ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب امریش پوری نے رجنی کانت کے رویے سے ناراض ہو کر ان کے ساتھ فلم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ مگر بعد میں رجنی کانت کی معذرت نے نہ صرف غلط فہمی دور کر دی بلکہ دونوں عظیم فن کاروں کو ایک ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔
EPAPER
Updated: August 30, 2026, 12:34 PM IST | Mumbai
ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب امریش پوری نے رجنی کانت کے رویے سے ناراض ہو کر ان کے ساتھ فلم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ مگر بعد میں رجنی کانت کی معذرت نے نہ صرف غلط فہمی دور کر دی بلکہ دونوں عظیم فن کاروں کو ایک ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔
فلمی دنیا میں تعلقات کی کہانیاں بھی فلموں کے اسکرپٹ سے کم دلچسپ نہیں ہوتیں ۔ کبھی دو فن کار برسوں تک ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں، کبھی معمولی سی غلط فہمی فاصلے پیدا کر دیتی ہے اور کبھی ایک معذرت برسوں کی رفاقت کی بنیاد بن جاتی ہے۔ بالی ووڈ کے عظیم اداکار امریش پوری اور جنوبی ہند کے سپر اسٹار رجنی کانت کے درمیان تعلق کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی دلچسپ ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب امریش پوری نے رجنی کانت کے رویے سے ناراض ہو کر ان کے ساتھ فلم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ مگر بعد میں رجنی کانت کی معذرت نے نہ صرف غلط فہمی دور کر دی بلکہ دونوں عظیم فن کاروں کو ایک ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ امریش پوری کو ہندوستانی سنیما میں ان کے منفرد اور رعب دار انداز کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی گرج دار آواز، چہرے کے تاثرات اور کردار میں ڈھل جانےکی غیر معمولی صلاحیت نے انہیں صرف ہندی سنیما ہی نہیں بلکہ ملک کی مختلف زبانوں کی فلموں کا ایک معتبر اداکار بنا دیا تھا۔ ان کے بیٹے راجیو پوری نے حال ہی میں اپنے والد کی فلمی زندگی اور مختلف اداکاروں کے ساتھ ان کے تعلقات سے متعلق کئی دلچسپ باتیں بیان کیں ۔ راجیو پوری کے مطابق، امریش پوری کا فلمی دنیا میں کئی بڑے ستاروں کے ساتھ نہایت قریبی تعلق تھا۔ امریش پوری کی زندگی سے جڑا رجنی کانت کا ایک واقعہ خاص طور پر دلچسپ ہے، کیونکہ اس میں انا، خودداری، ناراضی اور پھر باہمی احترام کی ایک مکمل کہانی پوشیدہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب امریش پوری کو رجنی کانت کے ساتھ ایک فلم میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی تھی۔ امریش پوری اس سلسلے میں چنئی پہنچے، لیکن وہاں انہیں رجنی کانت کا انداز کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنی شہرت اور اسٹارڈم کا ضرورت سے زیادہ رعب ڈال رہے ہوں ۔ امریش پوری کو یہ رویہ ناگوار گزرا۔ وہ ان اداکاروں میں شامل نہیں تھے جو صرف بڑے نام یا بڑی فلم کی خاطر اپنی عزت نفس سے سمجھوتہ کر لیں ۔ امریش پوری نے چنئی سے واپسی کے بعد فلم کے پروڈیوسر کو صاف کہہ دیا کہ وہ رجنی کانت کے ساتھ کام کرنے میں خود کو راحت محسوس نہیں کرتے اور اس فلم کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ یہ فیصلہ کسی چھوٹے اداکار کا نہیں بلکہ اس فن کار کا تھا جس نے اپنی پوری زندگی محنت اور اپنی صلاحیت کے بل پر شناخت بنائی تھی۔ امریش پوری کے لیے کردار کی اہمیت ضرور تھی، لیکن باہمی احترام اس سے بھی زیادہ اہم تھا۔ تاہم کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ جب رجنی کانت کو اس واقعے اور امریش پوری کی ناراضگی کا علم ہوا تو انہوں نے معاملے کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے معذرت کا راستہ اختیار کیا۔ رجنی کانت نے امریش پوری سے معافی مانگی، جس کے بعد دونوں کے درمیان موجود غلط فہمی دور ہو گئی۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں دو بڑے فن کاروں کے درمیان احترام کا ایک نیا رشتہ قائم ہوا۔ اس کے بعد دونوں نے ایک ساتھ کام بھی کیا۔ امریش پوری اور رجنی کانت ’تھلاپتی‘ جیسی اہم فلم میں ایک ساتھ نظر آئے۔