’’پروجیکٹوں کی منتقلی مہاراشٹر کے وقار پر حملہ ہے‘‘

Updated: September 17, 2022, 9:50 AM IST | murud

آدتیہ ٹھاکرے نے شندے حکومت پر حملہ جاری رکھا ، رتناگیری میںریلی سے خطاب ، کہا کہ وزیر اعلیٰ اور وزیر صنعت کو یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ پروجیکٹ کہا ں جارہے ہیں

Former state minister Aditya Thackeray`s Awami Reliance has become a source of trouble for the Shinde Group and the BJP.
سابق ریاستی وزیر آدتیہ ٹھاکرے کی عوامی ریلیاںشندے گروپ اور بی جے پی کیلئے پریشانی کا سبب بن گئی ہیں

مہاراشٹر میں شندے گروپ  بھلے ہی اقتدار میں آگیا ہو لیکن ریاست کی سیاست میں اتھل پتھل کا دور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ساتھ ہی الزام تراشیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ادھو ٹھاکرے کے فرزند اور سابق وزیر آدتیہ ٹھاکرے مخالفین پر جتنے موثر انداز میں تنقیدیں کررہے ہیں اس سے مخالفین تلملائے بغیر نہیں رہ پارہے ہیں۔ انہوں نے مہاراشٹرکو ممکنہ طور پر ملنے والے ۲؍ پروجیکٹوں کا معاملہ قومی ایشو بنادیا ہے اور اب بھی وہ اسے زور و شور سے اٹھارہے ہیں۔  ان دنوں آدتیہ ٹھاکرے ’شیو سنواد یاترا‘ پر ہیں  اور اس کے تحت رتناگیری ضلع کا دورہ کررہے ہیں۔ یہاں انہوں نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شندے حکومت پر شدید تنقیدیں کیں۔ انہوں نے اپنی تقریر کی شروعات ’’جیت کر ہارنے والے کو کھوکے کہتے ہیں‘‘ یہ جملہ کہہ کر کی اور پھر کہا کہ مہاراشٹر کو ملنے والے پروجیکٹوں کی گجرات منتقلی  مہاراشٹر کے وقار پر حملہ ہے۔ اسے مرکز نے اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے ہتھیالیا اور ریاست میں موجود ان کی پارٹی کے یونٹ نے اُف تک نہیں کی بلکہ ایکناتھ شندے جی جو پوری  ریاست میں گھوم گھوم کر عوام کے کام کرنے کے دعوے کررہے ہیں انہوں نے بھی لب کشائی نہیں کی ۔ آدتیہ ٹھاکرے کے مطابق اب صرف زبانی جمع خرچ کیا جارہا ہے  ، سچائی یہی ہے کہ ہم نے جو پروجیکٹ منظور کئے تھے وہ مرکزی حکومت نے مہاراشٹربی جے پی اور شندے گروپ کی مدد سے گجرات کو دے دئیے۔ 
  آدتیہ ٹھاکرے نے ریلی کے دوران یہ نعرہ بھی لگایا کہ شیو سینا کے ساتھ کتنی بھی غداری کرلو رتناگیری سے شیوسینا کا ہی امیدوار جیت کر آئے گا۔ انہوں نے شندے گروپ  سے وزیر    اُدے سامنت کو چیلنج دیا کہ رتناگیری میں ان کے گروپ کا صفایا ہونے والا ہے۔واضح رہے کہ آدتیہ ٹھاکرے ادے سامنت کے گڑھ سائولی اسٹاپ پر ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’ اس کھوکے حکومت کو اقتدار میں آکر ڈھائی مہینے سے زیادہ ہو گئے ہیںلیکن اس دوران انہوں نے عوامی ترقی کا ایک بھی پروجیکٹ  ریاست کو نہیں دیا بلکہ جو تھے وہ بھی منتقل ہو رہے ہیں۔جتنی بھی اسکیمیں لاگو کی جا رہی ہیں وہ مہا وکاس اگھاڑی کے دورمیں منظور کی جا چکی ہیں۔آدتیہ ٹھاکرے نے  یہ  وضاحت کی کہ ویدانتا۔فوکس کان پروجیکٹ سے۷۶؍ہزار کروڑ کی سبسیڈی ملنی والی تھی۔ اس پروجیکٹ کے  لئےایک لاکھ ۵۰؍ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کی جانی تھی اور تقریباً ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملنے والا تھالیکن سب کچھ الٹا ہو گیا۔ ہمارے بے روز گار نوجوانوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔جب مہا وکاس اگھاڑی اقتدار میں تھی تو ہم اس صنعت کو مہاراشٹر میں لانے کے لئے متعلقہ ذمہ داروں سے کئی بار ملے تھے۔ہم انل اگروال سے رابطے میں تھے۔ جون میں ایک میٹنگ بھی ہوئی تھی۔ اس پروجیکٹ کو پونے ضلع کے تلیگاؤں میں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن موجودہ حکومت کی نااہلی کے سبب ہی یہ گجرات منتقل ہو گیا۔ اب لاکھ کوئی دعوے کرے کہ وہ نیا پروجیکٹ دلوائیں گے اور لاکھ کوئی کہے کہ   نیا پروجیکٹ آئے گا ،تو ایسا بالکل نہیں ہوگا۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ادےسامنت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ مودی جی نیا اور بڑا پروجیکٹ دلوادیں گے۔
 آدتیہ ٹھاکرے نے اس ریلی کے دوران  ایکناتھ شندے اور باغی ایم ایل ایز پر انسانیت کو دھوکہ دینے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت  میرے والد ادھو  ٹھاکرے کا آپریشن تھا اس وقت ان’ کھوکے اوکے والوں‘ نے غداری کی۔      اس وقت ریاست میں کووڈ کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی تھی۔ اسی وقت انہوںنے یہ موقع غنیمت جانااور بغاوت پر اتر آئے لیکن مہاراشٹر کے عوام انہیں سبق سکھائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK