لوک سبھا میں وزارت برائے کارپوریٹ امور کی جانب سے حیران کن اطلاع، سب سے زیادہ ممبئی میں کاروبار بند کئے گئے ہیں
EPAPER
Updated: August 13, 2026, 7:45 AM IST | Mumbai
لوک سبھا میں وزارت برائے کارپوریٹ امور کی جانب سے حیران کن اطلاع، سب سے زیادہ ممبئی میں کاروبار بند کئے گئے ہیں
گزشتہ ۵؍ سال کے عرصے میں مہاراشٹر جیسی ترقی یافتہ ریاست میں ۳۶؍ ہزار ۲۱۱؍ نجی کمپنیاں بند ہوئی ہیں۔ یہ اپوزیشن کے کسی لیڈر کا بیان نہیں ہے بلکہ مرکزی حکومت کے وزیر برائے کارپوریٹ امور کی اطلاع ہے جو انہوں نے لوک سبھا میں ایک پوچھے گئے سوال کے جواب میں تحریری طور پر دی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند سال میں اس بات کی شکایت عام ہوئی ہیں کہ بڑی بڑی صنعتیں اور کاروبار مہاراشٹر سے باہر جا رہے ہیں۔ اسی تعلق سے شیوسینا (ادھو) کے رکن پارلیمان راجا بھاؤ واجے نے لوک سبھا میں مہاراشٹر میں کمپنیوں کی موجودہ صورتحال کے تعلق سے سوال اٹھایا تھا، جس کے جواب میں مرکزی حکومت نے یہ جواب دیا ہے۔ایک طرف اگرچہ اتنی بڑی تعداد میں کمپنیوں کے بند ہونے کا ڈیٹا سامنے آیا ہے، وہیں اہم سوالات جیسے کہ آخر یہ کمپنیاں بند ہونے کی وجہ کیا تھی؟ اور اس سے ریاست میں روزگار پر کتنا اور کیسے اثر پڑا؟ ان کا کوئی جواب نہیں ملا ہے۔
اپوزیشن نے کمپنیوں کے بند ہونے کی وجہ موجودہ حکومت کی بلاوجہ مداخلت، بدعنوانی، اور ناسازگار حالات کو بتایا ہے۔ راجا بھائو واجے نے صحافیوں کو بتایا کہ کاروباری خدمات فراہم کرنے والی ۱۴؍ ہزار کمپنیاں بند ہوئی ہیں جبکہ ساڑھے ۶؍ ہزار کمپنیاں مینوفیکچرنگ سے تعلق رکھتی ہیں جو اب بند ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمپنیاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی تھیں ، ان کا بند ہوجانا افسوسناک ہے۔ کانگریس کے ریاستی ترجمان سچن ساونت نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی سیاسی مداخلت اور بدعنوانی نے ریاست کی معیشت کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا’’ ریاستی حکومت کاروبار کیلئے ساز گار ماحول تیار کرنے میں ناکام رہی ہے اس کی وجہ سے ریاست میں کاروبار بند کرنے کا رجحان بڑھا ہے۔یہ حکومت کی جانب سے روزگار فراہم کرنے کے دعوئوں کے برخلاف ہے۔
این سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے اس معاملے میں ٹویٹ کیا ہے ’’ ملک کا گروتھ انجن کہلانے والے اپنے مہاراشٹر میں گزشتہ ۵؍ سال میں ۳۶؍ ہزار ۲۱۱؍ کمپنیاں بند ہو گئی ہیں۔ ان میں سے ۱۲؍ ہزار کمپنیاں ملک کی معاشی راجدھانی ممبئی میں بند ہوئی ہیں۔ اس بات کی اطلاع خود مرکزی حکومت نے دی ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا’’ گزشتہ ۵؍ سال میں اقتدار کی رسہ کشی کے سبب سیاستدانوں کو روزگار، صنعت اور تعلیم پر توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں ملی۔ اس کا نتیجہ اب سامنے آ رہا ہے۔ ‘‘ روہت پوار نے کہا اب تو کم از کم سیاستدانوں کو اقتدار کی گھوڑ بازاری بند کرکے ریاست کی ترقی پر توجہ دینی چاہئے۔ مجھے امید ہے کہ ایسا کیا جائے گا۔ ‘‘