یونیورسٹی انتظامیہ نے عجیب جواز پیش کیا کہ انقلابی رہنما برکت اللہ بھوپالی کی زندگی کی بیشترحصہ بیرون ملک گزرا اوران کا بھوپال کی ترقی میں زیادہ تعاون نہیںتھا!
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 12:49 AM IST | Bhopal
یونیورسٹی انتظامیہ نے عجیب جواز پیش کیا کہ انقلابی رہنما برکت اللہ بھوپالی کی زندگی کی بیشترحصہ بیرون ملک گزرا اوران کا بھوپال کی ترقی میں زیادہ تعاون نہیںتھا!
مدھیہ پردیش کی راجدھانی میں واقع مشہور برکت اللہ یونیورسٹی (بی یو) کا نام تبدیل کرنے کی تجویز یونیورسٹی کی ایگزیکٹیو کونسل نے منظور کرلی ہے ۔تجویز کے مطابق اس کا نام بدل کر ’ماں گاؤ دیوی بھوجپال یونیورسٹی‘ رکھا جائے گا۔ ایگزیکٹیو کونسل نے متفقہ طور پر اس تجویز کی منظوری دی۔ یونیورسٹی انتظامیہ اب اس تجویز کو محکمہ ہائر ایجوکیشن اور ریاستی حکومت کو بھیجے گی۔ نام کی تبدیلی گزٹ نوٹیفکیشن کے بعد ہوگی ۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی اس تجویز کے سبب ریاست کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور اس پر تنقید یں ہورہی ہیں۔حتمی فیصلہ اب ریاستی حکومت پر منحصر ہے۔
معروف مجاہد آزادی پسند کا نام کیوں ہٹایا جا رہا ہے؟
۱۹۷۰ء میں قائم کی گئی بھوپال یونیورسٹی کو ۱۹۸۸ء میں انقلابی رہنما مولانا برکت اللہ بھوپالی سے منسوب کیا گیاتھا۔ تاہم اب یونیورسٹی کی ایگزیکٹیو کونسل نے نام کی تبدیلی کا سبب ایک ’مجبوری‘ کو بتایاہے۔ تجویز کے مطابق’’مولانا برکت اللہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بیرون ملک گزارا۔ نامور راجہ بھوج کے مقابلے میں، برکت اللہ بھوپالی نے بھوپال کی ترقی یا شہر کی منصوبہ بندی میں راست کوئی تعاون نہیں کیا۔‘‘
برکت اللہ بھوپالی کون تھے؟
۷؍ جولائی ۱۸۵۴ء کو بھوپال میں پیدا ہونے والے مولانا برکت اللہ ایک قوم پرست، عظیم انقلابی، عالم دین اور نڈر صحافی تھے۔ وہ۸؍ زبانوں پر عبور رکھتے تھے اور انتہائی بااثر خطیب تھے۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف بیرون ملک رہتے ہوئے ملک کی آزادی کیلئے ایک طویل جنگ لڑی۔مولانا برکت اللہ کا سب سے اہم تاریخی کارنامہ یہ ہے کہ ۱۹۱۵ء میں جب افغانستان کے دار الحکومت کابل میں ہندوستان کی پہلی عارضی (جلاوطن) حکومت قائم ہوئی تو انہیں اس کا وزیر اعظم مقرر کیا گیا ۔مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان وویک ترپاٹھی نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی ہےاور اسے طلبہ اورنوجوانوں کے مسائل سے توجہ ہٹانے کی بی جے پی کوشش قراردیا ہے۔