Inquilab Logo Happiest Places to Work

جالنہ میں اندوہناک سڑک حادثہ ، ۷؍ مزدور خواتین ہلاک ، ۶؍ زخمی

Updated: April 02, 2026, 3:10 PM IST | Z A Khan | Jalna

سمردھی ہائی وے پر ایک تیز رفتار ٹرک نے مزدروں کی پک اپ کو ٹکر ماردی ، ساتوں خواتین موقع ہی پر فوت۔

The Samriddhi Highway Has Come To Be Called The Road Of Death.Photo:INN
سمردھی ہائی وے کو موت کی سڑک کہا جانے لگا ہے- تصویر:آئی این این
 جالنہ ضلع کے سمردھی ایکسپریس وے پر ایک تیز رفتار ٹرک نے مہندرا پِک اپ کو ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں انتہائی دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا جس میں ۷؍خواتین مزدور موقع پر ہی ہلاک ہوگئیں، جبکہ ۵؍ یا ۶؍ افراد شدید زخمی بتائے جا رہے ہیں۔
یہ حادثہ کڈونچی شیوار کے قریب پیش آیا، جہاں گھاس صاف کرنے کے کام کیلئے خواتین مزدور موجود تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مزدوروں کی پِک اپ وین جامواڑی شیوار میں کھڑی تھی کہ اسی دوران ناگپور سے ممبئی جانے والے ایک تیز رفتار ٹرک نے پیچھے سے زوردار ٹکر مار دی۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور موقع پر ہی ۷؍ خواتین کی جان چلی گئی۔مہلوکین کی شناخت الکابائی  آدمنے(۴۵)، لکشمی بائی مدن(۳۵)، مینا بائی  آدمنے(۴۵)، کنچن بائی  آدمنے(۵۰)، تارا بائی چودھری(۶۰) کدو بائی  مدن(۵۵) اور سمن بائی  آدمنے(۷۰) کے طور پر کی گئی ہے۔ جبکہ زخمیوں کے نام پریاگ بائی واگھ (۳۰) کویتا چودھری(۳۵)، دنیش گائیکواڑ (۴۲)  ہیں۔ جبکہ ایک شخص  کا نام معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ 
 
 
حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر پولیس فوری پہنچ گئی اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل پہنچایا گیا۔جاں بحق ہونے والی خواتین کا تعلق بدناپور تعلقہ کے کیلی گاؤں اور کھڈگاؤں علاقوں سے بتایا جا رہا ہے۔ حادثے کے بعد پورے علاقے میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔حادثے کے مناظر انتہائی دردناک تھے، جہاں سڑک پر کھانے کے ڈبے، چپلیں اور دیگر سامان کے ساتھ خون کے نشانات بکھرے ہوئے تھے۔قابلِ ذکر ہے کہ سمردھی ایکسپریس وے پر اس سے قبل بھی کئی بڑے حادثات پیش آ چکے ہیں، جن میں تین سال قبل بلڈانہ ضلع میں پیش آنے والے ایک حادثے میں ۲۵؍ افراد کی جانیں گئی تھیں۔
 
 
اعداد و شمار کے مطابق اس ایکسپریس وے کے آغاز کے ابتدائی چھ ماہ میں ہی ۹۵۰؍ سے زائد حادثات اور تقریباً ۷۰؍ اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔حکام نے ماضی میں روڈ سیفٹی کیلئے مختلف اقدامات جیسے ڈرائیور ٹریننگ، رفتار پر کنٹرول، معلوماتی سائن بورڈز اور پارکنگ سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دی تھیں، تاہم اس کے باوجود حادثات کا سلسلہ جاری ہے، جس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مقامی باشندوں میں سخت ناراضگی پائی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK