Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ فلوٹیلا معاملہ: ملائیشیا اسرائیل کو عالمی عدالت میں لے جانے کی تیاری میں

Updated: May 25, 2026, 9:06 PM IST | Kuala Lumpur

ملائیشیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ جانے والے عالمی صمود انسانی امدادی فلوٹیلا کے کارکنوں کے مبینہ اغوا اور تشدد کے معاملے پر اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ سیلنگور کے وزیر اعلیٰ امیرالدین شری نے کہا کہ جیسے ہی قانونی ٹیم شواہد اور دستاویزات مکمل کرے گی، مقدمہ دائر کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فورسیز نے بین الاقوامی پانیوں میں امدادی کارکنوں کو حراست میں لے کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی۔

Photo : X
تصویر: ایکس

ملائیشیا کی حکومت نے غزہ جانے والے عالمی صمود انسانی امدادی فلوٹیلا کے کارکنوں کے مبینہ اغوا اور تشدد کے معاملے پر اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملائیشیا اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ملائی میل کی رپورٹ کے مطابق، ملائیشیا کی ریاست سیلنگور کے وزیر اعلیٰ امیر شری نے کہا کہ قانونی ٹیم اس معاملے سے متعلق معلومات، بیانات اور معاون شواہد جمع کر رہی ہے، اور جیسے ہی یہ عمل مکمل ہوگا حکومت باضابطہ قانونی کارروائی شروع کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے : عرب اور اسلامی ممالک نے یروشلم میں صومالی لینڈ کے سفارتخانہ کھولنے کی مذمت کی

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب غزہ کے لیے روانہ ہونے والے عالمی صمود انسانی امدادی فلوٹیلا کے ۴۰۰؍ سے زائد بین الاقوامی کارکنوں کو گزشتہ ہفتے اسرائیلی فورسیز نے مبینہ طور پر بین الاقوامی پانیوں میں روک کر حراست میں لے لیا تھا۔ فلوٹیلا کا مقصد غزہ تک انسانی امداد پہنچانا اور اسرائیلی بحری ناکہ بندی کو چیلنج کرنا تھا۔ کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ’’گلوبل صمود فلوٹیلا ۰ء۲‘‘کے شرکاء کے استقبال کے دوران خطاب کرتے ہوئے امیرالدین شری نے کہا، ’’ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم نہیں رکیں گے۔ قانونی ٹیم بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق تمام دستاویزات جمع کر رہی ہے۔ ان کارکنوں کو ایک سے زیادہ مرتبہ اغوا کیا گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے : ایران کی ناکہ بندی کے دوران اب تک ۱۰۰؍ بحری جہازوں کا رخ موڑا گیا: سینٹ کام

انہوں نے مزید کہا کہ ملائیشیا اس معاملے کو عالمی عدالت میں لے جائے گا اور ساتھ ہی اسرائیل پر سفارتی دباؤ بھی جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق حکومت فلسطینی عوام کے حق میں اپنی مہم کو مزید وسعت دینے کے لیے ملک بھر میں بیداری مہم بھی چلائے گی۔ امیرالدین نے الزام لگایا کہ فلوٹیلا کے کارکنوں، خاص طور پر ملائیشیا کے شرکاء، کے ساتھ اسرائیلی فورسیز نے ناروا سلوک کیا۔ انہوں نے اس کارروائی کو ’’بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں امدادی کارکنوں کو روکنا ناقابل قبول ہے۔


انہوں نے کہا کہ اگرچہ ’’گلوبل صمود فلوٹیلا ۰ء۲‘‘ کا مشن مکمل ہو چکا ہے، لیکن فلسطینی عوام کے لیے ملائیشیا اور سیلنگور حکومت کی حمایت جاری رہے گی۔ ان کے مطابق مستقبل میں فلسطین کے مسئلے پر عالمی کانفرنسیں ملائیشیا میں منعقد کرنے کا بھی منصوبہ بنایا جا رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر حمایت کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی اعلان کیا کہ ’’صمود۰ء۳‘‘ مہم غزہ کی ناکہ بندی مکمل طور پر ختم ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد، سفارتی حمایت اور بین الاقوامی وکالت ہر ممکن سطح پر جاری رکھی جائے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام نے اب تک ان الزامات پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم اسرائیل ماضی میں ایسے فلوٹیلا مشنز کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے اور غزہ کی بحری ناکہ بندی کو سیکیورٹی اقدامات کا حصہ قرار دیتا آیا ہے۔ یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جاری انسانی بحران پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل سے امدادی رسائی کو آسان بنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK