وزیراعلیٰ نے شہریوں سے رائے دینے کی اپیل کی، سماجی لیڈران سے صلاح و مشورہ کیلئے ۶؍ رکنی کمیٹی بھی بنے گی۔
موہن یادو۔ تصویر:آئی این این
اتراکھنڈ، گجرات اور آسام کے بعد اب مدھیہ پردیش اسمبلی میں بھی یکساں سو ِل کوڈ(یو سی سی) بل پیش کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس کا اعلان پیر کو وزیر اعلیٰ موہن یادو نےکیا۔ یہ اطلاع دیتے ہوئے کہ اس کیلئے آن لائن مشاورتی پورٹل شروع کیاگیا ہے وزیراعلیٰ نے شہریوں سے مذکورہ پورٹل کے ذریعہ اپنی رائے دینے کی اپیل کی ہے۔
موہن یادو نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ سپریم کورٹ کے سابق جج کی قیادت میں ایک۶؍رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی جو یو سی سی کے نفاذ کے تعلق سے مختلف مذہبی لیڈروں سے صلاح و مشورہ کریگی۔ کمیٹی کی قیادت کی ذمہ داری سپریم کورٹ کی سابق جج جسٹس رنجنا پرساد دیسائی کو دی گئی ہے۔ انہوں نے یوسی سی کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج کے دور میں مذہبی، سماجی یا خاندانی بنیادوں پر امتیاز کی ضرورت نہیں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یونیفارم سول کوڈ کی جانب بڑھیں۔میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ویب سائٹ پر اپنی تجاویز ضرور دیں۔‘‘
انہوں نے یو سی سی کے خدوخال کو واضح کرتے ہوئے مزید کہا کہ اتراکھنڈ اور گجرات جیسی ریاستیں پہلے ہی یو سی سی کے تعلق سے ایک فریم ورک اپنا چکی ہیں، اور مدھیہ پردیش بھی اسی کی پیروی کریگا۔ان کے مطابق جسٹس رنجنا پرساد دیسائی کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی اس وقت مختلف اضلاع کا دورہ کر رہی ہے تاکہ تمام برادریوں اور متعلقہ فریقوں سے صلاح و مشورہ کیا جا سکے۔ موہن یادو نے کہاکہ ’’اپنی رپورٹ تیار کرنے کے بعد کمیٹی ایک مسودۂ قانون تیار کرکے حکومت کو سونپے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ ریاستی حکومت یونیفارم سول کوڈ کو جلد از جلد نافذ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔‘‘