وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ساتھ ملاقات کے بعد ملک کی بڑی تجارتی تنظیموں نے ۲ ؍اکتوبر کو مجوزہ ’نو یو پی آئی ڈے‘ منانے کی اپیل واپس لے لی ہے۔ یہ فیصلہ قومی دارالحکومت میں ہونے والی اہم ملاقات کے بعد کیا گیا۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ساتھ ملاقات کے بعد ملک کی بڑی تجارتی تنظیموں نے ۲ ؍اکتوبر کو مجوزہ ’نو یو پی آئی ڈے‘ منانے کی اپیل واپس لے لی ہے۔ یہ فیصلہ قومی دارالحکومت میں ہونے والی اہم ملاقات کے بعد کیا گیا۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ساتھ ملاقات کے بعد ملک کی بڑی تجارتی تنظیموں نے ۲ ؍اکتوبر کو مجوزہ ’نو یو پی آئی ڈے‘ منانے کی اپیل واپس لے لی ہے۔ یہ فیصلہ بدھ کے روز قومی دارالحکومت میں ہونے والی اہم ملاقات کے بعد کیا گیا، جس میں تاجروں نے ۲ ہزار روپے سے زیادہ مالیت کے مرچنٹ یو پی آئی لین دین پر مجوزہ ۰ء۴ فیصد فیس کے حوالے سے اپنے خدشات حکومت کے سامنے رکھے۔
ملاقات میں ملک کی مختلف ریاستوں سے آئے تقریباً ۲۰؍ تجارتی نمائندوں نے شرکت کی۔ وفد کی قیادت چاندنی چوک سے رکن پارلیمنٹ اورکنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (سی اے آئی ٹی ) کے جنرل سکریٹری پروین کھنڈیلوال نے کی۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ مجوزہ فیس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباریوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے اور ملک میں ڈجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کی رفتار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:طلائی تمغے کے مقابلے میں جگہ بنانے کے لیے روایتی حریف ہندوستان اور پاکستان آمنے سامنے
تجارتی نمائندوں نے حکومت سے مجوزہ فیس کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ اس فیصلے پر عمل درآمد سے قبل کاروباری برادری کے خدشات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ اس سے قبل آل انڈیا کنزیومر پروڈکٹس فیڈریشن اور آل انڈیا موبائل ریٹیلرز ایسوسی ایشن(اے آئی ایم آر اے) نے مجوزہ چارج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ۲ ؍اکتوبر کو ’نو یو پی آئی ڈے‘ منانے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم وزیر خزانہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد دونوں تنظیموں نے اپنا احتجاجی پروگرام واپس لینے کا فیصلہ کیا۔
ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پروین کھنڈیلوال نے کہا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت مثبت اور تعمیری رہی۔ ان کے مطابق تاجروں کو یقین دلایا گیا ہے کہ ان کے خدشات اور تجاویز پر مناسب غور کیا جائے گا۔کھنڈیلوال نے بتایا کہ وفد میں آل انڈیا موبائل ریٹیلرز ایسوسی ایشن ، آل انڈیا کنزیومر پروڈکٹس ڈسٹری بیوٹرز فیڈریشن (اے آئی سی پی ڈی ایف ) اور آل انڈیا جیولرز اینڈ گولڈ اسمتھ فیڈریشن (اے آئی جے جی ایف ) سمیت کئی اہم تجارتی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔
تجارتی تنظیموں نے یو پی آئی سے متعلق مختلف مسائل اور کاروباری برادری کے خدشات وزیر خزانہ کے سامنے پیش کیے۔ کھنڈیلوال کے مطابق وزیر خزانہ نے تمام تجاویز اور خدشات کو سنجیدگی سے سنا اور یقین دلایا کہ ان پر غور کیا جائے گا۔ پروین کھنڈیلوال نے کہا کہ وزیر خزانہ کے ساتھ مثبت گفتگو کے بعد اے آئی سی پی ڈی ایف اورسی اے آئی ٹی نے ۲؍ اکتوبر کو مجوزہ ’نو یو پی آئی ڈے‘ مہم واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب ۲ اکتوبر کو کسی بھی طرح کا ’نو یو پی آئی ڈے‘ نہیں منایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:۹۴؍لاکھ روپے کا آئی فون؟پالمیٹ ۱۸؍کے کی قیمت ۹۴؍ لاکھ روپے
تجارتی تنظیموں نے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رکھتے ہوئے ملک کے ڈجیٹل ادائیگی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں تعاون کریں گی۔ ان کا مقصد ڈجیٹل ادائیگیوں کو زیادہ محفوظ، قابل اعتماد اور تمام متعلقہ فریقوں کے لیے فائدہ مند بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔کھنڈیلوال نے یہ بھی کہا کہ سائبر خطرات اور ڈجیٹل سیکوریٹی سے متعلق مسائل پر حکومت کے ساتھ مزید بات چیت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ تجارتی تنظیمیں اپنی اپنی ریاستوں اور کاروباری برادری میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے بھی کام کریں گی تاکہ ڈجیٹل ادائیگی کے نظام سے متعلق درست معلومات تاجروں تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی برادری حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے حوصلہ مند ہے اور آئندہ بھی اس معاملے پر مسلسل رابطہ برقرار رکھے گی۔ تاہم ’نو یو پی آئی ڈے‘ کا احتجاج واپس لینے کے باوجود تجارتی تنظیموں نے واضح کیا کہ ۲ ؍ہزار روپے سے زیادہ کے مرچنٹ یو پی آئی لین دین پر مجوزہ ۰ء۴ فیصد فیس کے حوالے سے ان کے خدشات برقرار ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ۲ ؍ہزار روپے سے زیادہ کے اہل مرچنٹ یو پی آئی لین دین پر ۰ء۴ فیصد فیس کا مجوزہ نظام ۱۵؍ اکتوبر سے نافذ ہونے والا ہے۔ تجارتی تنظیموں کو امید ہے کہ اس سے قبل حکومت ان کے خدشات کا کوئی حل تلاش کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے:کرن جوہر نے ’’کافی ود کرن‘‘ کے فائنل سیزن کا اعلان کردیا
دریں اثنا، اسی ماہ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی ) نے میڈیا کے بعض حصوں میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کی تھی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یو پی آئی مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) پر جی ایس ٹی عائد ہونے سے چھوٹے تاجروں پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا اور ڈجیٹل ادائیگیاں مہنگی ہوجائیں گی۔این پی سی آئی نے وضاحت کی تھی کہ ایم ڈی آرصرف ۲ ؍ہزار روپے سے زیادہ کےپی ٹو ایم ( (Person-to-Merchant) لین دین پر لاگو ہوگا۔ ۲؍ ہزار روپے تک کے تمام یو پی آئی لین دین پر ایم ڈی آر صفر رہے گا، اس لیے ان لین دین پر جی ایس ٹی کا بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲ ؍ہزار روپے تک کے لین دین یو پی آئی کے مرچنٹ لین دین کے حجم کا ۹۶؍ فیصد سے زیادہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یو پی آئی کے زیادہ تر ادائیگی لین دین نہ توایم ڈی آر کے دائرے میں آئیں گے اور نہ ہی ان پر جی ایس ٹی کا اثر پڑے گا۔ فی الحال حکومت اور تجارتی برادری کے درمیان اس معاملے پر بات چیت جاری ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ ۱۵ ؍ اکتوبر سے مجوزہ ۰ء۴ فیصد فیس اپنی موجودہ شکل میں نافذ ہوتی ہے یا تاجروں کے مطالبات اور خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے۔