رامتی: طیارہ حادثے میں نائب وزیراعلیٰ اجیت پواراوردیگر پانچ افراد کی موت سے ریاست بھر میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جن مقامی لوگوں نے یہ حادثہ اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ خود بھی کچھ سمجھ نہیں پائے۔
EPAPER
Updated: January 28, 2026, 11:11 PM IST | Mumbai
رامتی: طیارہ حادثے میں نائب وزیراعلیٰ اجیت پواراوردیگر پانچ افراد کی موت سے ریاست بھر میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جن مقامی لوگوں نے یہ حادثہ اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ خود بھی کچھ سمجھ نہیں پائے۔
رامتی: طیارہ حادثے میں نائب وزیراعلیٰ اجیت پواراوردیگر پانچ افراد کی موت سے ریاست بھر میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جن مقامی لوگوں نے یہ حادثہ اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ خود بھی کچھ سمجھ نہیں پائے۔ این بی ٹی کی رپورٹ کے مطابق حادثہ اتنا خوفناک تھا کہ کسی کو ریسکیو کرنے تک کا موقع نہیں ملا۔ عینی شاہدین نے رونگٹے کھڑے کر دینے والا منظر بیان کیا ہے۔
’’دیکھتے ہی ڈرلگا تھا کہ کریش ہو جائے گا‘‘
بارامتی میں جائے حادثہ سے تھوڑی دور پر موجود ایک عینی شاہد نے بتایا کہ’’میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ انتہائی دردناک تھا۔ جب طیارہ نیچے آ رہا تھا تو پہلے لگ رہا تھا کہ لینڈ کرجائے گا لیکن ہوائی پٹی پر آتے آتے اس کا توازن بگڑگیا۔ حالانکہ وہ لینڈنگ کے بہت قریب تھا۔ لیکن اچانک وہ کریش ہو گیا۔ پھر اس میں دھماکہ ہوا۔ ایک زوردار آواز آئی۔ اس کے بعد ہم سب دوڑ کر وہاں پہنچے تو دیکھا کہ طیارہ شعلوں میں گھرا ہواتھا۔ اس دوران چار سے پانچ بار مزید دھماکے ہوئے۔ اور بھی لوگ وہاں پہنچے لیکن آگ اتنی شدید تھی کہ کوئی مدد نہ کر سکا۔‘‘
’’پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی‘‘
حادثے کے ایک دیگر گواہ نے بتایاکہ ’’ہمیں پہلے معلوم نہیں تھا کہ اس طیارے میں اجیت داداپوار سوار تھے۔ لیکن جب یہ بات پتہ چلی تو ہمارے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔ یہ ہمارے لیے بے حد تکلیف دہ لمحہ تھا۔ میں اسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔‘‘
’’لاشیں بری طرح مسخ ہو چکی تھیں‘‘
ایک اور عینی شاہد نے بتایاکہ ’’ہم طیارہ حادثے کی جگہ سے کچھ فاصلے پر تھے۔ اچانک ایک زور دار دھماکہ سنائی دیا۔ ہمیں لگا کچھ بڑا واقعہ ہوا ہے۔ ہم آواز کی سمت دوڑے تو دور سے دھواں اور آگ کے شعلے دکھائی دے رہے تھے۔ پھر معلوم ہوا کہ اجیت پوار کا طیارہ کریش ہو گیا ہے۔ منظر دیکھتے ہی سمجھ آ گیا کہ شاید کوئی بھی زندہ نہ بچا ہو۔ چند ہی لمحوں میں طیارہ جل کر راکھ ہو گیا۔ ایمبولینس آئی اور بری طرح مسخ لاشوں کو اٹھا کر لے گئی۔ حادثہ اتنا ہولناک تھا کہ سب کی موت موقع پر ہی ہو چکی تھی۔‘‘
ٹی وی نائن مراٹھی کی رپورٹ کے مطابق ایک مقامی شخص نے کہا کہ’’ ہم یہیں رہتے ہیں، حادثے کے بعد جب آگ بجھائی گئی تو ہم قریب گئے تو دیکھا کہ وہاں لاشیں پڑی تھیں، جو مکمل طور پر جل چکی تھیں۔ ہم کسی کو پہچان نہیں پا رہے تھے۔ پولیس ٹیم ہمارے پاس آئی اور پانی مانگا، ہم نے انہیں پانی دیا۔ انہوں نے لاش کو ڈھانپنے کے لئے کپڑے بھی مانگے تو ہم نے اپنے گھر سے کمبل دے دیا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ اس نے صبح کے وقت طیارے کو بارامتی ہوائی اڈے کے اوپر چکر لگاتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کے مطابق، فضا میں ایک چکر لگانے کے بعد طیارہ کچھ غیر مستحکم دکھائی دے رہا تھا اور جیسے ہی وہ لینڈنگ کے لیے ہوائی پٹی کے قریب پہنچا، وہ زور سے زمین سے ٹکرا گیا اور اس میں دھماکہ ہو گیا۔ ایک زوردار آواز ہوئی جو ہمارے گھر تک سنائی دی۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد طیارے کے کئی حصے ہوا میں اچھل گئے۔ ملبے کا کچھ حصہ ان کے گھر کے قریب بھی آ گرا۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین پر گرنے سے پہلے طیارہ ایک طرف جھک گیا تھا۔ ہم نے دھماکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا، جو نہایت خوفناک تھا۔ ایک اور عینی شاہد نے بھی کہا کہ لینڈنگ کے دوران طیارے کا کنٹرول بگڑتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔