خود کو نئی نیشنل ورکنگ کمیٹی تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا،ریتا برت بنرجی نے دعویٰ کیا کہ’اصل ترنمول کانگریس ہم ہیں‘۔
ٹی ایم سی کے باغی لیڈران ریتا برت بنرجی کی سربراہی میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے-تصویر:آئی این این
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی)کےباغی دھڑے کے ۱۰؍ رکنی وفد نے جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمارسے ملاقات کی اور پارٹی میں کی گئی تنظیمی تبدیلیوں کے ساتھ نئی نیشنل ورکنگ کمیٹی (این ڈبلیو سی)کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ملاقات کےبعدباغی دھڑے کے رہنما ریتا برت بنرجی نے صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اصل ترنمول کانگریس ہم ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ہماری بات توجہ سے سنی ہے اور ہمیں امید ہے کہ جلد ہی اس معاملے پر فیصلہ کیا جائے گا۔‘‘واضح رہے کہ ۲۲؍جون کو کولکاتا میں منعقدہ نمائندہ اجلاس بھی ریتابرت بنرجی کی قیادت میں ہوا تھا، جس میں پارٹی کے نئے صدر، نائب صدر اور ۳۰؍ رکنی قومی مجلس عاملہ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس سے قبل، ۵۸؍ اراکین اسمبلی نے پارٹی سے الگ ہو کر ایک نیا دھڑا تشکیل دیاتھا۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کےبعد ۳؍جون کو ترنمول کانگریس کے ۸۰؍ میں سے ۵۸؍ اراکین اسمبلی نےممتا بنرجی کی قیادت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔اس کے بعد ۱۵؍جون کو پارٹی کے ۲۰؍اراکین پارلیمنٹ نےبھی ٹی ایم سی چھوڑ کر نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا(این سی پی آئی) میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
موجودہ سیاسی صورتحال کا موازنہ ۲۰۲۲ء میںمہاراشٹر میں ہونے والی شیو سینا کی بغاوت سےکیا جا رہا ہے۔ ۲۰؍جون ۲۰۲۲ء کو ایکناتھ شندےکی قیادت میں شیو سینا کے ۵۵؍میں سے ۴۰؍اراکین اسمبلی نے پارٹی سے بغاوت کر دی تھی، جبکہ اس وقت ادھو ٹھاکرےوزیراعلیٰ تھے۔ اس کے بعد ریاستی گورنر نے فلور ٹیسٹ کرانے کی ہدایت دی۔ ادھو ٹھاکرے نے معاملہ سپریم کورٹ میںاٹھایا، تاہم عدالت نے فلور ٹیسٹ پر روک نہیںلگائی، جس کے بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ترنمول کانگریس کے پاس لوک سبھا میں پہلے ۲۸؍ اراکین تھے، جن میں سے ۲۰؍ اراکین الگ ہو چکے ہیں، جس کے بعد پارٹی کے پاس صرف ۸؍ اراکین پارلیمنٹ رہ گئے ہیں۔ راجیہ سبھامیں پارٹی کے ۱۳؍میں سے۴؍اراکین استعفیٰ دے چکے ہیں، لہٰذا ایوان بالا میں اب صرف۹؍اراکین باقی ہیں۔اسی طرح مغربی بنگال اسمبلی میں ٹی ایم سی نے حالیہ انتخابات میں ۸۰؍نشستیں حاصل کی تھیں، لیکن ۵۸؍اراکین اسمبلی کےباغی دھڑا بنانے کے بعد ممتا بنرجی کے پاس اب صرف ۲۲؍ اراکین اسمبلی رہ گئے ہیں۔