اترپردیش کے مظفر نگر میں غیر مسلم سہیلی کو برقعہ پہنانے پر ۵؍ نابالغ مسلم طالبات کے خلاف تبدیلی مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، مظفرنگر کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کنور آکاش سنگھ نے اخبار کو بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
EPAPER
Updated: January 25, 2026, 10:20 PM IST | Luckhnow
اترپردیش کے مظفر نگر میں غیر مسلم سہیلی کو برقعہ پہنانے پر ۵؍ نابالغ مسلم طالبات کے خلاف تبدیلی مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے، مظفرنگر کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کنور آکاش سنگھ نے اخبار کو بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
اے ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، اترپردیش میں پانچ مسلم لڑکیوں کے خلاف مذہبی تبدیلی کے خلاف قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی۱۶؍ سالہ ہندو سہیلی کو برقع پہننے پر مجبور کیا۔اخبار کے مطابق، یہ واقعہ دسمبر میں مظفرنگر ضلع کے بلاری قصبے میں پیش آیا تھا، لیکن یہ اس وقت سامنے آیا جب پولیس نے ہندو لڑکی کے بھائی کی شکایت پر مقدمہ درج کرنے کا اعلان کیا۔
How Media, Right Wing, and Police Collude in PropagandaIn the latest case
— Nurmagumedov (@x_Aliwayzz01) January 25, 2026
5 Muslim girls and 1 Hindu girl who were all close friends and studied together happily for years.
One day, the Hindu girl chose to wear a burqa herself—just to escape from her controlling brother.
The… pic.twitter.com/2fKBd2Rinv
دریں اثناء پانچوں نابالغ لڑکیوں کے خلاف یو پی مذہبی تبدیلی کے خلاف قانون کی دفعہ۳؍ اور۵؍(۱؍) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جو دھوکہ دہی، جبر، فراڈ، ناجائز اثر، دباؤ یا لالچ کے ذریعے مذہب تبدیل کروانے سے متعلق ہے۔مظفرنگر کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کنور آکاش سنگھ نے اخبار کو بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ہندو لڑکی کے بھائی دکش چودھری کے مطابق، ان کی بہن دو ماہ پہلے ملنے والی ایک لڑکی سے بات کر رہی تھی اور اس کے ساتھ باقاعدگی سے باہر جانے لگی تھی۔ چودھری نے الزام لگایا کہ ’’میری بہن کو برقع میں لے جانے والی پانچ مسلم لڑکیوں کی کچھ بری نیت ہو سکتی ہے۔‘‘
بعد ازاں چودھری نے الزام لگایا کہ مسلم لڑکیوں نے ان کی بہن کو اسلام قبول کرنے کے لیے ذہنی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔اتوار کو بھارت سماچار نے ہندو لڑکی کے حوالے سے بتایا کہ مسلم لڑکیوں نے اسے برقع پہننے اور مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ لڑکی نے دعویٰ کیا کہ ’’مجھ سے کہا گیا کہ تم برقع پہن کر اچھی لگو گی۔‘‘ساتھ ہی اس نے یہ بھی الزام لگایا کہ مسلم لڑکیوں نے پہلے بھی اسے نان ویج کھانا کھانے پر مجبور کیا تھا۔ تاہم سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو کے جواب میں، پولیس نے دہرایا کہ معاملے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور قانونی کارروائی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آسام میں بنگالی مسلمانوں کے ساتھ امتیاز پر اقوام متحدہ فکرمند
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں لڑکیوں کو ایک گلی میں دکھایا گیا ہے، جس میں ایک لڑکی برقع پہنے نظر آ رہی ہے جبکہ دوسری لڑکی اس کی مدد کر رہی ہے۔پولیس افسر کے مطابق، ’’وہ نہیں چاہتی تھیں کہ اس کے بھائی کو پتہ چلے۔ ممکن ہے کہ ہندو لڑکی پکڑے جانے کے خوف سے اپنی سہیلی کا برقع پہن لی ہو۔‘‘افسر کے مطابق، لڑکیوں کے پس منظر اور ان کے اعمال کے پیچھے کسی مقصد کی تحقیق کے لیے معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیے گئے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے، مظفرنگر پولیس نے۱۶؍ جنوری کو کہا تھا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ’’لڑکی نے اپنے بھائی سے بچنے کے لیے خود برقع پہنا تھا۔‘‘پولیس نے کہا تھا کہ ’’کسی بھی مجرمانہ واقعے یا مذہبی تبدیلی سے متعلق کوئی حقائق سامنے نہیں آئے ہیں۔‘‘
مزید برآںپولیس نےکہا تھا کہ خاندان کی شکایت کے بعد گمراہ کن ویڈیوز اور دعوے پوسٹ کرنے والے افراد کے خلاف تحقیقات کے بعد قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔