دَل بدلی قانون سے بچنے کیلئے غیر معروف پارٹی ڈھونڈ نکالی، اسپیکر کو مکتوب سونپا۔
ٹی ایم سی کے باغی اراکین اسپیکر اوم برلا کے ساتھ- تصویر:آئی این این
لوک سبھا میں ترنمول کانگریس کی بغاوت میں اتوار کو اس وقت دلچسپ موڑ آگیا جب باغی گروپ نے تریپورہ کی ایک غیر معروف سیاسی جماعت ’’نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی‘‘ میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔اس طرح وہ آسانی سے دَل بدلی قانون سے بچ سکتے ہیں۔ مذکورہ قانون کے تحت دوتہائی سے زیادہ اراکین اگر اپنی پارٹی چھوڑ کر کسی اور پارٹی میں شامل ہوتے ہیں توان پر دَل بدلی کا اطلاق نہیں ہوگا اوران کی رکنیت محفوظ رہےگی۔ ٹی ایم سی کے ناراض اراکین کے تعلق سے یہ قیاس آرائیاں ہورہی تھیں کہ وہ اسپیکر سے ملاقات کرکے خود کو لوک سبھا میں علاحدہ گروپ کے طور پرتسلیم کرنے کا مطالبہ کریں گے، جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جارہاتھا کہ قانون میں اس کی گنجائش نہیں ہےا ور مذکورہ اراکین کو اپنی رکنیت کھونی پڑسکتی ہے۔
بہرحال اتوار کو ترنمول کے لوک سبھا کے باغی اراکین اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی اور بتایا کہ انہوں نے نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کر لیا ہے۔ انہوں نے ایوان میں ایک الگ بلاک کے طور پر تسلیم کرنے کی درخواست بھی کی۔ اس سے قبل ترنمول کانگریس کے پارلیمانی پارٹی لیڈر ابھیشیک بنرجی نے اسپیکر کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ پارٹی کے کسی علیحدہ دھڑے کے دعویداری کو منظوری نہ دی جائے۔ یہ مکتوب اتوار کی شام کیرتی آزاد اور ساگاریکا گھوش نے اسپیکر کو پیش کیا۔ بعد میں باغی اراکین اسپیکر سے ملنے پہنچے۔ ملاقات کے بعد باغی رکن پارلیمان سودیپ بندوپادھیائے نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے دھڑے نے علاقائی جماعت این سی پی آئی میں انضمام کر لیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ’’یہ علاقائی پارٹی ہے، ہم اس میں ضم ہو گئے ہیں۔‘‘ باغی گروپ کی لیڈر کاکولی گھوش دستیدار نے بتایا کہ ’’ہم۲۰؍ اراکین پارلیمان جو آل انڈیا ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے، اسپیکر سے ملے ہیں اور انہیں ایک خط دیا ہے جس میں ہم نے الگ بلاک کے طور پر بیٹھنے کی اجازت مانگی ہے۔ ہم وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے کی حمایت کریں گے۔‘‘اوم برلا سے ملاقات سے قبل باغی اراکین جن میں سیونی گھوش، مالا رائے، شتابدی رائے اور اروپ چکرورتی شامل تھے، منے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کی رہائش گاہ پر میٹنگ کی جہاں کاکولی گھوش نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ۲۲؍ اراکین پارلیمان ہیں۔ میٹنگ میں یوسف پٹھان اور دیگر اہم چہرے بھی موجود تھے۔