Updated: March 05, 2026, 9:08 PM IST
| Kolkata
ایڈن گارڈنز میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں نو وکٹوں کی عبرتناک شکست کے بعد جنوبی افریقہ کی ٹیم ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہے۔ ٹورنامنٹ کی واحد ناقابلِ شکست ٹیم ہونے کے باوجود، سیمی فائنل کے اہم مرحلے پر پروٹیز کا یوں بکھر جانا شائقین کو پرانے زخموں کی یاد دلا گیا ہے۔
جنوبی افریقہ کے کھلاڑی۔ تصویر:پی ٹی آئی
ایڈن گارڈنز میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں نو وکٹوں کی عبرتناک شکست کے بعد جنوبی افریقہ کی ٹیم ایک بار پھر تنقید کی زد میں ہے۔ ٹورنامنٹ کی واحد ناقابلِ شکست ٹیم ہونے کے باوجود، سیمی فائنل کے اہم مرحلے پر پروٹیز کا یوں بکھر جانا شائقین کو پرانے زخموں کی یاد دلا گیا ہے۔ ہیڈ کوچ کونراڈ نے اس شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ’’میں نہیں جانتا کہ اسے ’چوک ‘ کرنا کہیں گے یا نہیں، لیکن یہ ایک بدترین شکست ضرور تھی۔‘‘
جنوبی افریقہ کی کرکٹ تاریخ ۱۹۹۱ء سے اب تک ناک آؤٹ مرحلوں میں مایوسی سے بھری پڑی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ۱۹۹۲ء سے اب تک کھیلے گئے ۲۱؍ آئی سی سی ناک آؤٹ میچوں میں سے جنوبی افریقہ کو۱۵؍ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
۱۹۹۹ء کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف ایلن ڈونالڈ اور لانس کلوزنر کا وہ مشہور رن آؤٹ جو آج بھی کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا چوک مانا جاتا ہے۔۲۰۲۴ء کے فائنل میں ہندوستان کے خلاف جیت کے لیے ۲۴؍ گیندوں پر صرف ۲۶؍ رنز درکار تھے، لیکن ہینرک کلاسن کے آؤٹ ہوتے ہی پوری ٹیم ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔
۲۰۲۶ء کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف فن ایلن کی طوفانی اننگز نے جنوبی افریقی بولرس کو بے بس کر دیا اور ٹیم فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئی۔اگرچہ جنوبی افریقہ نے ۲۰۲۵ء میں لارڈز کے میدان پر آسٹریلیا کو ہرا کر ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ جیت کر آئی سی سی ٹرافی کا قحط ختم کیا تھا، لیکن محدود اوورز (ون ڈے اور ٹی ۲۰) میں عالمی اعزاز آج بھی ان کے لیے ایک خواب بنا ہوا ہے۔۱۹۹۲ء، ۱۹۹۶ء، ۲۰۱۵ء اور ۲۰۲۳ء کی ناکامیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ جب بھی بڑا موقع آتا ہے، جنوبی افریقی ٹیم دباؤ برداشت کرنے میں ناکام رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’دی بیڈز آف بالی ووڈ‘‘ دیکھ کرایچ بی او آرین خان کا مداح بن گیا، سیریز بنانے کی پیشکش
ٹی ۲۰؍ورلڈ کپ: مارکو جانسن جنوبی افریقہ کے مہنگے ترین بالر بن گئے
جنوبی افریقہ کے نوجوان فاسٹ بالر مارکو جانسن نے نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے اہم سیمی فائنل میں ایک ایسا ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے جسے کوئی بھی بالر یاد نہیں رکھنا چاہے گا۔ کولکاتا میں کھیلے گئے اس میچ میں کیوی بلے بازوں نے جانسن کے خلاف جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی۔
یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو انجری کا شکار،۴؍ ہفتوں کے لیے میدان سے باہر
مارکو جانسن نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں صرف ۵ء۲؍اوورز میں ۵۲؍ رنز دیے، جس کے بعد وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک میچ میں سب سے زیادہ رنز دینے والے جنوبی افریقی بالر بن گئے ہیں۔اس سے قبل یہ ریکارڈ جنوبی افریقہ کے سابق عظیم بالر شان پولاک کے پاس تھا، جنہوں نے ۲۰۰۷ء کے پہلے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف جوہانسبرگ میں ۵۲؍ رنز دیے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پولاک نے اپنے ۴؍ اوورز مکمل کیے تھے، جبکہ جانسن نے ان سے بھی زیادہ رنز اپنے کوٹے کے تین اوورز مکمل کرنے سے پہلے ہی کھا لیے۔