خواتین کی زندگی کے حوالے سے یہ بات بہت اہم ہے۔ خواتین کی زندگی مختلف کرداروں اور بے شمار ذمہ داریوں سے بھری ہوتی ہے۔ ان سب میں اکثر وہ تھک جاتی ہیں۔ چونکہ ان کے ذہن میں بہت ساری باتیں چلتی رہتی ہیں اس لئے انہیں ذہنی سکون بھی درکار ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 1:56 PM IST | Dr. Sharmeen Ansari | Mumbai
خواتین کی زندگی کے حوالے سے یہ بات بہت اہم ہے۔ خواتین کی زندگی مختلف کرداروں اور بے شمار ذمہ داریوں سے بھری ہوتی ہے۔ ان سب میں اکثر وہ تھک جاتی ہیں۔ چونکہ ان کے ذہن میں بہت ساری باتیں چلتی رہتی ہیں اس لئے انہیں ذہنی سکون بھی درکار ہوتا ہے۔
زندگی کی تیز رفتار دوڑ میں شاید سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والی چیز ہمارا اپنا سکون ہے۔ صبح سے شام تک ذمہ داریوں کو پورا کرتے کرتے جب ہم تھک جاتے ہیں تو عموماً یہی کہتے ہیں: ’’مَیں بہت تھک گئی ہوں، مجھے آرام چاہئے۔‘‘ اور آرام سے ہماری مراد اکثر صرف نیند ہوتی ہے۔ لیکن کیا ہر تھکن صرف سونے سے دور ہو جاتی ہے؟ کیا چند گھنٹے کی نیند ذہن میں چلنے والے سوالوں کو خاموش کرسکتی ہے؟ کیا آنکھیں بند کر لینے سے دل کے اندر جمع پریشانیاں بھی ختم ہو جاتی ہیں؟ شاید نہیں۔ کیونکہ آرام صرف سونے کا نام نہیں بلکہ اپنے جسم، ذہن، دل اور روح کی ضرورت کو سمجھنے اور اسے پورا کرنے کا نام بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہوم اسکولنگ کیا ہے؟ اور اسے اپنایا کیسے جائے؟
خواتین اکثر ایک وقت میں کئی ذمہ داریوں اور کئی خیالوں کو سنبھال رہی ہوتی ہیں۔ بظاہر وہ ایک کام کر رہی ہوتی ہیں، لیکن ذہن میں دوسرے بہت سے کاموں کی فہرست چل رہی ہوتی ہے۔ ایسے میں کبھی کبھی نیند سے زیادہ ضرورت خاموشی کی ہوتی ہے، چند ایسے لمحوں کی، جب کوئی سوال نہ ہو، کوئی مطالبہ نہ ہو اور کوئی ذمہ داری آواز نہ دے۔ لیکن ہر تھکن ذہنی بھی نہیں ہوتی۔ کبھی دل تھک جاتا ہے۔ خواتین دوسروں کے جذبات کو سمجھتی ہیں، ان کے دکھوں میں شریک ہوتی ہیں، گھر کا ماحول خوشگوار رکھنے کے لئے بہت سی باتیں خاموشی سے برداشت کر لیتی ہیں۔ کبھی بچوں کو پریشان نہ کرنا ہو، کبھی کسی اپنے کو دکھ نہ پہنچانا ہو، اس لئے اپنے جذبات اور اپنی خواہشوں کو پیچھے رکھ دیتی ہیں۔ ہر وقت مضبوط رہنا ضروری نہیں، ہر بات برداشت کرنا ضروری نہیں اور ہر شخص کو خوش رکھنا بھی ممکن نہیں۔ ضرورت پڑنے پر ’نہیں‘ کہنا بھی ضروری ہے۔ اپنی حدود قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ اپنے لئے وقت نکالنا خود غرضی نہیں، بلکہ ایک ضرورت ہے۔
آج کی زندگی میں ایک اور تھکن ہمارے اعصاب کو بھی مسلسل متاثر کرتی ہے۔ موبائل فون، پیغامات، خبریں اور سوشل میڈیا کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہمیں ہر وقت کسی نہ کسی شور سے جوڑے رکھتا ہے۔ ہم اپنے گھر میں موجود ہوتے ہیں، لیکن ذہنی طور پر نہ جانے کتنی جگہوں پر بکھرے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی موبائل فون سے دور ہونا بھی آرام ہے۔ خاموشی سے چائے پینا بھی آرام ہے۔ آسمان کو دیکھنا، صبح کی ہوا میں سانس لینا اور فطرت کے قریب چند لمحے گزارنا بھی آرام ہے۔ کیونکہ اعصاب کو بھی سکون چاہئے۔ اور کبھی انسان کو لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے، کسی سہیلی کے ساتھ دل کی بات، کسی اپنے کے ساتھ ہنسی کے چند لمحے یا صرف کسی کا محبت سے پوچھ لینا، ’’تم کیسی ہو؟‘‘ لیکن کبھی لوگوں کے درمیان رہتے رہتے انسان تھک جاتا ہے اور اسے تنہائی چاہئے ہوتی ہے۔ ایسی تنہائی، جس میں اسے کسی کردار کو ادا نہ کرنا پڑے۔ جہاں وہ صرف چند لمحوں کے لئے خود اپنے ساتھ رہ سکے۔
یہ بھی پڑھئے:Indo-fusion: آؤٹنگ کے لئے پرفیکٹ لُک
خواتین کی زندگی میں ان کی اپنی شخصیت بھی ہے، جسے اکثر ذمہ داریوں کے ہجوم میں بھلا دیا جاتا ہے۔ ہر خاتون کے کچھ خواب، کچھ شوق اور کچھ صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ کوئی لکھنا چاہتی ہے، کوئی پڑھنا، کوئی کچھ نیا سیکھنا چاہتی ہے۔ اپنے شوق کے لئے وقت نکالنا فضول نہیں، کیونکہ یہی چیزیں انسان کو اندر سے زندہ رکھتی ہیں۔ اور جب جسم، ذہن اور دل کی تمام ضرورتوں کے باوجود بھی ایک بے چینی باقی رہے تو شاید روح آرام مانگ رہی ہوتی ہے۔ دعا، تلاوت، ذکر اور سجدہ انسان کو ایک ایسا سکون دیتے ہیں جو دنیا کی مصروفیتوں سے کہیں گہرا ہوتا ہے۔ بعض مسائل فوراً ختم نہیں ہوتے، لیکن یہ یقین ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ کوئی ہے جو ہماری خاموشیوں کو بھی جانتا ہے اور ہمارے دل کے بوجھ کو بھی سمجھتا ہے۔
اس لئے جب کبھی تھکن محسوس ہو تو صرف یہ نہ سوچیں کہ، ’’مجھے سونا ہے۔‘‘ ذرا رک کر خود سے پوچھیں، کیا میرا جسم تھکا ہوا ہے؟ کیا میرا ذہن مسلسل سوچتے سوچتے بوجھل ہوچکا ہے؟ کیا میرا دل کسی ان کہی بات کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے؟ کیا مجھے دنیا کے شور سے کچھ دیر دور ہونا ہے؟ یا میری روح اپنے رب کے قریب ہونے کیلئے بے چین ہے؟
خواتین دوسروں کی ضرورتوں کو بہت جلد پہچان لیتی ہیں، مگر زندگی میں ایک بار اپنے آپ کو بھی اسی توجہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ آرام کرنا سستی نہیں۔ کچھ دیر رک جانا ناکامی نہیں۔ اپنے لئے وقت نکالنا خود غرضی نہیں بلکہ اپنے وجود کو سمجھنا اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھنا بھی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس لئے زندگی کی اس تیز رفتار دوڑ میں کبھی کبھی رک جائیے، سب کو سنبھالتے سنبھالتے خود کو بھی سنبھالئے، اور خود سے ضرور پوچھئے: ’’مجھے اس وقت کس قسم کے آرام کی ضرورت ہے؟‘‘ کیونکہ.... کبھی جسم نہیں، ذہن تھکا ہوتا ہے۔ کبھی ذہن نہیں، دل تھکا ہوتا ہے۔ اور کبھی زندگی کی تمام مصروفیتوں کے درمیان روح صرف سکون کی طلبگار ہوتی ہے۔