امسال عیدالاضحی کے موقع پر ۵۰؍فیصد بھی بکروں کی قربانی نہ ہوسکی

Updated: August 07, 2020, 7:40 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

چمڑے کے تاجروں کے مطابق قلابہ سے کلیان اور بھیونڈی تک مجموعی طور پر۷۵؍تا۸۰؍ہزار کھالیں جمع ہوئیں جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد۳؍ لاکھ سے زائد تھی

Goat Skin - Pic : Inquilab
دھاراوی میں تاجربکروں کی کھالوں کا معائنہ کررہے ہیں۔ (تصویر: انقلاب

 عید الاضحی میں قربانی کے لئے بکروں کی کمی، قربانی کرنے والوں کو بکرا نہ ملنا، گاڑیوں کا روکا جانا اور بکروں کو ضبط کرکے تاجروں‌سے جرمانہ وصول کرنے کا نتیجہ قربانی کرنے والوں کیلئے زبردست پریشانی کی صورت میں ظاہر ہوا‌اور چمڑے کے تاجروں کے مطابق اس دفعہ مدارس کے ذریعے قربانی کی جو کھالیں فروخت  کی گئی ہیں، اس سے واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے امسال آدھے سے بھی کم بکروں کی قربانی ہوئی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ یہ تمام مسائل حکومت کی نگاہ میں مسائل نہ رہ کر سہولت قرار دیئے گئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اقلیتی امور کے وزیر نے ببانگ دہل کہا‌ تھا کہ کوئی شخص قربانی سے محروم نہیں رہا۔ انقلاب نے بقرعید سے قبل چمڑے کے تاجروں  کے حوالے سے  یہ خبر نمایاں کی تھی کہ مذکورہ مسائل کے سبب امسال۵۰؍ فیصد سے بھی کم قربانی ہونے کا امکان ہے اور بالآخر جب کھالیں دھاراوی  میں چمڑے کے تاجروں کے یہاں لائی گئیں تو  یہ    سچ ثابت ہوا۔
 دھاراوی میں چمڑے کے بڑے تاجر سید عنایت حسین نے بقرعید میں مدارس کے ذریعے جمع کی جانے والی کھالوں‌ کے تعلق سے نمائندۂ انقلاب کو بتایاکہ ۵۵؍ ہزار سے ۶۰؍ ہزار  کے درمیان کھالیں قلابہ سے تھانے اور قلابہ سے بوریولی کے درمیان واقع‌ مدارس کے ذریعے لائی گئیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ کورونا وائرس کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ میرا روڈ، وسئی، نالاسوپارہ اور بھیونڈی وغیرہ سے قربانی کی کھالیں مدارس والے یا تاجر دھاراوی نہیں لاسکے اور انہوں نے کلیان میں کھالیں فروخت کیں۔
  کلیان کے چمڑے بیوپاریوں الطاف سید اور عبدالقادر نے بتایا کہ اس دفعہ وہاں مجموعی طور پر تقریبا۹؍ ہزارکھالیں جمع ہوئیں جبکہ گزشتہ سال کلیان میں۲۵؍ ہزار سے زائد کھالیں لائی گئی تھیں۔‌ ان اعداد و شمار کی روشنی میں بھی یہ واضح ہوجاتا  ہے کہ امسال گزشتہ سال کے مقابلے بکروں کی  آدھی بھی قربانی نہیں ہوسکی ہے ۔  
 کم قربانی کی وجہ ان لوگوں نے جانوروں کا کم آنا، لوگوں کا آبائی وطن چلاجانا اور کور نا سے پیدا شدہ حالات بتائی ۔
 سید عنایت حسین نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال تقریباً۲؍ لاکھ ۲۱؍ ہزار بکرے دیونار میں فروخت  ہوئے تھے اور میرا روڈ، دہیسر، ملاڈ، کرلا، ساکی ناکہ اور دیگر مسلم علاقوں میں ایک لاکھ   سے زیادہ بکرے فروخت ہوتے تھے جبکہ امسال کئی مسائل کے سبب مجموعی طور پر۷۰؍ ہزارسے۸۰؍ ہزار بکر ے ہی فروخت ہوسکے اور اتنی ہی کل کھالیں‌ جمع ہوئیں۔ اس بناء پر یہ صاف ہوجاتا ہے کہ گزشتہ سال۳؍ ہزار ۱۵؍ ہزار تا ساڑھے ۳؍ لاکھ بکروں کے مقابلے امسال ایک لاکھ کے اندر بکروں کی قربانی ہوئی اور کوشش کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ قربانی کرنے سے محروم رہے خواہ حکومت کچھ بھی دعوی کرے۔
ذمہ داران مدارس نے تصدیق کی 
 بکروں کی قربانی میں زبردست کمی کی تصدیق ذمہ‌داران  مدارس نے بھی کی۔دارالعلوم محمدیہ کے نائب ناظم مولانا سید اطہر علی نے بتایا کہ اس دفعہ قربانی کی تقریباً ساڑھے تین ہزار کھالیں جمع ہوئیں جبکہ گزشتہ سال ساڑھے۵؍ہزار کھالیں جمع ہوئی تھیں ۔ان کے مطابق کھالیں کم‌‌ جمع‌ ہونے کا سبب بکروں‌ کا کم آنا، بکروں‌ کا مرجانا‌‌ اور ایک وجہ اسٹاف اور طلبہ کی عدم‌ موجودگی ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت کی غفلت اور مسلم سیاسی لیڈران کی ناکامی کے سبب پیدا شدہ مسائل بھی اس کی وجہ رہے ۔
 ایسا ہی جواب معراج العلوم چیتا کیمپ کے سربراہ قاری محمد صادق خان نے بھی  دیا۔انہوں‌ نے مذکورہ بالا وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دفعہ۱۲۰۰؍ کھالیں‌جمع ہوئیں جبکہ گزشتہ سال  ۲۸۰۰؍ کھالیں‌ جمع ہوئی تھیں اور یہ سب کچھ قربانی میں‌پیدا شدہ‌ مسائل کا نتیجہ ہے۔
 دارالعلوم امدادیہ کے ناظم حافظ عظیم الرحمٰن صدیقی نے بھی حالات کے سبب کم کھالیں جمع ہونے کا  حوالہ دیالیکن انہوں نے اسے بہتر بھی قرار دیا کیونکہ معاونین‌ مخیرین اور دارالعلوم کے سابق طلبہ نے خصوصی توجہ دی اور۲۸۰۰؍ کھالیں جمع ہوگئیں لیکن یہ سچ ہے کہ لوگوں کو قربانی کیلئے دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

bakri eid Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK