Updated: May 26, 2026, 9:01 PM IST
| Bhopal
ریاست کے وزیراعلیٰ مہون یادو نے ۲۰۰۳ء میں بھوج شالا کمال مولا مسجد تنازع کے دوران ہلاک ہونے والے تین افراد کے اہل خانہ کے لیے فی کس ۵؍ لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آیا، جس میں متنازع مقام کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دیا گیا۔
ایم پی ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے پیر کو اعلان کیا کہ ۲۰۰۳ء میں بھوج شالا کمال مولا مسجد تنازع کے دوران مارے گئے تین افراد کے اہل خانہ کو فی کس پانچ لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ یہ اعلان ضلع دھار میں ایک تقریب کے دوران کیا گیا، جہاں وزیر اعلیٰ نے حالیہ عدالتی فیصلے کو ’’۷۵۰؍ ahlo جدوجہد کا نتیجہ‘‘ قرار دیا۔ واضح رہے کہ بھوج شالا کمال مولا کمپلیکس ایک متنازع تاریخی مقام ہے جس پر ہندو اور مسلم دونوں برادریاں دعویٰ کرتی رہی ہیں۔ ہندو فریق کا ماننا ہے کہ یہ مقام دیوی سرسوتی یا واگ دیوی کے لیے وقف ایک قدیم مندر ہے، جبکہ مسلم کمیونٹی اسے کمل مولا مسجد قرار دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : غیر ملکی دوروں پر مودی کا میڈیا سے گریز، ایڈیٹرز گلڈ نے ’’شرمناک‘‘ قرار دیا
یہ عمارت ۱۱؍ ویں صدی کی ہے اور محکمہ آثار قدیمہ کے تحفظ میں شامل ہے۔فروری ۲۰۰۳ء میں وشوا ہندو پریشد سمیت کئی ہندوتوا تنظیموں نے اس مقام تک مکمل رسائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج شروع کیا تھا۔ مظاہروں کے دوران سیکوریٹی فورسیز کے ساتھ جھڑپوں میں تین افراد — وان سنگھ اراڈی، لکشمن سنگھ اور انور سنگھ — ہلاک ہو گئے تھے۔ بعد ازاں ۷؍ اپریل ۲۰۰۳ء کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی جانب سے ایک انتظامی حکم جاری کیا گیا، جس کے تحت ہندوؤں کو منگل اور مسلمانوں کو جمعہ کو عبادت کی اجازت دی گئی تھی۔
تاہم، ۱۵؍ مئی ۲۰۲۶ء کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس متنازعہ مقام کو دیوی سرسوتی کا مندر قرار دیتے ہوئے ۲۰۰۳ء کے انتظامات کو منسوخ کر دیا۔ عدالت نے مسلم فریق کو دھار ضلع میں مسجد کی تعمیر کے لیے متبادل زمین فراہم کرنے کی بھی اجازت دی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں رام جنم بھومی بابری مسجد فیصلے کو نظیر کے طور پر استعمال کیا۔ وزیر اعلیٰ موہن یادو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’دھار اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ میں یہاں کے عوام کو ہائی کورٹ کے فیصلے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ آپ کی ۷۵۰؍ سالہ جدوجہد کا نتیجہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : سپریم کورٹ نیٹ یو جی ۲۰۲۶ء پیپر لیک پر برہم، این ٹی اے سے جواب طلب
انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے صحیح اور غلط کے درمیان واضح فرق قائم کیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا تھا جب مئی ۲۰۲۲ء میں ہندو تنظیم نے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کمال مولا مسجد قدیم ہندو مندروں کے ڈھانچوں کو منہدم کر کے تعمیر کی گئی تھی۔ اس کے بعد مارچ ۲۰۲۴ء میں ہائی کورٹ نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو مقام کا سروے کرنے کی ہدایت دی۔ جولائی ۲۰۲۴ء میں سروے رپورٹ میں کہا گیا کہ مسجد کی تعمیر میں قدیم مندروں کے اجزاء استعمال کیے گئے تھے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حکومتوں کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخی، آثار قدیمہ اور روحانی اہمیت رکھنے والی یادگاروں اور مندروں کا تحفظ یقینی بنائیں۔ یہ معاملہ ایک بار پھر ہندوستان میں مذہبی مقامات سے متعلق تاریخی تنازعات اور عدالتی فیصلوں پر قومی سطح کی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔