ترنمول اراکین پارلیمان کا وزارت داخلہ کے باہر دھرنا

Updated: November 23, 2021, 10:07 AM IST | new Delhi

تریپورہ تشدد کے خلاف کئی گھنٹے احتجاج کے بعدوزیر داخلہ امیت شاہ کو وقت دینا پڑا، تریپورہ کے وزیراعلیٰ سے رپورٹ طلب کرنے کی یقین دہانی کرائی

TMC MPs protest outside the Union Home Ministry. (PTI)
ٹی ایم سی کے اراکین پارلیمان مرکزی وزارت داخلہ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے۔ (پی ٹی آئی)

  تریپورہ تشدد اور پولیس مظالم کے خلاف ٹی ایم سی کارکنوں نے پیر کو  مرکزی وزارت داخلہ  کے باہر شدید احتجاج کیا اور جب وزیر داخلہ سے انہیں ملاقات کو وقت نہیں دیاگیا تو وہ وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اس احتجاج  کے آگے بالآخر وزیر داخلہ امیت شاہ کو گھٹنے ٹیکنے پڑے جنہوں   نے نہ صرف ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمان سے ملاقات کرکے ان کی شکایات سنیں  بلکہ یقین دہانی کرائی کہ وہ تریپورہ سرکار سے اس کی رپورٹ طلب کریں گے۔ 
وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف نعرہ بازی
 اس سے قبل ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمان  جب وزارت داخلہ کے باہر احتجاج کیلئے پہنچے تو وہ امیت شاہ اور وزیراعظم  کے خلاف نعرہ بازی کررہے تھے اور امیت شاہ سے ملاقات کا وقت مانگ رہے تھے۔ رکن پارلیمان سوگت رائے  نے بتایا کہ یہ احتجاج تریپورہ میں  بی جے پی کی حکمرانی میں مچی ہوئی ’’تباہی‘‘  اور پولیس کے ظلم کے خلاف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ احتجاج  تریپورہ  میں پارٹی کی یوتھ ونگ کی لیڈر سیانی گھوش کی گرفتاری کے بھی خلاف ہے۔  یاد رہے کہ بی جے پی کارکنوں کی شکایت پر سیانی گھوش کو تریپورہ پولیس  نے اقدام قتل کا ملزم بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق  اتنا ہی نہیں بلکہ اگرتلا میں پولیس اسٹیشن  کے اندر بی جےپی کے کارکنوں نے ٹی ایم سی  کے اراکین کو لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے پیٹا ہے۔ 
وزیرداخلہ کی یقین دہانی
  دفتر وزارت داخلہ کے باہر ہی ٹی  ایم سی کے اراکین پارلیمان کے دھرنے پر بیٹھ جانے اور امیت شاہ سے ملاقات کے بغیر نہ ہٹنے کی دھمکی کے بعد بالآخر وزیر داخلہ اُن سے ملاقات کیلئے راضی ہوگئے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے  مطابق ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رکن پارلیمان کلیان بنرجی نے  بتایا کہ ’’ہم نے انہیں تفصیل سے بتایا کہ لیڈروں کو کس طرح  گرفتار کیاگیا اور اراکین پارلیمان کو کس طرح پیٹا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ روز تریپورہ کے وزیراعلیٰ سے گفتگو کرچکے ہیں اور اب ریاست سے رپورٹ طلب کریں گے۔‘‘
صبح سے دھرنا دیتے رہے،دوپہر کو ملاقات کاو قت ملا
  ٹی ایم سی کے اراکین پارلیمان کا الزام ہے کہ تریپورہ میں پولیس کے مظالم کے خلاف  وہ وزارت داخلہ سے ملاقات کیلئے مسلسل وقت مانگ رہے ہیں مگر کوئی جواب نہ ملنے کی وجہ سے مجبوراً وزارت  کے باہر دھرنا دینا پڑا۔ پیر کو صبح سے ہی ٹی ایم سی کے اراکین  پارلیمان احتجاج کررہے تھے جس کے آگے سرتسلیم خم کرتے ہوئے وزیر داخلہ  نے دوپہر کو ان سے ملاقات پرآمادگی ظاہر کی۔ مظاہرہ میں رکن پارلیمنٹ ڈیرک او برائن، سُکھیندو   شیکھر رائے، شانتانو سین، کلیان بنرجی، مالا رائے  اور دیگر ۱۱؍ ایم پی شامل تھے۔ 
ممتا بنرجی بھی  وزیراعظم  اور وزیر داخلہ سے ملیں گی
  ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی بھی پیر کو اپنے ۴؍ روزہ دورہ  پر  دہلی پہنچ گئی ہیں جہاں وہ وزیر داخلہ کے ساتھ ہی ساتھ  وزیراعظم   سے بھی ملاقات کریں  گی۔  انہوں نےبتایا کہ ’’ میں وزیراعظم سے ملوں  گی اور ریاست  (بنگال ) کے مختلف امور کے علاوہ  میں(سرحدی ریاستوں میں)  بی ایس ایف کے اختیارات میں  اضافے اور تریپورہ تشدد پر بھی گفتگو  کروں گی۔  ممتا بنرجی نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ شمال مشرق کی اس ریاست میں پولیس  کے ذریعہ طاقت کے بے تحاشہ استعمال کا حقوق انسانی کمیشن نوٹس کیوں نہیں لے رہاہے۔ 
تریپورہ میں سپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی
  ممتا بنرجی نے تریپورہ کے وزیراعلیٰ پبلب دیو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’’تریپورہ کے وزیراعلیٰ اور ان کی حکومت سپریم کورٹ  کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ انہیں عام آدمی کو اس کا جواب دینا ہوگا۔  میں  عدالت سے اپیل کروں گی کہ وہ ان کی حکومت  کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔‘‘
تریپورہ تشدد عالمی سطح پر ملک کی بدنامی کا باعث
  واضح رہے کہ تریپورہ  میں حکومت کا طرز عمل پوری دنیا میں ہندوستان کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔ الزام ہے کہ بنگلہ دیش میں  اقلیتوں کے خلاف تشدد  کے جواب میں  تریپورہ  میں بھگوا شدت پسندوں کو مسلمانوں  کے خلاف کھل کھیلنے کا موقع دیاگیا ۔ حد تو یہ ہے کہ تشدد کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں، حقائق کا پتہ لگانے والے سپریم کورٹ کے وکیلوں اور سوشل میڈیا پر صدائے احتجاج بلند کرنے والے صارفین پر یو اے پی اے کے اطلاق  کے ذریعہ حکومت نے آواز دبانے کی کوشش کی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK