• Tue, 27 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والے کا خطاب ”قبول“ کیا

Updated: January 27, 2026, 5:01 PM IST | Dehradun

انڈیا ہیٹ لیب کی رپورٹ جاری ہونے کے چند دن بعد، دھامی نے ایک عوامی تقریب میں دوبارہ اسلاموفوبک تبصرے کئے اور تبدیلیِ مذہب، فسادات، ”لو جہاد“، ”لینڈ جہاد“ اور ”تھوک جہاد“ کے خلاف اپنی حکومت کے سخت گیر موقف کو دہرایا۔

Pushkar Singh Dhami. Photo: X
پشکر سنگھ دھامی۔ تصویر: ایکس

’انڈیا پیٹ لیب‘ (India Hate Lab) کی جانب سے حال ہی میں شائع کردہ سالانہ رپورٹ میں اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو ۲۰۲۵ء میں ’سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کی فہرست میں‘ اول مقام پر رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران دھامی نے ۷۱ نفرت انگیز تقاریر کیں۔ وزیراعلیٰ نے اس رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والے فرد کا ”خطاب قبول کرتے ہیں۔“ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ریمارکس کا مقصد کسی طبقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ریاست کے مستقبل کا تحفظ تھا۔

یومِ جمہوریہ کی تقریر کے دوران دھامی نے اس رپورٹ کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ اتراکھنڈ کو درپیش سنگین خدشات اٹھانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ایک امریکی این جی او نے مجھے سب سے زیادہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا ہے۔ بھائیو اور بہنو، کیا اتراکھنڈ میں غیر قانونی دراندازی ہونی چاہئے؟ کیا اتراکھنڈ میں زبردستی تبدیلیِ مذہب ہونی چاہئے؟ کیا اتراکھنڈ میں تشدد پھیلانے والوں کیلئے قانون نہیں ہونا چاہئے؟“

دھامی نے اپنے متنازع بیانات کو بطور وزیر اعلیٰ اپنی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان مسائل پر قابو نہ پایا گیا تو ریاست کے بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے پوچھا، ”ہمارے بچوں کا مستقبل غیر یقینی ہو رہا تھا۔ کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ اگلی نسل کو ایک محفوظ اتراکھنڈ دیں؟“ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسے مسائل اٹھانے کو نفرت انگیز تقریر کہا جاتا ہے، تو وہ یہ خطاب قبول کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے اپنی عوامی تقاریر کا دفاع کرتے ہوئے ”لو جہاد“ جیسے نظریات کا بھی حوالہ دیا، جن میں اکثر مسلم سماج کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جواب میں، انڈیا ہیٹ لیب نے اپنے رپورٹ پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ وہ اتراکھنڈ میں ہونے والی پیش رفت کی قریب سے نگرانی جاری رکھے گی۔ تنظیم نے کہا کہ وہ سیاسی لیڈران کو ایسی تقاریر کیلئے جوابدہ ٹھہرائے گی جو اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک یا تشدد پر اکساتی ہیں۔ ادارے نے کہا کہ ”اگرچہ برسرِ اقتدار افراد مختصر مدت کیلئے جواب دہی سے بچ سکتے ہیں، لیکن ایسا استثنیٰ غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتا۔“

یہ بھی پڑھئے: اترپردیش:غیر مسلم سہیلی کو برقعہ پہنانے پر ۵؍ نابالغ مسلم لڑکیوں پر مقدمہ درج

انڈیا ہیٹ لیب کی رپورٹ جاری ہونے کے چند دن بعد، دھامی نے ایک عوامی تقریب میں دوبارہ اسلامو فوبک تبصرے کئے اور تبدیلیِ مذہب، فسادات، ”لو جہاد“، ”لینڈ جہاد“ اور ”تھوک جہاد“ کے خلاف اپنی حکومت کے سخت گیر موقف کو دہرایا۔

رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۵ء میں ۲۱ ریاستوں میں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے ۱۳۱۸ براہِ راست (انفرادی) نفرت انگیز تقاریر کے معاملات ریکارڈ کئے گئے۔ یہ تعداد ۲۰۲۴ء کے مقابلے ۱۳ فیصد زیادہ اور ۲۰۲۳ء میں ریکارڈ کی گئی تعداد سے تقریباً دوگنا ہے۔ ۹۸ فیصد نفرت انگیز تقاریر میں مسلمان خصوصی طور پر یا عیسائیوں کے ساتھ مشترکہ بنیادی ہدف تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ایسے تقریباً ۸۸ فیصد واقعات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں، بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کی زیر قیادت ریاستوں یا بی جے پی کے زیرِ انتظام یونین ٹیریٹریز میں پیش آئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK