دوبارہ اقتدار میں آنے کے ۵؍ سال بعد جنگجو تنظیم نے تمام ممالک سے خوشگوار تعلقات کی خواہش ظاہر کی۔
EPAPER
Updated: August 30, 2026, 11:55 AM IST | Kabul
دوبارہ اقتدار میں آنے کے ۵؍ سال بعد جنگجو تنظیم نے تمام ممالک سے خوشگوار تعلقات کی خواہش ظاہر کی۔
افغانستان میں طالبان نے اپنے دوبارہ اقتدار میں آنے کے ۵؍سال بعد واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ’جنگی پالیسی‘ تبدیل کرے۔ طالبان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور کابل میں امریکی سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کی اپنی خواہش کا اعادہ کیا ہے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےآر ٹی انڈیا چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ تنظیم امریکہ سمیت تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’افغانستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ طالبان دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ترجمان نے عام سفارتی تعلقات کی بحالی کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہم افغانستان میں امریکی سفارت خانے کو دوبارہ فعال کرنے اور واشنگٹن میں افغان سفارت خانہ کھولنے کے خواہا ں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: سیلاب تو تھم گیا، آنسو نہیں تھم رہے
یاد رہے کہ امریکہ نے اگست ۲۰۲۱ء میں امریکی افواج کے انخلاء اور افغان دارالحکومت پر طالبان کے قبضے کے ساتھ ہی کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا اور وہاں اپنی سرگرمیاں معطل کر دی تھیں۔ مجاہد نے منجمد افغان اثاثوں کے معاملے پر بھی بات کی اور کہا کہ امریکہ کی طرف سے ان میں سے اربوں ڈالر جاری کرنے سے دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان اثاثوں کا ایک حصہ افغان مرکزی بینک کا ہے، جبکہ دیگر رقم ان کے قول کے مطابق افغان تاجروں کی ہے۔ تنظیم کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے منجمد افغان اثاثوں کا مسئلہ طالبان اور واشنگٹن کے درمیان حقوقِ انسانی، خواتین و لڑکیوں کے حقوق اور دہشت گردی کے خاتمے کے امور کے ساتھ ساتھ سب سے نمایاں تنازعات میں سے ایک رہا ہے۔ طالبان ترجمان نے اسلامی ممالک کے ساتھ اپنی حکومت کے تعلقات کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ کابل کے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ایران، پاکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات اور رسمی رابطے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان ممالک کے سفارت خانے کابل میں کام کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہاں افغان مشنز طالبان حکام کے انتظام کے تحت ہیں۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ با ضابطہ تسلیم کرنے کے اعلان کا معاملہ ہر ملک پر منحصر ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان حکومت کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کو اس کی انسانی حقوق کی پالیسیوں میں تبدیلی کے ساتھ جوڑنے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’نا انصافی قرار دیا۔