• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکالرشپ اور دیگر بنیادی تعلیمی سہولیات کیلئے قبائلی طلبہ کا ممبئی مارچ

Updated: October 06, 2026, 3:26 PM IST | Owais Siddiqui | Mumbai

اسکالرشپ اور دیگر بنیادی تعلیمی سہولیات کیلئے قبائلی طلبہ کا ممبئی مارچ ۔ پولیس پر مظاہرین کو رات ۳؍ بجےگرفتارکرنے کا الزام۔

Police officers taking action against tribal students at the Congress office. Photo: INN
پولیس افسران کانگریس کے دفتر میں قبائلی طلبہ پر کارروائی کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

گزشتہ کئی دنوں سے ریاست بھر کے قبائلی طلبہ اسکالرشپ ،  آشرم  اور ہاسٹلز میں بنیادی سہولیات کا فقدان اور ان  میں بہتری کیلئے احتجاج کر رہے ہیں ۔  اسی دوران ناسک میں بھی گزشتہ ۱۰؍ دن سے طلبہ کا احتجاج جاری تھاجس کے بعدتمام طلبہ مارچ کرکے ممبئی آئے اور پیر ۵؍ اکتوبر کو ان کا احتجاج آزاد میدان میں ہونا تھا لیکن اچانک پولیس نے اتوار کو احتجاج کی اجازت رد کر دی جبکہ کئی طلبہ ممبئی پہنچ چکے تھے اور کئی پہنچنے والے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے:انک بیسٹ ڈپو میں بھیانک آتشزدگی، ۱۲؍ سی این جی بسوں کو نقصان

اس ضمن میں انقلاب سے بات کرتے ہوئے کانگریس  کی طلبہ تنظیم ’نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی)‘ ممبئی کے صدر پرادیم یادو نے بتایا کہ ریاست بھر سے قبائلی طلبہ۴؍ اکتوبر کو ممبئی پہنچنا شروع ہوئےاورآزاد میدان میں ۵؍ ااکتوبر کو طلبہ کا دھرنا ہونا تھا لیکن پولیس نے اچانک اجازت رد کردی اور طلبہ کو ہراساں کرنا شروع کردیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جس وقت  پولیس نے اجازت دینے سے انکار کیا اس وقت تک سیکڑوں طلبہ ممبئی پہنچ چکے تھے اور   اتنی بڑی  تعداد  میں طلبہ کے پاس رہنے کھانے کا انتظام نہیں تھا اس لئے کانگریس پارٹی کی جانب سے دادر اور سی ایس ایم ٹی میں واقع پارٹی کے ہیڈکوارٹرس پر ٹھہرایا گیا اور ان کےکھانے وغیرہ کاانتظام کیاگیا ۔ پرادیم کا کہنا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب میں  ۳؍ بجے پولیس   اہلکار بڑی تعداد میں کانگریس دفاتر  پہنچے اور طلبہ کو ہراساں کرنے لگے، پولیس نے طلبہ کی تصویریں لیں اور ویڈیوز ریکارڈ کئے ۔ اس کے بعد تمام  طلبہ کو حراست میں لینے لگے۔  اس دوران پرادیم اور این ایس یو آئی ممبئی کے دیگر عہدیداران کو بھی پولیس نے حراست میں لیا ۔ پرادیم کے مطابق پولیس نے تقریباً ۵۰۰؍ طلبہ کو حراست میں لینے کے بعد انہیں  لے کر ناسک چلے گئے جبکہ این ایس یو آئی کے عہدیداروں کو   پولیس اسٹیشن میں حراست میں رکھا گیا اور پیر کو شام میں رہا کیاگیا ۔پرادیم نے یہ بھی بتایا کہ فی الحال تقریباً ۵۰۰؍   طلبہ اب بھی دادر میں واقع کانگریس کے دفتر تلک بھون میں قیام پذیر ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر کے تحت نام میں معمولی فرق پر نوٹس، رائے دہندگان میں شدید ناراضگی

سکل آدیواسی ودیارتھی آندولن کرتی سمیتی ، جو قبائلی طلبہ  کے حقوق کیلئے کام کرتی ہے، کے مہاراشٹر صدراور قبائلی طالب علم ساگر پوار کا کہنا ہےکہ طلبہ گزشتہ ۴۸؍ دن سے ناسک کے عیدگاہ میدان میں احتجاج کر رہے تھے  اور انہوں نے ۱۳؍ دن تک بھوک ہڑتال کی تھی۔ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد  وہ ۴۲؍ دن تک دھرنے پربھی بیٹھے رہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ  اس کے بعدتمام طلبہ ۲۸؍ ستمبر کو  ناسک سے ممبئی کیلئے روانہ ہوگئے۔ انہوں نے مطالبات سے متعلق کہا کہ، ریاستی حکومت قبائلی طلبہ کے ہاسٹلز کی سہولیا ت کو بہتر بنائے ، اسکولوں کو درست کرے، قبائلی طلبہ کو اسکالزشپ دے اور اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرے  نیز قبائلی طلبہ کے ساتھ   امتیازی سلوک نہ کرے ۔ 

اس پورے معاملے میںکانگریس کے لیڈروں ، طلبہ برادری اور سماجی کارکنوں نے تشویش کا اظہار کیا اور ممبئی پولیس کے اس رویے کی سخت مذمت کی ہے ۔  انسانی حقوق کی معروف سماجی کارکن تیسٹا سیتلواد نے پولیس کے رویے کو دوہرا معیار بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنو ں ممبئی میں سی جے پی کا احتجا ج ہوا اور اس احتجاج کی بھی اجازت پولیس کی طرف سے نہیں دی گئی تھی  باوجود اس کے احتجاج ہوا  کیونکہ وہ سب شہری طلبہ تھے اس لئے ؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس شہری طلبہ کیلئے الگ قانون اختیار کرتی ہے اور قبائلی طلبہ کیلئے الگ ، اسی لئے قبائلی طلبہ جو اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں، انہیں ہراساں کیا جارہا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK