ہزاروں افغان باشندے امریکی فوجی اڈوں پر بے یارومدد گار پڑے ہیں

Updated: September 19, 2021, 8:22 AM IST | Washington

امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ افغان جنگ میں امریکی فوجیوں کی مدد کرنے والے افغان شہریوں کو اپنے یہاںپناہ بلکہ شہریت دے گا

Afghans await US promises (file photo)
افغان باشندوں کو امریکی وعدوں کے پورا ہونے کا انتظار ہے ( فائل فوٹو)

)  افغانستان میں طالبان حکومت آنے سے پہلے امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغان جنگ میں امریکی فوجیوں کی مدد کرنے والے افغان باشندوں کو   اپنے یہاں پناہ دے گا بلکہ انہیں امریکہ کی شہریت بھی دی جائے گی۔ ہزاروں ایسے لوگ جو امریکی شہریت یا پناہ کی امید میں اپنا وطن چھوڑ کر وہاں پہنچے ہیں اب بھی امریکی وعدے کے پورا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
 امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق دسیوں ہزاروں افغان شہری جنھیں امریکہ نے کابل سے نکالا تھا اب بھی امریکہ میں مختلف فوجی اڈوں اور ایک تیسرے ملک میں اپنی آئندہ کے ٹھکانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ’’ صحت اور تحفظ کے عمل‘‘  نے اس معاملے کو سست روی کا شکار کیا اور کچھ کیس میں تو اس کو روک ہی دیا۔ اس وقت ہزاروں افغان اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کیلئے امریکہ کے مختلف فوجی اڈوں پر انتظار کر رہےہیں۔اس سے قبل بی بی سی کی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ قطر اور امریکہ کے فوجی اڈوں پر کچھ افغان ناموزوں صورتحال میں رہ رہے ہیں۔ خیال رہے کہ ابھی بھی متعدد افغان شہری ملک سے باہر جانے کے منتظر ہیں۔ تین دن قبل ۷؍ افغان پناہ گزین امریکہ آئے ہیں۔ 
نیویارک ٹائمز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق ۷؍ افغان شہری امریکہ میں۸؍ فوجی اڈوں پر رہ رہے ہیں اور امریکہ میں رہنے کی امید پر وہیں قیام کئے ہوئے ہیں۔ ۶؍افغان شہری امریکہ کے باہر فوجی بیرکوں میں رہ رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر تعداد جرمنی میں مقیم ہے۔
 کچھ افغان پناہ گزینوں کو فوجی اڈوں سے آئندہ چند ہفتوں میں ان کی منزل تک پہنچا دیا جائے گا مگر ان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد ان فوجی اڈوں پر ہی طویل عرصے انتظار کرتی رہے گی۔ امریکہ کے وزیر خارجہ نے افغانستان سے امریکہ سمیت غیر ملکی افواج کے انخلا کا دفاع کیا ہے اور اس حوالے سے کی جانے والی تنقید کو رد کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ نے دنیا کی تاریخ میں طویل ترین ائیرلفٹ آپریشن مکمل کیا ہے۔
 واضح رہے کہ اس وقت افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد غیریقینی صورتحال میں رہ رہی ہے اور اس سے بوڑھوں، بچوں اور خواتین کو ذہنی صدمے جیسے خطرات کا سامنا ہے۔امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نےگزشتہ دنوں کہا تھا کہ ان کی حکومت فوجی اڈوں سے ان افغان پناہ گزینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی پر کام کر رہی ہے۔ یہ کام کب تک ہوگا اس کی کوئی تفصیل انہوں نے بیان نہیں کی تھی۔ فی الحال انہیں انتظار کرنا ہوگا۔  واضح رہے کہ ۱۵؍ اگست کو طالبان کے اچانک اقتدار میں آجانےکے بعد امریکی وعدے یعنی وہاں کی شہریت کی امید میں ہزاروں لوگ امریکی طیاروں میں بیٹھ کر واشنگٹن پہنچے تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK