب جے جے مارگ پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر سبھاش بوراڈے سے گفتگو کی تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس لڑکی کے والد دیپک بی ایم سی میں ملازم تھے جس کی وجہ سے انہیں یہاں کوارٹرز میں مکان دیا گیا تھا لیکن ۲۰۰۹ء میں اس کے والد نے اپنی مرضی سے بی ایم سی کی ملازمت چھوڑ دی تھی جس کی وجہ سے انہیں یہ مکان خالی کرنے کو کہا گیا تھا لیکن انہوں نے نہ تو مکان خالی کیا اور نہ ہی ملازمت چھوڑنے کے بعد سے بی ایم سی کو مکان کا کرایہ ادا کیا جس کی وجہ سے ان پر ۴۱؍لاکھ روپے سے زائد کرایہ بقایا تھا۔ اسی وجہ سے بی ایم سی نے عدالت کے حکم پر پولیس بندوبست کے درمیان ان سے مکان خالی کروالیا۔ جب اس نمائندے نے ان سے پوچھا کہ کیا پولیس اس جھوٹے بیان کی وجہ سے اس لڑکی کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی تو انہوں نے کہا کہ اب تک کسی نے اس کے خلاف شکایت درج نہیں کرائی ہے اور اس سلسلے میں پولیس تفتیش کررہی ہے۔کسی کے ذریعہ شکایت درج نہ کرانے کی وجہ سے پولیس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی شکایت درج کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جاسکے گا۔ اس لڑکی نے اپنے ویڈیو میں مقامی رکن اسمبلی امین پٹیل کا بھی نام لیاہے، جب انقلاب نے امین پٹیل سے گفتگو کی تو انہوں نے کہا کہ ’’جہاں تک صفائی کامگاروں (ساریکا کے والد دیپک بی ایم سی میں صفائی ملازم تھے)کا سوال ہے تو میں نے خود اسمبلی میں مطالبہ کیا ہے کہ صفائی ملازمین کو عارضی نہیں بلکہ مستقل طور پر مکانات دیئے جائیں۔ اگر ان کو مکان کے سلسلے میں کسی مدد کی ضرورت تھی تو میرے دفتر میں آکر مجھ سے ملاقات کرسکتے تھے لیکن یہ بچی یا اس کے اہلِ خانہ کبھی میرے پاس نہیں آئے اور  اس مکان سے متعلق کوئی بات بھی مجھ تک اب سے پہلے  نہیں پہنچی تھی۔ اب پریشانی کے عالم میں یا جس کسی وجہ سے اس لڑکی نے جو راستہ اختیار کیا،  وہ مناسب نہیں تھا اور پولیس تفتیش میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ اس کے ویڈیو میں سارے  الزامات جھوٹے ہیں۔‘‘واضح رہے کہ اس ویڈیو کی وجہ سے بی جے پی، ایم این ایس اور وی ایچ پی جیسی پارٹیاں اور سیاستداں حرکت میں آگئے ہیں اور  وارڈ  نمبر ۲۲۰؍ کے سابق کارپوریٹر اتل شاہ، وی ایچ پی کے چند لیڈران کئی افراد کے ساتھ جے جے مارگ پولیس اسٹیشن پہنچ گئے اور اس تعلق سے استفسار کیا۔ جے جے مارگ پولیس نے انہیں حقیقت سے آگاہ کردیا ہے۔  جے جے مارگ پولیس کے ذریعہ جاری کردہ ایک رپورٹ (جس کی کاپی انقلاب کے پاس ہے) میں بتایا گیا کہ دیپک جوگڑیا کے ذریعے کرایہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے یہ معاملہ عدالت میں زیر التواء تھا اور عدالت نے یہ مکان خالی کرانے کا حکم  دیا تھا جس کی بنیاد پر بی ایم سی کے متعلقہ محکمہ کی ایک افسر نے بی وارڈ کے کارکنان کی مدد سے جے جے مارگ پولیس کے بندوبست میں مذکورہ مکان خالی کروایا ہے۔  اس معاملے میں مذکورہ لڑکی، اس کی والدہ، سینئر پولیس افسران اور بی ایم سی افسران کے درمیان میٹنگ ہونے کے بعد یہ طے پایا ہے کہ اس مکان کے تعلق سے بی ایم سی افسران میٹنگ لے کر فیصلہ کریں گے۔

mumbai Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK