Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ججوں کی تقرری میں۱۲؍برسوں  سے بے جا سرکاری مداخلت ہو رہی ہے‘

Updated: August 30, 2026, 11:43 AM IST | New Delhi

جسٹس (سبکدوش) مرلی دھر نے بطور جج انتخاب کیلئے غیر واضح معیار اور تقرریوں میں شفافیت کی کمی پر بھی سوال اٹھایا، عدلیہ پر بوجھ کیلئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

Eminent former Chief Justice of Odisha High Court, Muralidhar. Photo: INN
ادیشہ ہائی کورٹ کے مایہ ناز سابق چیف جسٹس مرلی دھر۔ تصویر: آئی این این

ادیشہ ہائی کورٹ کے مایہ ناز سابق چیف جسٹس مرلی دھر نے ملک میں  عدلیہ کی آزادی پر سنگین سوال کھڑا کرتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ گزشتہ ۱۲؍ برسوں سےعدالتوں  میں ججوں  کی تقرری میں ’’عاملہ(مرکزی حکومت) کی بلا جواز مداخلت‘‘ ہورہی ہے۔ انہوں  نے ہائی کورٹس میں بطور جج تقرری کیلئے’’غیر واضح معیار‘‘ اور تقرری کے عمل میں شفافیت نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ میں ججوں  کی تقرری کے موجودہ ’’کالیجیم سسٹم‘‘ کی صلاحیت پر نظر ثانی کی ضرورت پر زور دیا۔ 
بطور جج بہترین امیدواروں کے حصول میں ناکامی
جسٹس (سبکدوش) مرلی دھر جو ’’۱۹۴۷ء کیلئے ہندوستان کاوِژن ‘‘ کے موضوع پر ۲۸؍ ویں   ڈی ایس بورکر میموریل لیکچر سے خطاب کر رہے تھے، نے کہا کہ ’’ہائی کورٹس کے ججوں کی تقرری کا طریقہ کار زیادہ تفصیلی ہے۔ اس میں عدلیہ اور عاملہ دونوں کا رول ہوتا ہے۔ ۱۹۹۳ء میں کولیجیم نظام اختیار کیا گیا جس کے تحت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ججوں کی تقرری کے معاملہ میں چیف جسٹس آف انڈیا کی رائے کو ترجیح حاصل ہے، اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ نظام نے بہترین ممکنہ امیدواروں کے انتخاب کا مقصد پورا نہیں کرسکا۔ ‘‘ انہوں   نے دوٹوک انداز میں  کہا کہ ’’ گزشتہ۱۲؍برسوں میں تقرری کے عمل میں عاملہ (حکومت) کی بلا جواز مداخلت دیکھی گئی ہے۔ ساتھ ہی تقرری کا معیار بھی غیرواضح ہے جبکہ شفافیت کی کمی اور مجموعی طور پر غیر مؤثر نظام نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ‘‘
متبادل کے تلاش میں کوتاہی
مرلی دھر جنہوں  نے ادیشہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدہ سے سبکدویش کے بعد دوبارہ وکالت کا پیشہ اختیار کرلیا ہے اور اپنی ایمانداری کی وجہ سے اس وقت حقوق انسانی کیلئے اقوام متحدہ کے کمشنر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، نے ملک میں  ججوں کی تقرری کے نظام میں کمی کو اجاگر کرتے ہوئےکہا کہ’’ججوں کی سبکدوشی کی تاریخ پہلے سے طے ہوتی ہے پھر بھی کولیجیم نظام  ان کا متبادل بروقت تلاش نہیں کرپاتا۔ ‘‘ کولیجیم چیف جسٹس آف انڈیا اور سپریم کورٹ میں  ان کے بعد ۴؍ سینئر ترین ججوں   پر مشتمل کمیٹی ہوتی ہے جوہائی کورٹ اور سپریم کورٹ  میں  ججوں  کی تقرری کیلئے ناموں  کی سفارش کرتی ہے۔ مرلی دھر نے کہا کہ صرف   ججوں کی مطلوبہ تعداد بڑھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، اگر تقرری کے عمل کو مؤثر نہیں بنایا گیا تو عدلیہ میں خالی آسامیوں کا بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: عوامی کتب خانوں سے ممتا بنرجی کی کتابیں ہٹائی جائیں گی، جو کبھی لازمی تھیں

عدلیہ پربوجھ کیلئے حکومت ذمہ دار
ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس نے عدالتوں پر بڑھتے ہوئے بوجھ کے حوالے سے کہا کہ حکومتیں اور ان کے من مانی فیصلے اس کیلئے بر ابر کی ذمہ دار ہیں  ۔ انہوں نے کہاکہ حکومتیں پرامن احتجاج جیسے معمول کے جمہوری معاملات کو بھی جرم بنا دیتی ہیں اور غیر ضروری گرفتاریاں کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں لوگ عدالتوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مرلی دھر نے کہا کہ ’’ یہی وجہ ہے کہ عدالتی نظام میں تاخیر، اخراجات اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود مقدمات دائر کرنے کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی مقدمہ میں  وہ فریق ہو اور فیصلہ اس کے خلاف آ جائے تو وہ تقریباً ہر فیصلے کے خلاف اپیل کرتی ہے۔ انہوں  نے نشاندہی کی کہ ہر ماہ تقریباً ۲۹؍ لاکھ نئے مقدمات درج ہوتے ہیں جبکہ ضلعی عدالتیں   ہر ماہ تقریباً ۲۴؍لاکھ مقدمات نمٹاتے ہیں۔ 
عدالتوں میں مقدموں کی صورتحال
جسٹس مرلی دھر نے بتایا کہ ہر ماہ تقریباً۲۹؍لاکھ نئے مقدمات درج ہوتے ہیں جبکہ ضلعی سطح کی عدالتوں کے جج ہر ماہ تقریباً۲۴؍لاکھ مقدمےنمٹاتے ہیں۔ ہائی کورٹس میں سالانہ ۱۰؍ لاکھ سے زیادہ مقدمات دائر ہوتے ہیں اور تقریباً اتنے ہی نمٹائے بھی جاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ زیر التوا مقدمات کی مجموعی تعداد تقریباً برقرار رہتی ہے۔ انہوں   نے بتایایا کہ سپریم کورٹ کی صورت حال بھی اسی طرح ہے، جہاں اس وقت تقریباً۹۳؍ہزار مقدمات زیر التوا ہیں۔ ۲۰۲۵ء میں سپریم کورٹ میں ۶۲؍ ہزار مقدمے دائر ہوئے، جبکہ تقریباً۵۷؍ہزار مقدمات نمٹائے گئے۔ 
حکومت کی بے وجہ مقدمہ بازی
ملک میں  زیر التواء مقدمات میں سے سب بڑی تعداد اُن مقدمات کی ہے جن میں  حکومت فریق ہے۔ مرلی دھر نے کہا کہ ’’حکومت کی مقدمہ لڑنے کی صلاحیت اتنی زیادہ ہے کہ وہ دولت مند ترین کاروباری گروپ کو بھی پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔ اگر حکومت کسی بھی سطح پر مقدمہ ہار جائے تو وہ اپیل کرتی اور سپریم کورٹ تک جاتی ہے۔ چاہے کسی سرکاری محکمے میں مالی کو۱۰۰؍ روپے اضافی دینے کا معاملہ ہو یا کسی متوفی سرکاری ملازم کی بیوہ کو۳۰۰؍روپے پنشن دینے کا معاملہ، وہ ہر معاملے میں اپیل کرتی اور ہار جائے تو کوئی ضمانت نہیں کہ عدالتی حکم پر عمل کرے گی۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK