نیہا بورا کی قیادت میں ’’جین زی رائزنگ‘‘ ملک گیرمہم کا اعلان سی جے پی کی ’’کیا بولتی پبلک مہم ‘‘،جین زی کے روزگار پر مرکوز ’’چھاتروں کی گونج ‘‘کا تیسرا پروگرام آج الٰہ آباد میں
EPAPER
Updated: August 08, 2026, 7:39 AM IST | New Delhi
نیہا بورا کی قیادت میں ’’جین زی رائزنگ‘‘ ملک گیرمہم کا اعلان سی جے پی کی ’’کیا بولتی پبلک مہم ‘‘،جین زی کے روزگار پر مرکوز ’’چھاتروں کی گونج ‘‘کا تیسرا پروگرام آج الٰہ آباد میں
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(آئیسا) نے اعلان کیا ہے کہ وہ حالیہ جنتر منتر احتجاج کے پیغام کو ملک کے مختلف حصوں تک پہنچانے کیلئے ملک گیر مہم ’’جین زی رائزنگ ‘‘ شروع کررہی ہے۔ اس کی قیادت آئیسا کی صدر نیہا بورا کریں گی اور اس کا آغاز جمعہ،سے ہو گیا ہے۔ یہ ایک ماہ طویل مہم ہے جس میں نیہا بورا تعلیم میں اصلاحات، روزگار اور طلبہ سے متعلق مسائل کو لے کر ملک کی مختلف ریاستوں کا دورہ کریں گی۔ نیہا بورا نے اس تعلق سے انسٹا گرام پر ویڈیو جاری کرکے اعلان کیا کہ یہ مہم حالیہ جنتر منتر احتجاج کے جذبے کو ملک کے دیگر حصوں تک پہنچانے اور طلبہ و نوجوانوں کی آواز کو مزید منظم کرنے کی کوشش ہے۔ یہ پرامن تحریک تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے مطالبے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لئےمعیاری تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ مرکوز کرے گی۔ نیہا بورا کے اعلان کے مطابق اس تحریک میں حالیہ بھوک ہڑتالوں میں شامل رہے متعدد طلبہ لیڈر اور کارکن بھی شریک ہوں گے، جن میں دانش علی، منیش، آمین امیتوج اور دیگر شامل ہیں۔ رانچی سے اس کی شروعات ہو گئی ہے۔ وہاں سے یہ مہم کولکاتا،جے پور، ناگپور، حیدر آباد وغیرہ ہوتے ہوئے ادیشہ کی راجدھانی بھونیشور میں اختتام پذیر ہو گی۔ ملک کے مشرقی حصہ سے شروع ہونے والی مہم مغربی ہند، جنوبی ہند اور پھر دوبارہ مشرقی ہندوستان پہنچے گی۔ نیہا بورا نے بتایا کہ مہم کے دوران مختلف شہروں میں طلبہ، نوجوانوں اور مقامی شہریوں سے ملاقاتیں کی جائیں گی اور ان کے مسائل کو تحریک کے ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس سے بے روزگار نوجوانوں کا ایک ڈیٹا بیس تیار ہو جائے گا ۔
کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی )نےبھی نوجوانوں کو رجھانے اور ان کے مسائل کے حل کیلئے ’’کیا بولتی پبلک‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان گزشتہ روز ہی کیا ہے جو یکم ستمبر سے شروع کی جائے گی۔ یہ بھی ملک گیر مہم ہے۔ جنتر منتر پر احتجاج کے بعد مختلف ریاستوں میں نوجوانوں کی جانب سے شروع ہونے والی سرگرمیوں اور احتجاجی مظاہروں نےسی جے پی کو ملک کے نوجوانوں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اسی سلسلے میں اب پارٹی کی قیادت ملک کے مختلف حصوں کا دورہ کرے گی اور نوجوانوں سے ملاقات کرکے ان کی خواہشات، مسائل، خدشات اور تجاویز کو سمجھے گی اور ان کے حل کے لئے قومی پلیٹ فارم تیار کرے گی۔ کاکروچ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ اس ملک گیر ’ ’’کیا بولتی پبلک‘‘ مہم کے ذریعے حاصل ہونے والی آراء کی بنیاد پر ایک ’’یوتھ ریفارم چارٹر‘‘ تیار کیا جائے گا، جو شہریوں کی تجاویز اور نوجوانوں کی ضروریات پر مبنی ہوگا۔ پارٹی نے اس مجوزہ چارٹر کے لئے چار بنیادی ستون مقرر کئے ہیں جن میں جامع تعلیمی اصلاحات، تعلیم کو روزگار سے جوڑنا، ادارہ جاتی جواب دہی اور یکجہتی و اتحاد شامل ہیں۔پارٹی کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق جامع تعلیمی اصلاحات کے تحت پرائمری تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک پورے نظام تعلیم میں تبدیلیوں پر توجہ دی جائے گی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہونی چاہئے بلکہ اسے نوجوانوں کی عملی زندگی اور مستقبل کے مواقع سے بھی جوڑا جانا ضروری ہے۔
یوتھ کانگریس کی جانب سے شروع کی گئی ’’چھاتروں کی گونج‘‘‘ ملک گیر طلبہ و نوجوان رابطہ مہم ہے، جس کی قیادت لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کر رہے ہیں۔ اس مہم کا مقصد طلبہ، سرکاری ملازمتوں کے امیدواروں اور نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں موجود مسائل کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنا ہے۔آج اس مہم کے تحت تیسرا پروگرام الٰہ آباد میں ہونے والا ہے جبکہ اس کی شروعات راجستھان کے کوچنگ کے لئے مشہور شہر کوٹا سے ہوئی تھی ۔ دوسرا پروگرام دہرہ دون میں ہوا۔ دونوں ہی پروگرام نہایت کامیاب رہے جس کی وجہ سے طلبہ میں بھی جوش و خروش ہے اور یوتھ کانگریس بھی پوری سرگرمی کے ساتھ اسے کامیاب بنانے میںمصروف ہے۔ مہم میں خاص طور پر امتحانات میں بے ضابطگیوں، پرچہ لیک ہونے کے واقعات، بھرتی کے عمل میں تاخیر، تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت اور نوجوانوں میں بے روزگاری جیسے مسائل اور ان کے حل کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت اور جواب دہی یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ طلبہ کی محنت اور میرٹ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔’چھاتروں کی گونج‘ کے اہم مطالبات میں امتحانی نظام میں اصلاح، پرچہ لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی، فیس میں غیر منصفانہ اضافے کی مخالفت، نشستوں میں من مانی کمی روکنا اور طلبہ کی آواز کو دبانے کے بجائے اسے جمہوری انداز میں سننا شامل ہے۔ راہل گاندھی اس مہم کی قیادت بھلے ہی کررہے ہیں لیکن یہ مہم پوری طرح سے یوتھ کانگریس اور نوجوان کارکنوں کے بل پر چلائی جارہی ہے۔ اس سے جڑنے والےطلبہ بھی زیادہ تر جین زی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے حکومت کافی پریشان ہے۔