• Wed, 21 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹائیگر شروف پر فائرنگ : حملہ آوروں کا اصل نشانہ سلمان خان تھے: رپورٹ

Updated: October 21, 2026, 5:07 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے معاملے میں تحقیقات کے دوران ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، حملہ آوروں کا اصل نشانہ ٹائیگر شروف نہیں بلکہ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان تھے۔

Tiger And Salman.Photo:INN
سلمان اور ٹائیگر۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے معاملے میں تحقیقات کے دوران ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، حملہ آوروں کا اصل نشانہ ٹائیگر شروف نہیں بلکہ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ ملزمان نے ممبئی پہنچنے کے بعد سلمان خان کی رہائش گاہ کی نگرانی بھی کی تھی، لیکن وہاں سخت حفاظتی انتظامات دیکھ کر انہوں نے اپنا منصوبہ تبدیل کرلیا اور مبینہ طور پر ٹائیگر شروف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ 
رپورٹس کے مطابق، تین ملزمان سلمان خان کو نشانہ بنانے کے ارادے سے ممبئی پہنچے تھے۔ انہوں نے باندرہ کے بینڈ اسٹینڈ علاقے میں واقع سلمان خان کی رہائش گاہ کے اطراف کی صورت حال کا جائزہ لیا، لیکن وہاں سخت حفاظتی انتظامات اور پولیس کی موجودگی کے باعث مبینہ طور پر اپنے منصوبے پر عمل نہیں کرسکے۔ تحقیقات سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس کے بعد ملزمین  نے ایسے اداکار کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا جس کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات حاصل کرنا نسبتاً آسان ہو۔ اس دوران ان کی توجہ ٹائیگر شروف پر مرکوز ہوگئی۔ تاہم، ان تفصیلات کی حتمی تصدیق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔ 

یہ بھی پڑھئے:شکتی سامنت: استاد سے ہدایتکار تک کا شاندار سفر

رپورٹس کے مطابق، فائرنگ کا واقعہ اتوار کی شام ممبئی کے جوہو علاقے میں پیش آیا، جب ٹائیگر شروف پشپا نرسی گراؤنڈ سے فٹ بال کھیلنے کے بعد واپس جارہے تھے۔ اسی دوران موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کردی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، حملہ آوروں نے تقریباً سات گولیاں چلائیں اور پھر موقع سے فرار ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے فرار ہونے کے لیے استعمال کی گئی موٹر سائیکل کو اندھیری ویسٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب چھوڑ دیا اور بعد میں ٹرین کے ذریعے ممبئی سے نکلنے کی کوشش کی۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین مشتبہ ملزمین کو راجستھان کے کوٹا ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کیا۔ میڈیا رپورٹس میں ان کی شناخت ہریتک عرف روشن، ریحان اور پھول سنگھ کے طور پر بتائی گئی ہے۔ ان کی عمریں تقریباً ۱۸؍ سے ۲۲؍ سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔  تحقیقات سے متعلق ذرائع کے مطابق، ملزمین نے مبینہ طور پر ٹائیگر شروف اور ان کے مداحوں کے سوشل میڈیا کھاتوں پر نظر رکھی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، مداحوں کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور ریلز کے ذریعے انہیں اداکار کے فٹ بال کھیلنے کے معمول اور جوہو میں ان کی آمد و رفت کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی تھیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمان نے ٹائیگر شروف کو اس لیے نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا کیونکہ انہیں لگا کہ وہاں حفاظتی انتظامات سلمان خان کی رہائش گاہ کے مقابلے میں کم سخت ہیں۔ تفتیش کار اس بات کی بھی جانچ کررہے ہیں کہ حملے کی منصوبہ بندی کس نے کی، ملزمان کو ہدایات کہاں سے ملیں اور اس واقعہ میں مزید کون لوگ ملوث ہوسکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:ریاستی حکومت کا خواتین کی۷؍ اسکیموں میں کٹوتی کرنے کا فیصلہ

اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر ایک صوتی پیغام سامنے آیا، جس میں لارینس بشنوئی گروہ سے وابستہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ پیغام میں سلمان خان کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو بھی دھمکیاں دی گئیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، پیغام میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹائیگر شروف کو پہلے خبردار کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے مبینہ طور پر ان ہدایات پر عمل نہیں کیا۔ تاہم، اس صوتی پیغام کی صداقت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے، اس لیے اس میں کیے گئے دعوؤں کو ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جاسکتا۔ پولیس اس پہلو کی بھی تحقیقات کررہی ہے کہ فائرنگ کے واقعہ کا لارینس بشنوئی گروہ سے کیا تعلق ہے۔
 سلمان خان کو ماضی میں بھی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ ان کے خلاف دھمکیوں کا معاملہ لارینس بشنوئی سے وابستہ تنازع کے باعث بھی خبروں میں رہا ہے۔ ایسے میں ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے واقعہ میں سلمان خان کو مبینہ طور پر اصل نشانہ قرار دیے جانے والی رپورٹ نے بالی ووڈ شخصیات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق، پولیس سلمان خان کی رہائش گاہ اور دیگر متعلقہ مقامات پر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے رہی ہے۔ دوسری جانب، ٹائیگر شروف پر حملے کے سلسلے میں گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ واقعے کے پس پردہ محرکات اور مبینہ منصوبہ سازوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK