انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی اور پولیس کو ایک میمورنڈم بھی دیا گیا جس میں طلبہ کو آئندہ ذات پات کی بنیاد پر ہراساں نہ کرنے جیسے مطالبات شامل تھے۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 1:50 PM IST | Inquilab News Network | Powai
انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی اور پولیس کو ایک میمورنڈم بھی دیا گیا جس میں طلبہ کو آئندہ ذات پات کی بنیاد پر ہراساں نہ کرنے جیسے مطالبات شامل تھے۔
بیچلر آف ٹیکنالوجی ( بی ٹیک) کورس کے دوسرے سال کے طالب علم ساحل واکوڈےکی مبینہ خودکشی اور اس کے بعد سامنے آنے والے الزامات پرآرپی آئی (اٹھاولے) اور دیگر طلبہ تنظیموں کے رضاکاروں نے منگل کو آئی آئی ٹی بامبے(پوائی) کے باہر احتجاج کیا۔ اس احتجاج کے دوران انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور پولیس کو ایک میمورنڈم بھی دیا گیا جس میں طلبہ کو آئندہ ذات پات کی بنیاد پر ہراساں نہ کرنے اور اس طرح کی حادثات نہ ہونے کو یقینی بنانے جیسے مطالبات شامل تھے۔ اس مظاہرے کے دوران پولیس نعرے بازی کرنے والے کئی کارکنان اور مظاہرین کو حراست میں لے کر پوائی پولیس اسٹیشن لے گئی تھی، بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:گرانڈ پیرنٹس ڈے تقریب میں طلبہ کے دادادادی اور نانانانی کی شرکت
آئی آئی ٹی بامبے انتظامیہ نے اس واقعے پر معذرت بھی شائع کی ہے، پروفیسر کو معطل کر دیا ہے اور طلبہ کے مطالبات پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ذات پات کے تعلق سے ہراساں کرنے کے الزام کے تعلق سے آئی آئی ٹی بامبے فیکلٹی فورم کے صدر و پروفیسر راجکمار پنت نے کہا ہے کہ انسٹی ٹیوٹ کے ایس سی /ایس ٹی سیل کو ساحل کی جانب سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی۔ واضح رہے کہ ساحل واکوڈے کے اہل خانہ اور مظاہرین کا الزام ہے کہ اسے ذات پات پر مبنی طعنوں کے ذریعے اور پروفیسرز کی جانب سے ہراساں کیا جاتا تھا جس سے عاجز آکر اس نے انتہائی قدم اٹھایا ہے۔