• Sat, 03 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کل تک مسلم ووٹوں پر جیت کر آنے والوں کو اب مسلم امیدواروں سے بیر؟

Updated: January 02, 2026, 11:46 PM IST | Nanded

ناندیڑ میں اشوک چوان اور ڈی پی ساونت کی گفتگو کا آڈیو وائرل جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ ہندو پینل میں مسلم امیدوار کی ضرورت نہیں ہے‘‘

Former Congress and current BJP leader Ashok Chavan
سابق کانگریسی اور موجودہ بی جے پی لیڈر اشوک چوان

کل تک  سیکولرزم کی  دہائی دے کر مسلم ووٹوں کے دم پر الیکشن جیتنے والے اشوک چوان کو بی جے پی میں شامل ہوتے ہی مسلم امیدواروں سے بیر ہو گیا ہے۔حال ہی میں ناندیڑ میں ایک آڈیو ریکارڈنگ وائرل ہوئی ہے جس نے کئی سنگین سوالات کھڑے کئے ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوان جو کچھ عرصہ پہلے تک کانگریس میں تھے اور ان کے قریبی سمجھے جانے والے سابق ریاستی وزیرڈی پی ساونت کی ایک امیدوار کے ساتھ ہونے والی اس مبینہ گفتگو میں ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے سے صاف انکار کیا گیا ہے۔
  آڈیو میں کارپوریشن کے وارڈ نمبر ۱۵؍کے پینل کی تشکیل پر گفتگو سنائی دیتی ہے، جہاں ہندو امیدواروں کے ساتھ ایک مسلم امیدوار کو شامل کرنے کی تجویز رکھی جاتی ہے۔مبینہ آڈیو کے مطابق، ڈی پی ساونت اس تجویز کو صاف طور پر مسترد کرتے  ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’’ہندو پینل میں مسلم امیدوار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘  یاد رہے کہ  وارڈ نمبر ۱۵؍میں مسلم رائے دہندگان کی تعداد ۱۸؍ ہزار سے زائد ہے۔اس کے باوجود اشوک چوان اور انہی کی طرح سیکولر رہ چکے ڈی پی ساونت کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دینا چاہتے۔  حالانکہ اس آڈیو کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی  ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اشوک چوان اور ساونت کے درمیان کی گفتگو ہے۔
  مقامی باشندے سوال پوچھ رہے ہی کہ جو لیڈر برسوں تک خود کو سیکولر نظریات کا علمبردار بتاتے رہے، پارٹی بدلتے ہی ان کی سوچ اور زبان میں اس قدر تبدیلی آ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کیلئے اصول نہیں بلکہ اقتدار اہم ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ کئی دہائیوں تک مسلم ووٹوں کے دم پر جیت کر آنے والے اشوک چوان ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ دلانے سے قاصر ہیں؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK