اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان نے کہا کہ غزہ میں فوجی حملے فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: August 12, 2026, 1:29 PM IST | Agency | New York
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان نے کہا کہ غزہ میں فوجی حملے فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ پورے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی جارحیت فلسطینیوں کو خطرات میں ڈال رہی ہے اور انسانی ضروریات کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا دفتر برائے رابطہ کاریِ انسانی امور خبردار کرتا ہے کہ غزہ بھر میں فوجی حملے فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور انسانی ضروریات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیکوریٹی اور تحفظ کے شراکت داروں نے جمعہ سے اب تک اس طرح کے متعدد واقعات ریکارڈ کئے ہیں، جن میں سے چند کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔فرحان حق نے مزید کہا کہ او سی ایچ اے نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت عام شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کا تحفظ لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کولمبیا میں زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر۲۱۳؍ ہوگئی، مزید اضافے کا خدشہ
دوسری جانب فرحان حق نے بتایا کہ غزہ میں بارودی خطرات کے خلاف کام کرنے والی ٹیموں نے اکتوبر۲۰۲۳ء میں تنازع کے آغاز سے اب تک خطے بھر میں ایک ہزار سے زائد دھماکہ خیز مواد کی نشان دہی اور مارکنگ کی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی کوششوں سے ملبہ ہٹانے، اہم بنیادی ڈھانچے تک رسائی فراہم کرنے اور پانی و نکاسیِ آب کی سہولیات کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد ملی ہے۔ فرحان حق نے مزید کہا کہ او سی ایچ اے نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت عام شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کا تحفظ لازمی ہے۔
انسانی امور کے شراکت دار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ان زندگی بچانے والی خدمات کو وسعت دینے اور بچوں اور امدادی کارکنوں سمیت عام شہریوں کو درپیش خطرات کو کم کرنے کیلئے بنیادی سامان اور خصوصی آلات کی ایک وسیع رینج کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جانی چاہئے۔واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک۷۳؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید اور ۱۷۴؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔