تنخواہ کے معاملے میں حق سے محرو م مزدوروں کی کوئی شنوائی نہیں

Updated: February 26, 2021, 9:31 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Dadar

دادر میں بی ایم سی دفتر کے قریب گٹر کی صفائی کرنے والے مزدور۱۳۷؍دنو ں سے احتجاج کررہے ہیں لیکن انہیںنظر انداز کیاجارہا ہے جبکہ ۶؍ سال قبل منیمم ویجز سے متعلق جی آر نکالا گیا تھا جسے اب تک نافذ نہیںکیاگیا

Labors - Pic : INN
مزدور ۔ تصویر : آئی این این

جان جوکھم میںڈال کر مشینوں کے ذریعے گٹر کی صفائی کرنے والے مزدور ۱۳۷؍ دنوں سے دادر پھول مارکیٹ بی ایم سی دفترکے قریب احتجاج کررہے ہیں۔ یہ مزدوراپنے حق کی لڑائی لڑرہے ہیں لیکن ان کی آواز نہیں سنی جارہی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے ۶؍سال قبل ۲۴؍ فروری ۲۰۱۵ءکو کنٹریکٹ پرکام کرنے والے تمام کنٹریکٹ ملازمین کومینیمم و یجزکے حساب سے تنخواہ دینے کے لئےبل پاس کیاتھا اورجی آر بھی نکالا تھا،اس کے باوجود اب تک اسے نافذنہیں کیا گیاہے جس کی وجہ سے یہ مزدور تنخواہ کے معاملے میں اپنے حق سے محروم ہیں اورکنٹریکٹ پران سے کام لینے والی کمپنی پربھی انہوں نے استحصال کاالزام عائد کیا ہے۔اس جی آر کا اطلاق کارپوریشن،نگر پالیکا اورمہانگر پالیکا سب پر ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔ 
 ۲۴؍فروری کو ان مزدوروںنےاحتجاج کے ساتھ بی ایم سی افسران کودادر کےدفتر میں اپنے انداز سے آئینہ دکھانے کی کوشش کی اوردفتر جاکر افسران کومٹھائی کھلائی ۔مٹھائی کھلانے کا مقصد یہ تھا کہ آپ حضرات نے توہمارے ساتھ آج تک انصاف نہیں کیا اورنہ ہی ہماری خبر لی اس کے باوجود مٹھائی کھلاکر ہم آپ لوگوں کا منہ میٹھا کررہے ہیں۔ 
  مہاراشٹر میونسپل کامگار یونین کے کامریڈ لیڈر وجے دلوی نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ ’’ان مزدوروںکی یونین کی جانب سے مکمل حمایت کی جارہی ہےاورناانصافی کے خلاف لیبر کمشنر کے یہاں مقدمہ بھی دائر کیا گیا ہے۔ان کے مطابق آج کی تاریخ میں انہیں محض ۳۵۰؍روپےیومیہ مزدوری دی جاتی ہےجبکہ جو بل پاس کیا گیا ہے اس کے حساب سے ان کو۶۵۳؍ روپے یومیہ ملنا چاہئے۔اس کام کے لئے آرین اینو کلین پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کوٹھیکہ دیا گیا ہے اس نےتنخواہ کےمعاملے میں نا انصافی کرنے کےعلاوہ  ان ۱۶؍ ملازمین کو ملازمت سے نکال دیا ہے جو آوازبلند کرنے میں پیش پیش تھے۔‘‘
 وجے دلوی کے مطابق ’’احتجاج کرنے والے مزدروں کی مجموعی تعداد ۶۸؍ہے اوریہ لگاتار ۱۳۷؍ دنوں سےاپنے حق کے لئے آوازبلند کر رہے ہیں۔ اگر جی آر نافذہوگیا ہوتا توان مزدوروںکی یہ حالت نہ ہوتی  ۔‘‘ ملازمت سے نکالےگ ئے سچن پاویکر نےبتایا کہ ’’ ہم لوگوں نے کووِڈ کے زمانے میں بھی رات دن ایک کرتے ہوئے کام کیا لیکن اس کا صلہ کمپنی نے ہمیں ملازمت سے نکال کردیا ۔‘‘ سندیش چوہان نے کہاکہ ’’ ہم لوگوں کے ساتھ نا انصافی کی جارہی ہے اورشاید غریب ہونے کے سبب ہماری آوازسننے کے لئے حکومت یا اس کے کارندے تیار نہیں ہیں لیکن ہم لوگوں نے بھی طے کیا ہے کہ اپناحق لے کررہیںگے۔‘‘نریش کالے نے کہا کہ’’ملازمت سے نکالے جانے کے سبب دووقت کی روٹی کے لئے مسئلہ پیدا ہوگیا ہے ،لیکن ہماری کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے اورنہ ہی ۱۳۷؍دنوں میں ہمارے مطالبے پرسنجیدگی سے توجہ دی گئی ہے  ۔‘‘
  آرین اینو کلین پرائیویٹ لمیٹڈکے منیجر نیرج اورنگ آباد والا سےرابطہ قائم کرنے اوران سےیہ پوچھنے پرکہ ۱۶؍ملازمین کوکیوںنکالا گیا اوراتنے طویل وقت سے دھرنادینے کےباوجود ان کی ملازمت کیوں بحال نہیں کی گئی تو انہوںنےبتایاکہ ’’ یہ ملازمین ضابطہ شکنی کے مرتکب ہیں اور دعویٰ کیا کہ ملازمین کو ضابطےکے مطابق تنخواہ دی جارہی ہے ۔ لیکن وہ اس سوال کاجواب نہیں دے سکے کہ ایک ملازم کو یومیہ کتنی تنخواہ دی جاتی ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK