Updated: August 29, 2026, 10:03 PM IST
| Kolkata
مغربی بنگال کی عوامی کتب خانوں سے مامتا بنرجی کی کتابیں ہٹائی جائیں گی، جو کبھی لازمی تھیں، لائبریری سروسیزکے وزیر گوری شنکر گھوش نے کہا ہے کہ ٹی ایم سی سپریمو کی غیر ضروری کتابیں جوطلبہ کی تعلیم میں معاون نہیں، اسکولی اور عوامی کتب خانوں سے ہٹا دی جائیں گی۔
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی۔ تصویر: ایکس
مغربی بنگال کی بی جے پی حکومت نے سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی تصنیف کردہ کتابوں کو ریاستی عوامی کتب خانوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔گزشتہ ترنمول کانگریس کی حکومت میں پارٹی سربراہ کی کتابیں تمام سرکاری اسکولی کتب خانوں اور سرکاری عوامی کتب خانوں میں لازمی تھیں۔دی انڈین ایکسپریس سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر برائے ماس ایجوکیشن ایکسٹینشن اینڈ لائبریری سروسیزگوری شنکر گھوش نے کہا، ’’ممتا بنرجی کی غیر ضروری کتابیں، جیسے ایپانگ-اوپانگ- جھاپانگ، اب کتب خانوں میں نہیں رہیں گی۔ سابق وزیر اعلیٰ کی کوئی بھی کتاب جو طلبہ کی تعلیم میں معاون نہ ہو، کتب خانوں کی الماریوں سے ہٹا دی جائے گی۔گھوش نے کہا کہ’’ عوامی کتب خانے اس کے بجائے ان کتابوں کو ترجیح دیں گے جو علم، فکری نشوونما اور قوم پرست فکر میں معاون ہوں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ،’’ہم کتب خانوں کو جدید بھی بنائیں گے اور مناسب عملہ فراہم کریں گے۔ ہم پوری ریاست میں مفت کتب خانے قائم کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: گنیش اُتسو کے’ مہاپرساد‘ کیلئے لائسنس لازمی، ہندوتواوادی ناراض
واضح رہے کہ حال ہی میں ایک تنازع اس وقت پیدا ہوا جب گوری شنکر گھوش نے دعویٰ کیا کہ ممتا کی طرف سے ریاستی اسمبلی کی لائبریری سے مستعار لی گئی ۱۹؍ کتابیں ابھی تک واپس نہیں کی گئیں۔ ان کتابوں میں رابیندر رچنابلی (رابیندر ناتھ ٹیگور کے مجموعی کام) کی ۱۸ جلدیں اور مجموعہ ’’سنجیتا‘‘ کی ایک کاپی شامل ہیں۔وزیر نے کہا کہ لائبریری کے قواعد تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہوتے ہیں، اور کتابیں باضابطہ طور پر جمع نہ کرانے کی صورت میں ممکنہ قانونی کارروائی کی تنبیہ کی۔تاہم، ممتا نے دعویٰ کیا ہے کہ کتابیں ان کی ذاتی رہائش گاہ پر نہیں بلکہ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے سرکاری دفتر میں رکھی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: انہدامی کارروئی کے دوران بی جے پی لیڈر پر حملہ
یاد رہے کہ ممتا بنرجی نے خود بھی ۱۰۰؍ سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں، جن میں سے اکثر وقتاً فوقتاً بین الاقوامی کولکاتا کتاب میلے میں نظر آتی ہیں۔ان کی پہلی تصنیف ،’’اپلبدھی‘‘ (ادراک یا کامیابی)، جو ۱۹۹۵ء میں شائع ہوئی، فکری سیاسی مضامین کا ایک مجموعہ ہے۔ ان کی بنگالی اشاعتوں کا انگریزی اور اردو میں بھی ترجمہ کیا گیا ہے۔۲۰۲۵ ءمیں، ٹی ایم سی انتظامیہ کے تحت، منظور شدہ ادب کی ایک جامع فہرست ۲۰۰۰؍ سے زائد سرکاری امداد یافتہ اسکولوں میں تقسیم کی گئی تھی، اس کے علاوہ ہر ایک کو ایک لاکھ روپے کی گرانٹ بھی دی گئی تھی۔محکمہ تعلیم نے ان کی تصنیف کردہ ۱۹؍ عنوانات کا انتخاب کیا تھا جن میں،’’اپلبدھی‘‘ کے علاوہ ’پلبی‘’ماں‘’چالو جائی‘،’ پاتھر ساتھی،‘’کروکڈائل آئی لینڈ‘ اور ایک شعری مجموعہ’ کبیتا بیتن‘ شامل تھے۔