Inquilab Logo Happiest Places to Work

آر ایس ایس کو راہل گاندھی نے ’’راشٹریہ سرینڈر سَنگھ‘‘قرار دیا

Updated: April 26, 2026, 1:10 AM IST | New Delhi

رام مادھو کے اس اعتراف کے بعد کہ ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے مودی سرکار نے روس اور ایران سے تیل خریدنا بند کیا، ۵۰؍ فیصد ٹیرف پر زبان نہیں کھولی اور تجارتی معاہدہ میں بھی ۱۸؍ فیصد ٹیرف کو قبول کیا، کانگریس لیڈر نے سنگھ پریور اور بی جےپی کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں، اس پر’’ ناگپور میں فرضی نیشنلزم اور امریکہ میں خالص غلامی ‘‘ کا الزام عائد کیا

Rahul Gandhi
راہل گاندھی

آر ایس ایس لیڈر  اور بی جے پی کے سابق جنرل سیکریٹری رام مادھو  کے اس اعتراف کے بعد کہ مودی سرکار نے امریکہ کے کہنے پر روس اور ایران سے تیل خریدنا بند کردیا،  ہندوستانی اشیاء پر۵۰؍ فیصد ٹیرف عائد کئے جانے  پرچوں نہیں کی اور تجارتی معاہدہ  میں بھی ۱۸؍ فیصد ٹیرف پر راضی ہوگئے ، راہل گاندھی سنیچر کو سنگھ پریوار’’راشٹریہ سرینڈر سَنگھ‘‘ قرار دیتے   اپنے اس دعویٰ کو دہرایا کہ وزیراعظم نریندر مودی امریکی ’’کٹھ پتلی‘‘ ہیں۔ 
 امور خارجہ امور کے ماہر سمجھے جانے والے مادھو نے  حالانکہ مذکورہ بیان کا ویڈیو سامنے آنے کے بعد جلد ہی اپنی غلطی تسلیم کر لی اور اپنے مذکورہ بیان  کے ویڈیو کو ٹیگ کرکے ’ایکس ‘ پر پوسٹ کیا کہ ’’میں نےجو کہا وہ غلط ہے، ہندوستان کبھی روس سے تیل نہ خریدنے کی شرط پر راضی نہیں ہوا اور اس نے  ۵۰؍ فیصد ٹیرف کے خلاف بھی شدت سے  آواز بلند کی تھی۔ ‘‘
 واضح رہے کہ  راہل گاندھی مسلسل یہ الزام عائد  کررہے ہیں کہ مودی حکومت میں  ہندوستان کی  خارجہ پالیسی پر امریکی دباؤ ہے اور وزیراعظم  مودی ٹرمپ کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔ رام مادھو کے مذکورہ بیان کو اپنے دعوؤں کی تصدیق کے طو رپر پیش کرتے ہوئے سنیچر کو راہل گاندھی نے  ’ایکس ‘ پوسٹ کیا ہے کہ ’’ راشٹریہ سرینڈر سنگھ، ناگپور میں جعلی قوم پرستی کا مظاہرہ کرتا ہے اور  امریکہ میں خالص غلامی کرتا ہے ۔ رام مادھو نے  سنگھ کی اصل فطرت کو بے نقاب کردیا ہے۔‘‘
 گزشتہ چند مہینوں میں راہل نے کئی بار وزیراعظم مودی پر الزام لگاچکے ہیں کہ وہ’’دباؤ میں آ گئے‘‘ہیں۔اس سے قبل انہوں نے مودی کو بھی ’’نریندر ، سرینڈر‘‘ کا لقب دیاتھا۔  امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ میں  واشنگٹن کی شرطیں  قبول کرنے اور ہندوستان کا بازار امریکی زرعی اشیاء کیلئے کھولنے  کیلئے راضی ہو جانے کو بھی راہل گاندھی مودی سرکار کی خود سپردگی  سے تعبیر کرچکے ہیں۔  رام مادھو کا ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مودی حکومت بری طرح  تنقیدوں کی زد پر آگئی ہے جبکہ کانگریس نے  ویڈیو شیئر کرتے ہوئے  کہا ہے کہ نریندر مودی ملک کی وزارت اعلیٰ پر فائز رہنے کا اخلاقی جواز کھوچکے ہیں۔ کانگریس نے ایکس  پوسٹ کیا ہے کہ  یہ مادھو کے ذریعہ مودی اور ان کی حکومت کے امریکہ کے سامنے ’’سرنڈر‘‘ کا  اعتراف ہے۔  پارٹی  کے مطابق ’’ یہ واضح ہے کہ مودی وہی کرتے ہیں جو  ڈونالڈ ٹرمپ چاہتے ہیں۔ نریندر مودی ٹرمپ کی کٹھ پتلی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ  ہندوستان کو’جہنم کا  گڑھا‘ کہہ   سکتے ہیں لیکن مودی ان کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔‘‘کانگریس کے مطابق ’’ یہ واضح ہے کہ مودی پوری طرح دباؤ میں ہیں اور اس کی قیمت ملک ادا کر رہا ہے۔‘‘ا س  معاملہ میں مودی حکومت نے مکمل خاموشی اختیار کرلی ہے۔ رام مادھو کا ویڈیو ۲۴؍اپریل کا ہے جو سنیچر کو تیزی سے شیئر کیا ہونے لگا مگر بی جے پی یا اس کے کسی لیڈر کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK