ناندیڑ میں اشوک چوان اور ڈی پی ساونت کی گفتگو کا آڈیو وائرل جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ ہندو پینل میں مسلم امیدوار کی ضرورت نہیں ہے‘‘
EPAPER
Updated: January 02, 2026, 11:46 PM IST | Nanded
ناندیڑ میں اشوک چوان اور ڈی پی ساونت کی گفتگو کا آڈیو وائرل جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ ہندو پینل میں مسلم امیدوار کی ضرورت نہیں ہے‘‘
کل تک سیکولرزم کی دہائی دے کر مسلم ووٹوں کے دم پر الیکشن جیتنے والے اشوک چوان کو بی جے پی میں شامل ہوتے ہی مسلم امیدواروں سے بیر ہو گیا ہے۔حال ہی میں ناندیڑ میں ایک آڈیو ریکارڈنگ وائرل ہوئی ہے جس نے کئی سنگین سوالات کھڑے کئے ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوان جو کچھ عرصہ پہلے تک کانگریس میں تھے اور ان کے قریبی سمجھے جانے والے سابق ریاستی وزیرڈی پی ساونت کی ایک امیدوار کے ساتھ ہونے والی اس مبینہ گفتگو میں ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے سے صاف انکار کیا گیا ہے۔
آڈیو میں کارپوریشن کے وارڈ نمبر ۱۵؍کے پینل کی تشکیل پر گفتگو سنائی دیتی ہے، جہاں ہندو امیدواروں کے ساتھ ایک مسلم امیدوار کو شامل کرنے کی تجویز رکھی جاتی ہے۔مبینہ آڈیو کے مطابق، ڈی پی ساونت اس تجویز کو صاف طور پر مسترد کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’’ہندو پینل میں مسلم امیدوار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ یاد رہے کہ وارڈ نمبر ۱۵؍میں مسلم رائے دہندگان کی تعداد ۱۸؍ ہزار سے زائد ہے۔اس کے باوجود اشوک چوان اور انہی کی طرح سیکولر رہ چکے ڈی پی ساونت کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دینا چاہتے۔ حالانکہ اس آڈیو کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اشوک چوان اور ساونت کے درمیان کی گفتگو ہے۔
مقامی باشندے سوال پوچھ رہے ہی کہ جو لیڈر برسوں تک خود کو سیکولر نظریات کا علمبردار بتاتے رہے، پارٹی بدلتے ہی ان کی سوچ اور زبان میں اس قدر تبدیلی آ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کیلئے اصول نہیں بلکہ اقتدار اہم ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ کئی دہائیوں تک مسلم ووٹوں کے دم پر جیت کر آنے والے اشوک چوان ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ دلانے سے قاصر ہیں؟