علماء نے غوث اعظم کی تعلیمات کی روشنی میں آپ کی انسانیت نوازی اور حق گوئی کا پیغام دیا۔ فلک شگاف نعرے بلند کئے گئے۔ مستان تالاب پر جلوس ختم ہوا۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 10:49 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
علماء نے غوث اعظم کی تعلیمات کی روشنی میں آپ کی انسانیت نوازی اور حق گوئی کا پیغام دیا۔ فلک شگاف نعرے بلند کئے گئے۔ مستان تالاب پر جلوس ختم ہوا۔
غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی سے منسوب حسب روایت امسال۷۲؍ واں جلوس غوثیہ مدنپورہ سنی بڑی مسجد سے اتوار۲۷؍ ستمبر کی سہ پہر کو۴؍ بجے عقیدت و احترام کے ساتھ برآمد ہوا۔ اس جلوس میں علماء، ائمہ، طلبہ اور عامۃ المسلمین نے شرکت کی اور غوث اعظم سے اپنی قلبی وابستگی کا ثبوت دیتے ہوئے نعرہ تکبیر ، نعرہ رسالت اور نعرہ غوثیہ بلند کیا۔
یاد رہے کہ منتظمین کی جانب سے گنپتی وسرجن کے سبب سے جلوس غوثیہ کی تاریخ آگے بڑھا دی گئی تھی اسی وجہ سے اتوار کو جلوس نکالا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:لتا منگیشکرکے گیت آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں
غوث اعظم کی تعلیمات سے امن وآشتی کا پیغام
جلوس برآمد ہونے سے قبل سانکلی اسٹریٹ جنکشن پر حسب ترتیب سابقہ مختصر وقت کے لئے اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ یہاں علماء نے غوث اعظم کی تعلیمات کی روشنی میں پیغام دیا کہ آپ کی تعلیمات پر عمل آوری سے دلوں کو سکون، پریشان حالوں کو راحت اور دکھی دلوں کو مرہم مل سکتا ہے۔ آپ کے ان اوصاف کو ہمیں بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔مولانا غلام عبدالقادر علوی (براؤں شریف) نے آپ کی تعلیمات کو اپنانے ، آپ کی حق گوئی سے سبق لینے اور اولیاء عظام سے اپنے تعلق کو مزید مظبوط کرنے کی خصوصیت سے تلقین کی جبکہ منانی میاں نے دعا کروائی۔جلوس میں شامل مولانا مقصود علی خان نوری نے کہا کہ میں تقریباً۶۰؍ برس سے جلوس میں شرکت کررہا ہوں۔ اس جلوس کا مقصد ہی یہ ہے کہ امن کا پیغام عام کیا جائے اور خواجہ کا ہندوستان سلامت رہے۔
جلوسِ غوثیہ کی قیادت نبیرۂ اعلیٰ مولانا منان رضا خان عرف منانی میاں، مولانا غلام عبدالقادر علوی ، مولانا عمران رضا خان سمنانی، مولانا کوثر ربانی جبل پوری، الحاج محمد سعید نوری ، مولانا فریدالزماں، مفتی زبیر احمد صباحی، مولانا اعجاز کشمیری، مولانا خلیل الرحمن نوری، قاری عبدالرحمن ضیائی ،مولانا امان اللہ رضا اور دیگر علماء و مشائخ نے کی۔ جلوسِ غوثیہ مدنپورہ سے روانہ ہوکر اپنے طے شدہ راستوں ناگپاڑہ، جے جے، بھنڈی بازار، مینارہ مسجد، محمد علی روڈ اور دیگر شاہراہوں سے گزرتے ہوئے مستان تالاب پر رقت آمیز دعا پر ختم ہوا۔
استقبال اور خوبصورت جھانکیاں
جلوس غوثیہ کے راستے میں مختلف مقامات پر عاشقانِ غوثِ اعظم کی جانب سے قائدین کا استقبال کیا گیا اور لنگرِ غوثِ پاک اور نیاز بھی تقسیم کی گئی۔ جلوس میں پہلے کچھ علماء وقائدین پیدل چل رہے تھے تو بزرگ علماء گاڑیوں میں سوار تھے جبکہ کئی علماء بگھیوں میں سوار تھے۔ شرکائے جلوس ہاتھوں میں جھنڈے اٹھائے ذکر و اذکار میں مصروف نظر آئے۔ اس کے علاوہ مختلف مذہبی مقامات کی خوبصورت جھانکیاں جن میں روضۂ غوثِ پاک، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ اور دیگر مقامات کی جھانکیاں خصوصی توجہ کا مرکز رہیں۔ سنی دعوت اسلامی کی جانب سے اس کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین کی بحالی کیلئے بھوک ہڑتال، انتظامیہ پر سنگین الزاما ت
پولیس کا سخت بندوبست
جلوس کے دوران راستے بھر پولیس کا سخت پہرہ تھا اور ٹریفک میں بھی تبدیلی کی گئی تھی۔ اتوار کو چھٹی کا دن ہونے کے سبب شہریوں کو متعدد راستے بند ہونے کے باوجود بہت زیادہ دقت نہیں ہوئی۔
۱۵۳؍ کے تحت پولیس کا نوٹس
جلوس کے منتظمین میں شامل مولانا خلیل الرحمن نوری کو پولیس کی جانب سے قانونی ضوابط کی پابندی نہ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے دفعہ۱۵۳؍ کے تحت نوٹس جاری کیا گیا۔ پولیس کے مطابق سانکلی اسٹریٹ جنکشن پر اسٹیج بنانے کے لئے اجازت نہیں لی گئی تھی، حالانکہ یہاں آج نہیں برسہا برس سے اس موقع پر اسٹیج بنایا جارہا ہے۔